Urdu News

سی بی آئی نے بحریہ کے تین افسران کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا

سی بی آئی نے بحریہ کے تین افسران کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا

گرفتار افراد میں ایک حاضر سروس اور دو ریٹائرڈ افسران شامل ، اعلیٰ سطحی تحقیقات کے احکامات

وائس ایڈمرل کی سربراہی میں پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی، کمیٹی میں ایک ریئر ایڈمرل بھی شامل 

کلو کلاس آبدوز کے بارے میں معلومات لیک کرنے کے سلسلے میں سی بی آئی نے ہندوستانی بحریہ کے تین افسران کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں ایک حاضر سروس اور دو ریٹائرڈ افسران شامل ہیں۔ پچھلے تین دنوں میں مسلح افواج میں جاسوسی کا یہ تیسرا کیس پکڑا گیا ہے۔ ہندوستانی بحریہ نے وائس ایڈمرل کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ایک ریئر ایڈمرل کو بھی رکھا گیا ہے تاکہ اس جاسوسی کیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جا سکے۔

سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے بحریہ میں کمانڈر کے عہدے کے ایک حاضر سروس افسر کو گرفتار کیا (فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے برابر)۔ وہ کلو کلاس آبدوز کی جدید کاری کے منصوبے میں ممبئی میں تعینات ہے۔ انہوں نے نیوی کے دو ریٹائرڈ افسران کو اس منصوبے کے بارے میں خفیہ معلومات دیں۔ اس لیے سی بی آئی نے غیر قانونی معلومات لیک ہونے کے سلسلے میں حاضر سروس کمانڈر کو بحریہ کے دونوں ریٹائرڈ اہلکاروں کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والی پیش رفت کے بعد، ہندوستانی بحریہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ انکوائری کمیٹی میں ایک وائس ایڈمرل اور ایک رئیر ایڈمرل کو رکھا گیا ہے جو مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کو روکنے کے طریقے بھی تلاش کرے گی۔

دفاعی ذرائع نے بتایا کہ سی بی آئی نے اس معاملے میں کئی دیگر حاضر سروس افسران سے بھی پوچھ گچھ کی ہے جو گرفتار افسران کے رابطے میں تھے۔ بھارتی بحریہ تحقیقات میں مرکزی ایجنسی کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ یہ معاملہ  بحریہ کے اعلیٰ افسران کے نوٹس میں آتے ہی وائس ایڈمرل کی سربراہی میں پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں ایک ریئر ایڈمرل کو بھی رکھا گیا ہے۔ انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ طریقے تلاش کرے اور مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کو روکنے کے لیے اقدامات تجویز کرے۔ ذرائع نے بتایا کہ بحریہ کی ٹیم نے سی بی آئی کے ساتھ متوازی جانچ شروع کردی ہے۔ نیوی کے کئی اہلکار بھی تفتیش کے دائرے میں آئے ہیں، اس لیے ان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس معاملے میں کچھ اور معلومات ملی ہیں، جس کی وجہ سے تینوں سروسز کے سابق فوجیوں کی   سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس لیے اس جاسوسی کیس میں مزید کئی گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔

Recommended