مشرقی دہلی میں برآمد ہونے والا آئی ای ڈی پاکستان سے اسمگل کیے گئے دھماکہ خیز مواد کی کھیپ کا حصہ تھا: خفیہ ذرائع

https://urdu.indianarrative.com/IED-exported-in-East-Delhi-3.webp

مشرقی دہلی میں برآمد ہونے والا آئی ای ڈی پاکستان سے اسمگل کیے گئے دھماکہ خیز مواد کی کھیپ کا حصہ تھا: خفیہ ذرائع

بھارتی  انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق، مشرقی دہلی کے غازی پور علاقے میں برآمد ہونے والا آئی ای ڈی دھماکہ خیز مواد کی اس کھیپ کا حصہ تھا جو پاکستان سے ہندوستان میں سمگل کیا گیا تھا۔ غازی پور میں ٹیپ سے لپٹی ہوئی آئی ای ڈی پر مشتمل تھیلی سلیپر سیل کے ذریعے نصب کی گئی تھی۔ پولیس ذرائع نے ایم این این  کو  بتایا کہ   برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد کا وزن تقریباً 1.5 کلو گرام تھا، اس میں آر ڈی ایکس اور امونیم نائٹریٹ دونوں موجود تھے اور اس میں زیادہ شدت کے دھماکے کا امکان تھا۔ امید کی جاتی ہے کہ اس طرح کے بم سلیپر سیلوں کے نیٹ ورک کے ذریعے پولنگ والی ریاستوں تک پہنچ گئے ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں پنجاب پولیس کی جانب سے کی گئی بارودی مواد کی برآمدگی برف کے تودے کا سرہ ہے۔

 انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ کے لیے دہلی پولیس اور نیشنل سیکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں سرحدی علاقوں میں ڈرون سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، کئی بار ڈرون بارودی مواد خاص طور پر ٹفن بم گراتے تھے جن کا پتہ نہیں چل سکا اور انہیں انتخابات سے قبل یا انتخابات کے دوران دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ  ان  ریاستوں میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال میں بگاڑ پیدا کیا جاسکے۔

لدھیانہ دھماکے میں، RDX کا استعمال کیا گیا تھا اور پھر ہمیں دہلی کے غازی پور میںRDX ملا ہے۔ یہ پاکستان سے ڈیلیور کی گئی ایک کھیپ کا حصہ لگتا ہے جو سلیپر سیل کے ذریعے دہلی پہنچی ہے۔ خفیہ ایجنسیاں سنڈیکیٹ میں ملوث مشتبہ افراد کا سراغ لگا رہی ہیں۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ  '' ہم نے یوپی اے ٹی ایس کے ساتھ بھی معلومات کا اشتراک کیا ہے۔ کشمیر میں سرگرم القاعدہ سے منسلک دہشت گرد گروپ مجاہدین غزوات الہند (ایم جی ایچ) کے نام سے ایک ٹیلی گرام چینل کی طرف سے ایک دیسی ساختہ بم نصب کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیاں مزیدچوکنی  ہوگئی ہیں۔