کسانوں کے مسائل اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز پر توجہ دینے کی ضرورت: نائب صدر جمہوریہ ہند وینکیا نائیڈو

https://urdu.indianarrative.com/Venkaiah-Naidu.webp

نائب صدر جمہوریہ ہند وینکیا نائیڈو

نائب صدر جمہوریہ  ہند وینکیا نائیڈونے ہر سی ایس آئی آر تجربہ گاہ سے نئے تحقیقی پروجیکٹوں پر روڈ میپ تیار کرنے پر زور دیا

نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیا نائیڈو نے آج سائنسی اور صنعتی تحقیقاتی کونسل (سی ایس آئی آر)کو اعلیٰ نوعیت کی سائنس کو اپناتے ہوئے خود کو از سر نو تلاش کرنے اور مستقبل اثاث بننے کا مشورہ دیا۔اتوار کو یہاں سی ایس آئی آر کے 80ویں یوم تاسیس کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے اْنہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر تجربہ گاہیں اور ادارہ اْن چیلنجوں کو حل نکالیں، جن کے لئے طویل مدتی سائنسی اور تکنیکی حل کی ضرورت ہوتی ہے۔خاص طورسے اْنہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سی ایس آئی آر زرعی تحقیق پر زیادہ توجہ دیں اور کسانوں کے سامنے آنے والی پریشانوں کے اِزالے کے لئے نئی اختراعات، تکنیک اور حل کے ساتھ سامنے آئے۔ اْنہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، قوت مدافعت کی دوا، آلودگی وباء اور وباء کی صورت میں ہونے والی تباہیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ایسے چیلنجز ہیں، جن پر سائنسداں برادری کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ کووڈ-19وباء ایک  غیر یقینی بحران ہے اور یہ کہ دوسرے بہت سے چیلنجز سامنے ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر جیسے اداروں کو کسی بھی اچانک اور غیر یقینی مسئلے سے نمٹنے کے لئے کمر کسنے کی ضرورت ہے۔جناب نائیڈو نے زور دے کر کہا کہ سی ایس آئی آر کی ہر تجربہ گاہ کو نئے تحقیقی پروجیکٹوں پر ایک واضح روڈ میپ کے ساتھ آگے آنا چاہیے، جو مختلف چیلنجز کو حل کرنے اور انسانیت کی وسیع بہتری میں تعاون کرنے میں مددگار ثابت ہو۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت نے خلاء، ایٹمی توانائی، بحری سائنس  یا دفاعی تحقیقات میں سائنس کی دنیا میں ایک اہم تعاون دیا ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ اب جب کہ ملک آزادی کے 75سال کا جشن منا رہا ہے، یہ دیکھنے کا ایک مناسب موقع ہے کہ جو ترقیاتی کام چل رہے ہیں، اْن میں کس طرح تیزی لائی جاسکتی ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ سائنس کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اْسے آرام دہ بنانا ہونا چاہئے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ کچھ پیمانوں اور زراع کی بنیاد پر تحقیقی طباعت کے معاملے میں بھارت دنیا میں تیسرے مقام پر ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے عالمی سائنسی تحقیقات میں بھارت کی حیثیت کو مسلسل آگے بڑھانے کے لئے سائنسدانوں اور تحقیق کاروں کی ستائش کی۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بھارت نے تحقیق اور ترقی میں صنعتوں کے ذریعے سرمایہ کاری غیر اہم ہے۔ جناب نائیڈو نے کارپوریٹ اور صنعتوں سے اہم سائنسی اداروں کے ساتھ گہرے روابط قائم کرنے، اہم تحقیقاتی و ترقیاتی پروجیکٹوں کی شناخت کرنے اور اْن میں سرمایہ کاری کرنے کی گزارش کی۔ اْنہوں نے کہا کہ اس سے نہ صر ف فنڈنگ کو بڑھاوا ملے گا، بلکہ معیار اور اختراعات دونوں میں بہتری آئے گی۔اس بات کا اشارہ کرتے ہوئے کہ کووڈ-19نے سائنسی اور تکنیکی ترقی کے باوجود دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ اْنہوں نے کہا کہ وائرس دنیا میں خطرناک جرثومے کے ساتھ پھیل گیا اور اب یہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کررہا ہے اور ہزاروں لوگوں کی جان لے رہا ہے۔

وباء کے خلاف لڑائی میں صبر اور مضبوط عہد کے ساتھ ملک کی لڑائی کی قیادت کرنے کیلئے سائنسداں اور طبی برادری کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی  ایس آئی آر کے سائنسدانوں اور تحقیق کاروں نے علاج، ٹیکہ، دوا، عبوری اسپتال اور طبی معاونت کے ا?لات تیار کرنے کے لئے زبردست کوششیں کیں۔اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ بھارت دنیا میں سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم کو لاگو کر رہا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ٹیکے کی 85کروڑ خوراک دی ہے یہ ایک   قابل ذکر حصولیابی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بڑی حد تک بھارت کی سودیسی ویکسین، کو ویکسین اور بھارت میں تیار کووی شیلڈ جیسے دیگر ٹیکوں سے ممکن ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس موقع پر آگے آنے اور ملک میں ٹیکوں کی بھاری مانگ کو پورا کرنے کیلئے تیاری میں تیزی لانے کے لئے ویکسین تیار کرنے والوں کی ستائش کرنی چاہئے۔نوجوان سائنسدا ں ایوارڈ عطا کرنے والے نائب صدر جمہوریہ نے اسکولی بچوں کے لئے سی ایس آئی آر اینوویشن ایوارڈ سمیت مختلف ایوارڈ کے فاتحین کی ستائش کی۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سی ایس آئی آر اور تمام سائنس سے متعلق محکمے غورو خوض کریں اور آئندہ کے 10سالوں میں ضروری سائنس و ٹیکنالوجی اختراعات کا ایک بلیو پرنٹ لے کر سامنے آئیں۔

 اگر ہمیں  عالمی سطح پر اس مقابلے میں شامل ہونا ہے۔ وزیر محترم نے کہا کہ ہمیں اپنی توقعات کو بھارت میں اعلیٰ ترین ہونے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ دنیا میں اعلیٰ ترین ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے  وضاحت کی کہ بھارت نوجوانوں کی آبادی کے اثاثے سے مالا مال ہے اور یہ صحیح تربیت اور تحریک کے ساتھ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ اسکولی بچوں کے لئے سی ایس آئی آر اینوویشن ایوارڈ کے فاتحین کے درمیان اختراعات کی طاقت کو دیکھ کر وہ در حقیقت وہ بہت خوش ہیں۔اس موقع پر بھارت سرکار کے پرنسپل سائنسی مشیر وجے راگھون، سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل شیکھر سی مانڈے اور سی ایس آئی آر-ایچ آر ڈی جی  کے سربراہ جناب انجان رے، سینئر سائنسداں تحقیق کار اور ایوارڈ یافتگان موجود تھے۔