Urdu News

پانڈورا دستاویزات‘ سے متعلق معاملات کی تحقیقات کی جائیں گی

پنڈورا پیپرز لیک کے معاملات کی تحقیقات کی نگرانی ملٹی ایجنسی گروپ کے ذریعے کی جائے گی

 

 

نئی دہلی،4 اکتوبر2021:   3 اکتوبر 2021 کو بین الاقوامی جرنلسٹوں کی بین الاقوامی کنسورشیم (آئی سی آئی جے)، بقول اسکے، ایک 2.94 ٹیرابائٹ اعدادوشمار کی دریافت کے ساتھ سامنے آیا ہے جو 200 سے زائد ممالک اور علاقوں کے امیر زادوں کے غیر ملکی رازوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ تفتیش، 14 آف شور سروس فراہم کرنے والوں کے خفیہ ریکارڈ کے لیک ہونے پر مبنی ہے جو کہ شیل کمپنیوں ، ٹرسٹوں ، فاؤنڈیشنز اور دیگر اداروں کو کم یا بغیر ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کرتے ہوئے، دولت مند افراد اور کارپوریشنوں کو پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔

حکومت نے ان پیش رفتوں کا نوٹس لیا ہے۔ متعلقہ تحقیقاتی ایجنسیاں ان معاملات کی تحقیقات کریں گی اور ایسے معاملات میں قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔ ان معاملات میں موثر تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت متعلقہ ٹیکس دہندگان/اداروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی دائرہ اختیار کے ساتھ بھی فعال طور پر مشغول رہے گی۔ حکومت ہنداس ایک بین سرکاری گروپ کا بھی حصہ ہے جو اس طرح کے لیکس سے وابستہ ٹیکس کے خطرات کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے اشتراک اور تجربے ساجھا کرنے کو یقینی بناتی ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی آئی جے ، ایچ ایس بی سی ، پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کی شکل میں اس طرح کے لیک ہونے کے بعد ، حکومت پہلے ہی کالا دھن (غیر ظاہر شدہ غیر ملکی آمدنی اور اثاثے) اور ٹیکس کا ایکٹ 2015 نافذ کر چکی ہے ، جس کا مقصد اس طرح کی آمدنی پر مناسب ٹیکس اور جرمانہ لگا کر کالے دھن ، یا غیر ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثوں اور آمدنی کو روکنا ہے۔ روپے کے غیر ظاہر کردہ کریڈٹ، پاناما اور پیراڈائز پیپرز کے معاملات میں کی گئی تحقیقات میں تقریبا، 20,352 کروڑ روپے(15ستمبر2021تک کی صورت حال) کا پتہ چلا ہے۔

میڈیا میں اب تک صرف چند ہندوستانیوں (قانونی طور پر اہل اداروں کے ساتھ ساتھ افراد) کے نام سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ  آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ (www.icij.org) نے ابھی تک تمام اداروں کے نام اور دیگر تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ میں تجویز کیا گیا  ہے کہ معلومات مرحلہ وار جاری کی جائے گی اور پانڈورا پیپرز کی تحقیقات سے وابستہ ساختی اعدادوشمار، اس کے آف شور لیکس ڈیٹا بیس پر، آنے والے وقت میں ہی جاری کیا جائے گا۔

مزید برآں حکومت نے آج ہدایت جاری کی ہے کہ میڈیا میں ظاہر ہونے والے ’پانڈورا پیپرز‘ کے نام سے پنڈورا پیپرز لیک کے معاملات کی تحقیقات کی نگرانی ملٹی ایجنسی گروپ کے ذریعے کی جائے گی ، جس کی سربراہ سی بی ڈی ٹی چیئرمین ہوں گے اور جس میں سی بی ڈی ٹی ، ای ڈی، آر بی آئی اور ایف آئییو کے نمائندے شامل ہوں گے۔

Recommended