Urdu News

ہائی کورٹ کی دہلی حکومت کو ہدایت ،دواوں کے کالابازاری کرنے والوں کا پتہ لگائیں

ہائی کورٹ کی دہلی حکومت کو ہدایت

ہائی کورٹ کی دہلی حکومت کو ہدایت ،دواوں کے کالابازاری کرنے والوں کا پتہ لگائیں

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کو حکم دیا کہ وہ تمام فارماسی سے ریمیڈیسیویر ، ڈیکسامیتھاسون ، فیبی فلو اور دیگر ادویات کا ریکارڈ لیں اور ان کا اچانک معائنہ کریں۔ عدالت نے دہلی حکومت کو ادویات کی کالے بازی کرنے والوں کا پتہ لگانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے دہلی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ کل تک آکسیجن ری فلنگ کرنے والی کمپنیوں کے اسٹاک کی اسٹیٹس رپورٹ پیش کریں۔

عدالت نے دہلی حکومت سے کہا کہ آپ ایسے ریفلنگ کرنے والوں کو بغیر کسی ذمہ داری کے آکسیجن فراہم کررہے ہیں اور اسپتالوں کو آکسیجن نہیں مل رہی ہے۔ عدالت نے دہلی حکومت کو چار دن کے اندر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اسپتالوں میں ہونے والی اموات سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ یہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے دہلی حکومت کے اس حکم کا نوٹ لیا جس میں ایمرجنسی مریضوں کے ہنگامی علاج معالجے کی بات کہی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ دہلی حکومت کو بتایا ہے کہ ایسے سرکلر بیکار ہیں۔ اسپتالوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں دہلی حکومت کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں ملا ہے کہ آیا وہ اس حکم کی تعمیل کررہے ہیں۔ ایسے سرکلر جاری نہیں کیے جائیں جس سے قانونی رکاوٹیں پیدا ہوں۔ اس پر دہلی حکومت کے وکیل راہل مہرا نے کہا کہ اس سرکلر کو ایڈوائزری کہاجائے۔

عدالت نے دہلی حکومت سے کہا کہ آپ ایک ایڈمنسٹریٹر ہیں اور آپ کو انتظامیہ کوکیسے چلاناہے ، یہ معلوم ہونا چاہیے۔ اس پر مہرا نے کہا کہ اگر ہم ان آکسیجن کو بھرنے والوں پر کارروائی کرتے ہیں تو وہ عدالت میں آجائیں گے۔ ہم ان معاملات پر کیسے کاروائی کرسکتے ہیں جس پر عدالت غورکر رہی ہے۔ مہرا نے کہا کہ جیسے ہی الاٹمنٹ کے آرڈر کا معاملہ حل ہوجائے گا ، تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ تب جسٹس ریکھا پلی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس کے بعد ایسا نہیں ہوگا۔

Recommended