مائیکرو سافٹ کے 30 ہزار سرورز پر سائبر حملہ، چین پر الزام

https://urdu.indianarrative.com/Microsoft.jpg

مائیکرو سافٹ

نئی دہلی، 20 جولائی (انڈیا نیرٹیو)

چین پر ایک اور سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ سائبر اٹیک کے بارے میں ہے۔ چین، برطانیہ اور یوروپی یونین کے مطابق، چین کی جانب سے تقریبا 30 ہزار مائیکرو سافٹ ایکسچینج سرور پر سائبر حملے ہوئے ہیں۔ برطانیہ نے اس کے لیے چین کی حمایت یافتہ جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا، جب کہ  یوروپی یونین نے چینی سرزمین سے براہ راست حملے کی بات کہی ہے۔

اس سائبر حملے میں، ہیکرز نے سسٹم میں ویب شیل کو نشانہ بنایا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ویب شیل بیک ڈور کے طور پر استعمال ہوں گے۔ سسٹم میں اس طرح کے شیل رکھنے کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ہیکنگ گروپس ان کا استحصال کرسکتے ہیں۔

یہ مشہور ہے کہ اس سے پہلے بھی چین پر ہیکنگ کا الزام لگایا گیا ہے۔ تاہم، چین نے ہمیشہ اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دنیا میں سائبر حملوں کے خلاف رہنما بننے کا احساس دلاتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں سابر حملوں کے خلاف امریکہ اور برطانیہ نے محاذ کھڑا کیا تھا، لیکن اس بار برطانیہ نے براہ راست چین کا نام لیا ہے۔ برطانیہ نے سائبر حملوں سے متاثر 70 سے زیادہ تنظیموں کو خصوصی حفاظتی اشارے دیئے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا، " چین کے حامی گروہوں کی جانب سے مائیکروسافٹ ایکسچینج سرورز پر حملہ ایک خوفناک اقدام ہے۔ اگرچہ یہ اس کا عادی ہے۔ "ڈومینک راب نے مشورہ دیا کہ سائبر سسٹم کوسبوتازکرنے کی کوشش کی چینی حکومت فوراًبندکرے۔ اس میں ناکامی کی صورت میں انہوں نے چین کو بھی اس صورتحال پر تیار رہنے کو کہا ہے۔

اس سے قبل برطانیہ کی وزارت خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ حملہ جاسوسی کے بڑے آپریشن کو تیز کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ذاتی معلومات اکٹھا کرنے اور دانشورانہ املاک کے حصول کے لئے بھی کوششیں کی جائیں گی۔

امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ چین کے اس اقدام پر فکرمند ہے۔ امریکہ کی نظر میں، چین نے انٹلیجنس انٹرپرائز تشکیل دیا ہے۔ کنٹریکٹ ہیکر بھی اس انٹرپرائز میں شامل ہیں۔ یہ ہیکر اپنے مفادات کے لئے دنیا بھر میں ایسی مہمات چلاتے ہیں، جن کی کہیں سے اجازت نہیں ہے۔

دوسری طرف، یورپی یونین نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین کی وزارت ریاستی سلامتی بھی اس معاملہ میں غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیارکرتی ہے۔