Urdu News

دانش صدیقی کی وفات قوم کے لیے عظیم خسارہ

مرحوم دانش صدیقی کے لیے تعزیتی نشست

شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اظہار تعزیت کے لیے فوٹو جرنلسٹ مرحوم دانش صدیقی کے گھر کو دورہ کیا

پروفیسر نجمہ اختر،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ریوٹر کے فوٹو جرنلسٹ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طالب علم دانش صدیقی کے اہل خانہ سے آج ملاقات کی جو افغانستان میں افغان مسلح افواج اور طالبان کے درمیان کی لڑائی کو کور کرتے ہوئے جان بحق ہوگئے تھے۔انھوں نے دانش کے والد جناب پروفیسر اختر صدیقی اور ان کے کنبے کے دیگر اراکین سے جامعہ نگر میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔شیخ الجامعہ کے ہمراہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مسجل اور یونیورسٹی کے دیگر سینئر افسران بھی تھے۔

شیخ الجامعہ نے پروفیسر صدیقی سے تعزیت کا اظہار کیا اور تقریبا چالیس منٹ تک ان سے دانش کے متعلق بات چیت کی۔شیخ الجامعہ نے دانش کو اپنے والد ہی کی طرح مرد مجاہد بتایا جنہیں وہ کافی عرصے سے جانتی ہیں۔پروفیسر اختر نے کہا کہ دانش نے دنیا کے سامنے سچائی لانے کے جذبے سے کام کیا تھا او ر اس نے ناانصافی اور غلط باتوں کے خلاف ہمیشہ اپنی آواز بلند کی۔انھوں نے کہا کہ ”دانش کی موت صرف اس کے خاندان اور جامعہ برادری کا خسارہ نہیں ہے بلکہ اس کی موت پورے ملک کا نقصان ہے“۔

شیخ الجامعہ نے پروفیسر صدیقی سے کہا کہ یونیورسٹی کی طرف سے کیمپس میں آنے والے منگل کے دن ایک تعزیتی نشست منعقد کی جائے گی۔ انھوں نے دانش کے والد سے کہا کہ دانش کو خراج دیتے ہوئے ان کی غیر معمولی خدمات کی ایک نمائش بھی یونیورسٹی کیمپس میں مناسب وقت پر لگائی جائے گی تاکہ طلبا اس سے تحریک حاصل کریں۔

دانش صدیقی کی وفات پر ملی کونسل اور آئی او ایس کا اظہار تعزیت

افغانستان میں کوریج کے دوران مشہور فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی وفات پر آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری اور آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے اپنے ایک عظیم صحافی کو کھودیاہے جن کی ابھی ملک اور دنیا کو شدید ضرورت تھی۔ وہ اپنے فن میں ممتاز تھے اور ہمیشہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر کیمرے کی آنکھ سے پور ی دنیا کے سامنے سچائی کو اجاگر کرتے تھے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ دانش صدیقی نے روہنگیا مہاجرین، دہلی فساد، لوک ڈاؤن،موصل جنگ سمیت متعدد اہم اور خطرناک مواقع پر فوٹوز لیکر حقیقت سے دنیا کو آگاہ کیا اور دنیا کو وہ سچائی دکھانے کا کام کیا جسے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہ نڈر، بیباک، بے خوف، حوصلہ مندر اور جرات وہمت کے پیکر صحافی تھے۔ اپنے فن میں کمال اور خطرناک مقامات پر جرنلزم کرنے کی وجہ سے انہیں پولٹزر ایوارڈ سے بھی 2018 میں سرفراز کیاگیاتھا اور انٹرنینشل نیوز ایجنسی رائٹر کے ساتھ 2010 سے وابستہ تھے۔

افغانستان میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری لڑائی میں دانش صدیقی کی ہوئی شہادت سے بیحد صدمہ پہونچا ہے اور یہ ایک طرح سے ذاتی خسارہ ہے۔ دانش صدیقی کے مرحوم پروفیسر اختر صدیقی سے میرے ذاتی اور گہرے تعلقات ہیں۔ آئی او ایس کو ہمیشہ ان کی علمی اور تحقیقی خدمات حاصل رہی ہے۔ رنج وغم کی اس گھڑ ی میں آل انڈیا ملی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے تمام اراکین، واسٹاف غمزدہ ہیں اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔اللہ تعالی مرحوم دانش کی مغفرت فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

Recommended