Urdu News

بھارت کی جانب سے چین کی سرحد پر بھی روسی میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-400 کی تعیناتی

بھارت کی جانب سے چین کی سرحد پر بھی روسی میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-400 کی تعیناتی

زمین سے فضا میں مار کرنے والا یہ میزائل سسٹم بھارت کی دفاعی کی صلاحیت کو بڑھا ئے گا

فضائیہ دشمن کے لڑاکا طیاروں، میزائلوں اور ڈرون کو تباہ کر سکے گی

روسی میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-400 کی نئی کھیپ اگلے دو سے تین ماہ میں چین کے ساتھ شمالی سرحد پر تعینات کر دی جائیگی۔ زمین سے فضا میں مار کرنے والا یہ میزائل سسٹم  بھارت کی دفاعی صلاحیت کو بڑھا دے گا۔ بھارتی فضائیہ طویل فاصلے تک دشمن کے لڑاکا طیاروں، میزائلوں اور ڈرون کا پتہ لگا کر انہیں تباہ کر سکے گی۔ روس سے دسمبر میں ملنے والا پہلا میزائل ڈیفنس سسٹم پنجاب سیکٹر میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

بھارت کو ایس-400 کی پہلی کھیپ دسمبر 2021 میں روسی صدر ولادیمیر پوتین کے دورے کے دوران ملی تھی، جسے پنجاب سیکٹر میں تعینات کیا گیا ہے۔ یہاں سے یہ فضائی دفاعی نظام پاکستان اور چین دونوں کے خطرات سے نمٹ سکتا ہے۔ ادھر فروری میں یوکرین کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد ایس-400 کی سپلائی خطرے میں پڑ گئی تھی تاہم روسی وزارت دفاع نے یقین دلایا کہ بھارت اور روس کے تعلقات بہتر ہیں۔ اس کے بعد روس نے یوکرین کے ساتھ جنگ کے درمیان اپریل میں بھارت کو دوسری کھیپ سپلائی کی ہے۔ اسے اگلے دو سے تین ماہ میں چین کے ساتھ شمالی سرحد پر تعینات کیا جائے گا۔

زمین سے فضا میں مار کرنے والا یہ میزائل سسٹم بھارت کی صلاحیت کو بڑھا دے گا۔ بھارتی فضائیہ طویل فاصلے تک دشمن کے لڑاکا طیاروں، میزائلوں اور ڈرون کا پتہ لگا کر انہیں تباہ کر سکے گی۔  بھارت کو تیسری ایس-400 کی ترسیل ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے جب چین نے مشرقی لداخ میں اپنی فضائی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ چینی لڑاکا طیارے اکثر لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ تقریباً 10 کلومیٹر کے نو فلائی زون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرواز کرتے ہیں۔

Recommended