Urdu News

ہندوستانی دریاؤں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے قومی مہم پر زرو

نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو

 

 

نئی دہلی،3 اکتوبر2021: آج نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے ملک کے دریاؤں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت پر ایک طاقتور قومی مہم کا مطالبہ کیا اور تجویز دی کہ ’ہم اپنے دریاؤں کو فوری احساس کے ساتھ بچائیں‘۔

اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ ہندوستان میں دریاؤں کا ان کی زندگی -دوبارہ پیدا کرنے والی طاقت کے لیے ہمیشہ احترام کیا جاتا ہے، جناب نائیڈو نے نشاندہی کی کہ بڑھتی ہوئی شہری کاری اور صنعتی کاری نے ملک کے مختلف حصوں میں دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر کو آلودہ کیا ہے۔انہوں نے واضح کیا’’ ماضی میں، ہمارے دیہات اور شہر کئی آبی ذخائر سے مالا مال  تھے۔ جدیدیت کی جستجو میں ، انسان، لالچ سے متاثر ہو کر ، قدرتی ماحولیاتی نظام کو تباہ کر چکا ہے اور کئی مقامات پر، آبی ذخائر عملی طور پر غائب ہو چکے ہیںیا ان پر ناجائز  قبضے ہو چکے ہیں۔‘‘

نائب صدر جمہوریہ، جو آج شمال مشرق کے دورے پر گواہاٹی پہنچے ہیں، نے اپنے سفر کا آغاز دریائے برہمپتر کے کنارے ہیریٹیج- کم- کلچرل سینٹر کا افتتاح کرکے کیا۔ انھوں نے اس مرکز میں میوزیم کا دورہ بھی کیا اور اس موقع پر کافی-ٹیبل کی کتاب ’ہمیشہ کے لیے گواہاٹی‘ کا بھی اجراء کیا۔

بعد میں ایک فیس بک پوسٹ میں جناب نائیڈو نے اپنے آسام اور دریائے برہمپتر کے دورے کے تجربے کو ناقابل فراموش قرار دیا۔ انھوں نے تحریر کیا کہ وہ برہمپتر کی قدرتی خوبصورتی سے مسحور تھے، جو دریائے کے کنارے ایک انتہائی خوبصورت اور شاندار باغ سے نظر آنے والے نظارے کا نتیجہ تھا۔میں طویل عرصے تک اس یادداشت کی قدر کروں گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ شاندار وسیع دریا جو لاکھوں عوام الناس کو زندگی گزارنے کے  وسائل فراہم کر رہا ہے، علاقے کی ثقافت اور تاریخ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔

دریاؤوں کی اہمیت اور ان کے احیاء کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے جناب نائیڈو نے ریاستی حکومتوں اور مرکز کو تجویز دی کہ وہ پانی کے تحفظ کی اہمیت کے اسباق کو  اسکول کے نصاب میں شامل کریں۔ انھوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ اسکولوں کو چھوٹی عمر سے ہی طلبا کے لیے فطرت  کے کیمپ لگانے  چاہئیں تاکہ بچے، خاص طور پر شہری علاقے میں رہنے والے ، فطرت کی رونقیں دیکھیں اور ان سے لطف اندوز ہوں۔

نائب صدر جمہوریہ نے اس پہاڑی کی وراثت کا ذکر کیا جہاں ثقافتی مرکز قائم ہے جو کہ لچیت بورفوکان کی آہوم سلطنت کے سب سے زیادہ طاقتور بورفوکان کے بیس کیمپ کے طور پر واقع ہے۔ دورے کے دوران جناب نائیڈو نے اس مرکز کے  کئی حصوں کا مشاہدہ کیا جن میں آرٹ گیلری، مرکزی ہال، جس کا موضوع ’لائف الانگ دی ریور‘ اور ’مجولی کارنر‘ ہے، جس میں مشہور ماسک پینل پینٹگیں اور دیر شاہکار شامل ہیں۔

جناب نائیڈو نے اس حقیقت کو سراہا کہ ورثا کیمپس صرف پیدل چلنے والوں کے لیے ہے اور گاڑیوں کی آمدورفت کو اس جگہ کا سکون برقرار رکھنے کی غرض سے  نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ تجویز دی کہ ملک بھر کے دیگر ورثہ مراکز کو بھی زائرین کو جستجو اور دریافت  کی کاوشیں کرنے کے لیے پیدل چلنے اور سائیکل چلانےکے راستے بناکر ایسے سبز اور صحتمند طریقے اپنانے چاہئیں۔

Recommended