Urdu News

تمام شہریوں کو مفت ویکسین دینے پر ہوغور: سپریم کورٹ

تمام شہریوں کو مفت ویکسین دینے پر ہوغور: سپریم کورٹ

تمام شہریوں کو مفت ویکسین دینے پر ہوغور: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت قومی ٹیکہ کاری مہم پر غور کرے ۔ تمام شہریوں کو مفت ویکسین دینے پر غور ہو۔یہ ویکسین بنانے والی کمپنی پرنہیں چھوڑا جا سکتا ہے کہ وہ کس ریاست کو کتنی ویکسین دستیاب کروائے۔ یہ مرکز کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ معاملے کی اگلی سماعت 10مئی کو ہوگی۔ 

عدالت نے امیکس کیوری جیدیپ گپتا اور میناکشی اروڑہ سے کہا کہ وہ تمام ماہرین سے بات کریں اور اپنی تجاویز دیں۔ نوئیڈا اور گڑگاؤں اسپتالوں میں ایک وکیل نے مریض سے رہائش کا سرٹیفکیٹ مانگنے کی شکایت کی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم حکم دیں گے کہ کورونا مریضوں کو داخل کرنے سے پہلے آدھارکارڈ یا کوئی اور سند نہ مانگاجائے۔ سماعت کے دوران وکلا نے ایک ریاست کے مریض کو دوسری ریاست سے دوائیں نہ ملنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وکلا نے ضروری اشیا کو جی اے ٹی سے پاک کرنے کی مانگکی۔ سپریم کورٹ نے ان سب پر غور کرنے کا یقین دلایا۔

سماعت شروع ہوتے ہی عدالت نے کہا کہ ہم حکومت کی جانب سے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن دیکھیں گے۔ ہم نے کچھ امور کی نشاندہی کی ہے۔ ان کو رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا بندوبست کیا جاسکتا ہے کہ لوگ جان سکیں کہ آکسیجن کی فراہمی کتنی کی گئی ہے؟ ۔اس وقت کس اسپتال میں کتنی دستیابی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ ویکسین کی قیمت میں کیوں فرق ہے۔ ناخواندہ افراد جو کووین ایپ کو استعمال نہیں کرسکتے ہیں ، وہ ویکسی نیشن کے لئے کیسے رجسٹریشن کرواسکتے ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ مرکزی حکومت 100 فیصد ویکسین کیوں نہیں خرید رہی ہے۔ایک حصہ خرید کر باقی فروخت کرنے کے لئے ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو آزاد کردیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ویکسین تیار کرنے میں حکومت کا بھی پیسہ لگا ہے۔ لہٰذا ، یہ ایک عوامی وسائل ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر لوگ سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کررہے ہیں تو اسے غلط معلومات قرار دے کر کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ تمام ریاستوں اور ان کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو واضح طور پر یہ اشارہ جانا چاہئے کہ اس طرح کی کاروائی کوہم توہین عدالت کے طورپر دیکھیں گے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ مسلسل طور پر خدمت دے رہے ڈاکٹر اور نرسیں بہت خراب حالت میں ہیں۔ خواہ نجی اسپتال میں ہو یا سرکاری ، انہیں مناسب مالی پیکج ملنی چاہیے۔ آخری سال کے میڈیکل کے 25 ہزار طلبا اور 2 لاکھ نرسنگ طلبہ سے بھی مدد کے لئے غور کیا جانا چاہئے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف صحت کے ڈھانچے کے حوالے سے حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پچھلے 70 سالوں میں زیادہ کچھ نہیں ہوا ہے ، لیکن اس ایمرجنسی میں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔تب مرکز کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ حکومت اس سماعت کو مثبت طور پر ہی لے رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ ہم اپنی سماعت سے مثبت تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہم آکسیجن کے بغیر تڑپ رہے شہریوں کے بارے میں سننا چاہتے ہیں۔ تب تشار مہتا نے کہا کہ دہلی کو 400 میٹرک ٹن آکسیجن دی گئی تھی لیکن ان کے پاس اسے اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ایک کارخانہ مزید آکسیجن دینا چاہتا ہے لیکن اٹھانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکز کے چارٹ میں دہلی کو 490 میٹرک ٹن آکسیجن دکھایا گیا ہے۔ دہلی کی مانگ 700 میٹرک ٹن ہے۔ دہلی کوئی صنعتی ریاست نہیں ہے۔ اس کی پوزیشن مختلف ہے۔ آ پ اس بات پرزور نہ دیجئے کہ آکسیجن سپلائی کو اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آپ مدد کیجئے۔ دہلی پورے ملک کی نمائندگی کرتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر اب سے کچھ نہیں کیا گیا تو پیر تک پانچ سو اموات ہوجائیںگی۔ تب تشارمہتا نے کہا کہ دہلی کو سپلائی بڑھانے کے لیے کہیں اور کمی کرنا پڑے گی۔ دہلی میں کورونا کی وجہ سے ہورہی ہر موت آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نہیں ہو رہی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ مرکزی حکومت ہونے کے ناطے دہلی کے عوام کے تئیں جوابدہ ہیں۔ سماعت کے دوران سابق وزیر قانون اشونی کمار بھی پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باوجودکمبھ جیسی مذہبی تقاریب اور سیاسی جلسے ہوتے رہے۔ یوپی میں پنچایت انتخابات کی ڈیوٹی میں مصروف لوگ بیمار پڑگئے۔ اس پر کچھ کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام پہلوؤں کو امیکس کیوری دیکھیں گے۔ 

مرکزی حکومت کے محکمہ صنعتی فروغ کی ایڈیشنل سکریٹری سمیتاڈاورانے آکسیجن کی تیاری اور تقسیم کی تفصیلات رکھتے ہوئے کہاکہ وہ خود بھ ی کورونا سے متاثرہ ہیں۔ ججوں نے ان کی اس کوشش کی تعریف کی۔ ڈاورا نے بتایا کہ محکمہ کے سکریٹری کووڈ کے سبب آئی سی یو میں ہیں۔ ڈاورا نے بتایا کہ اس وقت 19871 میٹرک ٹن لیکوڈ میڈیکل آکسیجن دستیاب ہے۔ میں یقین دلانا چاہتی ہوں کہ 13 ہزار میٹرک ٹن اضافی آکسیجن کا بھی انتظام کیا جاسکتا ہے۔ ریاستوں کی بڑھتی ہوئی طلب پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

Recommended