ہیلی کاپٹر حادثہ میں سی ڈی ایس جنرل بپن راوت اور اہلیہ مدھولیکا سمیت13افراد کی موت

https://urdu.indianarrative.com/General-Rawat-And-Madhulka.webp

ہیلی کاپٹر حادثہ میں سی ڈی ایس جنرل بپن راوت اور اہلیہ مدھولیکا سمیت13افراد کی موت

 ایئر فورس نے13 لوگوں کی موت کی تصدیق کی،صدرجمہوریہ وزیر اعظم، وزیرداخلہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا

تمل ناڈو کے کنور میں بدھ کو فضائیہ کے ہیلی کاپٹر حادثے میں ملک کے فوجی دستوں کے پہلے سربراہ سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کی موت ہوگئی ہے۔ سی ڈی ایس ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت سمیت 13لوگوں کی موت ہونے کی تصدیق فضائیہ نے کردی ہے۔ اس حادثے میں گروپ کپٹن ورون سنگھ ہی بچے ہیں، جن کا فوجی اسپتال ولینگٹن میں علاج چل رہا ہے۔

سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کی موت پرصدرجمہوریہ ہند رام ناتھ کووند، وزیر اعظم نریندر مودی،وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے راوت کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بری طرح جل گئی ہیں اس لئے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعہ لاشوں کی شناخت کی جائے گی۔

ایم آئی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہونے کے بعد فضائیہ نے حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لئے جانچ کا حکم(کورٹ آف انکوائری) دیا ہے۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ سی ڈی ایس بپن راوت کے نئی دہلی واقع سرکاری رہائش گاہ پر گئے اور ان کی بیٹی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد وہ وزارت دفاع گئے اور سینئر افسروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس سے پہلے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی جس میں راجناتھ سنگھ نے حادثے کے بارے میں جانکاری دی۔ چونکہ اس وقت پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس چل رہا ہے اس لئے ایسا مانا رہا ہے کہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس حادثے کے بارے میں جانکاری دیں گے۔ ادھر فضائیہ کے چیف وی آر چودھری دہلی سے کنور کے لئے راونہ ہوگئے ہیں۔

تمل ناڈو کے کنور میں بدھ دوپہر چیف آف ڈیفینس اسٹاف بپن راوت کو لے جارہا فضائیہ کا ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہوگیا۔ جب یہ حادثہ ہوا اس دوران بپن راوت کے علاوہ ان کی اہلیہ اور فضائیہ کے دیگر افسر بھی ہیلی کاپٹر میں موجود تھے۔ حادثے کے بعد فلیو ٹینک میں ایندھن ہونے سے ہیلی کاپٹر کے ملبے میں شدید آگ لگ گئی، جس سے کاکپٹ، فلیو ٹینک اور کیبن آگ کی زد میں آگئے۔ ہیلی کاپٹر کے حادثہ کا شکار ہونے کے بعد جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن شروع کرکے زخمی ہوئے لوگوں کو مقامی اسپتال میں داخل کراویا گیا۔ ملبے میں لگی آگ کو کئی گھنٹے کی مشقت کے بعد قابوپایا جاسکا۔ اس ہیلی کاپٹر میں 14لوگ سوار تھے، جن میں اب تک 13لوگوں کی موت ہوچکی ہے، جن کی لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔

سی ڈی ایس بپن راوت اپنی اہلیہ مدھولیکا راوت کے ساتھ منگل کو ویلنگٹن کے آرمڈ فورسز کالج میں ایک پروگرام میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ سی ڈی ایس راوت آج ویلنگٹن میں ایک لیکچر دینے کے بعد کنور لوٹ رہے تھے۔ یہاں سے انہیں دہلی کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے ان کا ہیلی کاپٹر سلور اور کوئمبٹور کے درمیان گھنے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ ہیلی کاپٹر فوجی استعمال کے لحاظ سے بہت جدید سمجھا جاتا ہے۔ یہ فوج اور ہتھیاروں کی نقل و حمل، فائر سپورٹ، اسکارٹ، گشت، تلاش اور بچاؤ کے مشن کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بھارت میں کئی وی وی آئی پی بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر میں سی ڈی ایس پی ایس او بریگیڈیئر ایل ایس لِڈر، لیفٹیننٹ کرنل ہرجیندر سنگھ، نائک گرسیوک سنگھ، نائیک جتیندر کمار، لانس نائک وویک کمار اور لانس نائک بی سائی تیجا سوار تھے۔

 سی ڈی ایس جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت پر تعزیت کرتے ہوئے صدر رام ناتھ کووند نے کہا کہ ملک نے اپنے ایک بہادر بیٹے کو کھو دیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں صدر جمہوریہ ہندنے کہا، ”جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا جی کے بے وقت موت سے صدمے اور تکلیف میں ہوں۔ ملک نے اپنا ایک بہادر بیٹا کھو دیا ہے۔ مادر وطن کے لیے ان کی چار دہائیوں کی بے لوث خدمت غیر معمولی شجاعت اور بہادری سے عبارت تھی۔ ان کے اہل خانہ سے میری تعزیت۔"

انہوں نے مزید کہا،“مجھے ہیلی کاپٹر حادثے میں جانوں کے ضیاع کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا ہے۔ میں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مرنے والوں میں سے ہر ایک کو خراج عقیدت پیش کرنے میں  ساتھی شہریوں کے ساتھ شامل ہوں۔صدرجمہوریہ نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے آج ممبئی میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کو منسوخ کر دیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے تمل ناڈو میں ہوئے ہیلی کاپٹر حادثہ میں جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور مسلح افواج کے دیگر اہلکاروں کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔سلسلہ وار ٹوئٹ میں وزیر اعظم نے کہا:”تمل ناڈو میں ہوئے ہیلی کاپٹر حادثہ میں جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور مسلح افواج کے دیگر اہلکاروں کی موت پر میں کافی رنجیدہ ہوں۔ انہوں نے پوری تندہی سے بھارت کی خدمت کی۔ میرے خیالات سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔جنرل بپن راوت ایک بہترین سپاہی تھے۔ ایک سچے محب وطن کے طور پر انہوں نے ہماری مسلح افواج اور سیکورٹی کے آلات کو جدید بنانے میں بہت تعاون کیا۔ اسٹریٹیجک معاملات پر ان کی بصیرت اور نقطہ نظر غیرمعمولی تھے۔ ان کے انتقال سے مجھے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ اوم شانتی۔بھارت کے پہلے سی ڈی ایس کے طور پر، جنرل راوت نے دفاعی اصلاحات سمیت ہماری مسلح افواج سے متعلق  متنوع پہلوؤں پر کام کیا۔ وہ اپنے ساتھ فوج میں خدمات انجام دینے کا بھرپور تجربہ لے کر آئے۔ ہندوستان ان کی غیر معمولی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔“