Urdu News

ای ایس آئی کارپوریشن کی اٹل بیمت ویکتی کلیان یوجنا کے تحت اب کلیموں کوایفیڈیوٹ فارم کے ذریعے بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے

ای ایس آئی کارپوریشن کی اٹل بیمت ویکتی کلیان یوجنا کے تحت اب کلیموں کوایفیڈیوٹ فارم کے ذریعے بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے

<div class="text-center">
<h2>ای ایس آئی کارپوریشن کی اٹل بیمت ویکتی کلیان یوجنا  کے تحت اب کلیموں کوایفیڈیوٹ فارم کے ذریعے بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے
<span id="ltrSubtitle">
کلیم کو اسکین کی ہوئی کاپیوں کے ساتھ آن لائن بھیجا جائے گا</span></h2>
</div>
<div class="ReleaseDateSubHeaddateTime text-center pt20"></div>
<div class="pt20"></div>
<p dir="RTL">           ای ایس آئی کارپوریشن نے 20 اگست 2020 کو اپنی میٹنگ میں ’اٹل بیمت ویکتی کلیان یوجنا‘ میں توسیع کرکے اُسے یکم جولائی 2020 سے 30 جون 2021 کردیا ہے۔  یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس اسکیم کے تحت دیئے جانے والے ریلیف کی شرح موجودہ اوسط یومیہ آمدنی کے 25 فیصد سے بڑھا کر اوسط یومیہ آمدنی کے 50 فیصد کے برابر کردیا جائے اور  کووڈ-19 وبائی بیماری کے دوران ان کارکنوں کو راحت دینے کے لیے جو بے روزگار ہوگئے ہیں، 24 مارچ 2020 سے 31 دسمبر 2020 کی مدت کے لیے  مجاز شرائط میں بھی نرمی کی جائے ۔</p>
<p dir="RTL">نرم شدہ شرائط کے تحت اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے رد عمل کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ محسوس کیا گیا کہ ایفیڈیوٹ فارم کی شکل میں کلیم داخل کرنے کی شرط سے کلیم داخل کرنے والوں کو دقت پیش آرہی ہے۔ فیض یافتگان کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ  کلیم داخل کرنے والے جن افراد نے اٹل بیمت ویکتی کلیان  یوجنا کے تحت آن لائن اپنے کلیم بھرے ہیں اور مطلوبہ دستاویزات کی اسکین کی ہوئی کاپیاں اپ لوڈ کی ہیں انھیں ذاتی طور پر کلیم داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ان دستاویزات میں آدھار اور بینک تفصیلات کی کاپیاں شامل ہیں۔ اگر دستاویزات آن لائن کلیم بھرنے کے وقت اپ لوڈ نہیں کی گئی ہیں تو کلیم کرنے والا اُس کا پرنٹ ا ٓؤٹ جو دستخط شدہ ہوگا ضروری دستاویزات کے ساتھ داخل کرے گا۔ ایفیڈیوٹ فارم میں کلیم داخل کرنے کی شرط اب ختم کردی گئی ہے۔</p>
<p dir="RTL"><strong>بھارت میں ای ایس آئی اسکیم</strong></p>
<p dir="RTL">ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن ایک سوشل سکیورٹی تنظیم ہے جو جامع سوشل سکیورٹی فوائد فراہم کر رہی ہے مثلاً مناسب طبی دیکھ بھال اور ضرورت کے وقت بہت سے نقد فائدے۔ ضرورت کےاس وقت میں کام کاج  کے دوران زخمی ہونا، بیماری اور موت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ اسکیم تقریباً 3.49 کروڑ کارکنوں کے  فیملی یونٹوں کا احاطہ کرتی ہے اور اپنے 13.56 کروڑ فیض یافتگان کو بے مثال نقد فائدے اور مناسب طبی دیکھ بھال فراہم کرتی ہے۔آج یہ بنیادی ڈھانچہ کئی گنا بڑھ چکا ہے جس کی 1520 ڈسپنسریاں (جس میں موبائل ڈسپنسریاں بھی شامل ہیں) 307 آئی ایس ایم یونٹس اور 159 ای ایس آئی اسپتال، 793 برانچ / پے آفسز اور 64 علاقائی نیز ذیلی علاقائی دفاتر شامل ہیں۔ ای ایس آئی اسکیم پر  آج ملک کی 37 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 566 اضلا میں عمل کیا جارہا ہے۔</p>.

Recommended