Urdu News

ایئر لائنز کی طرف سے مسافروں کے لیے ڈسکاؤنٹ آفر،جانئے کیسے حاصل کرسکتے ہیں سستا ٹکٹ؟

ایئر لائنز کی طرف سے مسافروں کے لیے ڈسکاؤنٹ آفر

مہنگے ہوائی کرایوں سے پریشان مسافروں کے لیے خوشخبری ہے۔ حکومت کی طرف سے چھوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی ایئر لائنز نے گھریلو پروازوں کے کئی روٹس پر ہوائی کرایوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

جن ایئر لائنز نے کرایوں میں کمی کی ہے ان میں ایئر ایشیا، وستارا اکاسا ایئر، گو فرسٹ اور انڈیگو شامل ہیں۔جیٹ فیول (اے ٹی ایف) اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے بعد کئی ایئر لائنز نے گزشتہ چند مہینوں میں ہوائی کرایوں میں اضافہ کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل مرکزی حکومت نے گھریلو پروازوں کے لیے ہوائی کرایوں پر عائد قیمت کی حد کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ان ایئر لائنز کو مقابلے میں رہنے کے لیے اپنے ہوائی کرایوں میں کمی کا موقع ملا ہے۔

ایئرلائنس انڈیگو اورایئر ایشیا نے لکھنؤ اور دہلی کے درمیان ہوائی سفر کے کرایوں میں زبردست کمی کی ہے۔ اب تک اس روٹ پر ہوائی کرایہ 3,500 سے 4,000 روپے کے درمیان ہوتا تھا، لیکن انڈیگو اورایئر ایشیا نے اب اس روٹ پر 1,900 سے 2,200 روپے کے درمیان ہوائی کرایہ کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح پہلے جے پور-ممبئی روٹ پر ہوائی جہاز کا کرایہ 5,000 سے 5,500 روپے تھا، لیکن اب اس روٹ پر صرف 3,900 روپے خرچ کر کے ہوائی سفر کیا جا سکتا ہے۔

آکاسا ایئر، جس نے چند روز قبل اپنا فلائنگ آپریشن شروع کیا تھا، نے بھی کئی روٹس پر ہوائی کرایوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس ایئر لائن کی پرواز میں ممبئی سے بنگلور تک سفر کرنے کے لیے 2,000 سے 2,200 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ اسی طرح،آکاسا ایئر احمد آباد سے ممبئی روٹ پر سفر کے لیے 1,400 روپے ہوائی کرایہ وصول کرے گی۔

ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے پرائس کیپ میں کمی کے بعد کئی ایئرلائنز ہوابازی کے شعبے میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے ہوائی کرایوں میں کمی کا طریقہ اپنا رہی ہیں۔ اگرچہ اس طرح مسافروں کو فائدہ ہو گا لیکن ایئر لائنز کے درمیان سخت مقابلے کی وجہ سے کمپنیوں کے منافع پر برا اثر پڑے گا۔

ماہرین کا یہاں تک کہنا ہے کہ اگر یہ مقابلہ مزید شدید ہوا تو کمزور کمپنیاں بھی اس دوڑ سے باہر ہو سکتی ہیں۔ہوا بازی کے ماہر وویک چاندلا کے مطابق جولائی تا ستمبر سہ ماہی کے دوران ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ برسات کا موسم ہے۔ عام طور پر بارش کے موسم میں سیاح کم باہر جانا پسند کرتے ہیں۔

اس لیے اس سہ ماہی کے دوران زیادہ تر مسافر وہ ہیں جو کسی ضروری یا سرکاری کام کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر جا رہے ہیں۔ تاہم، ستمبر کے بعد جب تہواروں کا موسم شروع ہوتا ہے، ہوائی مسافروں کی تعداد میں پھر سے اضافہ ہوتا ہے۔

چاندلا کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ بہت سی ایئر لائنز جولائی سے ستمبر تک ہوائی کرایوں میں بھاری رعایتیں دیتی تھیں۔ کورونا کی مدت کے دوران ہوائی کرایوں پر قیمت کی حد کے نفاذ کی وجہ سے، کئی ایئر لائنز گزشتہ 2 سالوں سے ایسا نہیں کر پائیں تھیں۔

جب مرکزی حکومت نے مئی 2020 میں کورونا وبا کی وجہ سے رک جانے والی ہوائی سروس کو دوبارہ منظوری دی تو اس نے ہوائی کرایوں کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ حدیں بھی طے کر دی تھیں۔

Recommended