Urdu News

وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے عالمی بینک – آئی ایم ایف کی ترقیاتی کمیٹی کی 103ویں میٹنگ میں شرکت کی

وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن

 

 
 

نئی دہلی ،10مارچ ، 2021،     خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج یہاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے  ترقیاتی کمیٹی پلینری (مکمل) کی 103ویں میٹنگ میں شرکت کی۔ ایجنڈے میں جو چیزیں شامل تھیں ان میں کامن فریم ورک اینڈ بیونڈ کے تحت  قرضے میں راحت دینے کے لیے  عالمی بینک کے گروپ (ڈبلیو بی جی) اور بین الاقوامی مالیابی فنڈ کی امداد ، وبائی بیماری کووڈ-19،  ترقی پذیر ملکوں کی  ٹیکوں تک  منصفانہ اور قابل استطاعت رسائی کے لیے عالمی بینک کے گروپ کی حمایت  اور  لچک دار بحالی کے تئیں کووڈ-19 کے بحران  کا رد عمل یعنی  ماحول دوست، لچکدار اور شمولیت والی ترقی (جی آر ا ٓئی ڈی) کی حمایت کرتے ہوئے  زندگیوں اور روزی روٹی کا بچانا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001JSA9.jpg

اس اجلاس میں اپنے اظہار خیال میں وزیر خزانہ نے کہا کہ  ہم سب وبائی بیماری کووڈ-19 سے  اپنی معیشتوں  اور اپنے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے کام میں مصروف ہیں۔ بھارت سرکار نے پچھلے ایک سال میں وبائی بیماری کو پھیلنے سے روکنے  اور  اس کے سماجی  اور اقتصادی اثرات کو کم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ یہ کام اقتصادیات کو آگے بڑھانے کے پیکیجوں کے ذریعے کیا گیا ہے۔

محترمہ سیتا رمن نے بتایا کہ حکومت نے  جی ڈی پی کے 13 فیصد سے زیادہ 27.1 ٹریلین روپئے کے آتم نربھر پیکیجوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پیکیجوں کا مقصد نہ صرف غریبوں اور پسماندہ لوگوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ  اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھانا بھی ہے۔

وزیر خزانہ نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو بی جی نے  وبائی بیماری کووڈ-19 کے پیش نظر اپنی مالی امداد میں اضافہ کیا ہے  اور پہلی مرتبہ مالی امداد 100 بلین امریکی ڈالر سے آگے نکل گئی ہے۔ محترمہ سیتا رمن نے  اس سرگرم رول کی تعریف کی جو ڈبلیو بی جی نے  ٹیکوں تک ترقی پذیر ملکوں کی رسائی میں مدد دینے کے لیے ادا کیا ہے۔ یہ رسائی ڈبلیو ایچ او اور جی اے وی آئی جیسی دوسری ہمہ قومی ایجنسیوں کے تعاون سے بر وقت اور آسان طریقے پر  فراہم کی گئی ہیں۔

وزیر خزانہ نے عالمی بینک پر زور دیا کہ  کمزور ملکوں اور ڈبلیو بی جی کے مالی استحکام کو دیکھتے ہوئے  بحران  پر قابو پانے سے امکانات تلاش کئے جائیں۔

  خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج یہاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے  ترقیاتی کمیٹی پلینری (مکمل) کی 103ویں میٹنگ میں شرکت کی۔ ایجنڈے میں جو چیزیں شامل تھیں ان میں کامن فریم ورک اینڈ بیونڈ کے تحت  قرضے میں راحت دینے کے لیے  عالمی بینک کے گروپ (ڈبلیو بی جی) اور بین الاقوامی مالیابی فنڈ کی امداد ، وبائی بیماری کووڈ-19،  ترقی پذیر ملکوں کی  ٹیکوں تک  منصفانہ اور قابل استطاعت رسائی کے لیے عالمی بینک کے گروپ کی حمایت  اور  لچک دار بحالی کے تئیں کووڈ-19 کے بحران  کا رد عمل یعنی  ماحول دوست، لچکدار اور شمولیت والی ترقی (جی آر ا ٓئی ڈی) کی حمایت کرتے ہوئے  زندگیوں اور روزی روٹی کا بچانا۔

 

اس اجلاس میں اپنے اظہار خیال میں وزیر خزانہ نے کہا کہ  ہم سب وبائی بیماری کووڈ-19 سے  اپنی معیشتوں  اور اپنے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے کام میں مصروف ہیں۔ بھارت سرکار نے پچھلے ایک سال میں وبائی بیماری کو پھیلنے سے روکنے  اور  اس کے سماجی  اور اقتصادی اثرات کو کم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ یہ کام اقتصادیات کو آگے بڑھانے کے پیکیجوں کے ذریعے کیا گیا ہے۔

محترمہ سیتا رمن نے بتایا کہ حکومت نے  جی ڈی پی کے 13 فیصد سے زیادہ 27.1 ٹریلین روپئے کے آتم نربھر پیکیجوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پیکیجوں کا مقصد نہ صرف غریبوں اور پسماندہ لوگوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ  اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھانا بھی ہے۔

وزیر خزانہ نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو بی جی نے  وبائی بیماری کووڈ-19 کے پیش نظر اپنی مالی امداد میں اضافہ کیا ہے  اور پہلی مرتبہ مالی امداد 100 بلین امریکی ڈالر سے آگے نکل گئی ہے۔ محترمہ سیتا رمن نے  اس سرگرم رول کی تعریف کی جو ڈبلیو بی جی نے  ٹیکوں تک ترقی پذیر ملکوں کی رسائی میں مدد دینے کے لیے ادا کیا ہے۔ یہ رسائی ڈبلیو ایچ او اور جی اے وی آئی جیسی دوسری ہمہ قومی ایجنسیوں کے تعاون سے بر وقت اور آسان طریقے پر  فراہم کی گئی ہیں۔

وزیر خزانہ نے عالمی بینک پر زور دیا کہ  کمزور ملکوں اور ڈبلیو بی جی کے مالی استحکام کو دیکھتے ہوئے  بحران  پر قابو پانے سے امکانات تلاش کئے جائیں۔

Recommended