نئے زرعی قوانین کا اثر

https://urdu.indianarrative.com/Narendra_Singh_Tomar.jpg

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر

 

 

حکومت نے 5 جون 2020 کو طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ”کسانوں کی پیداواری تجارت اور کامرس (فروغ اور سہولت) آرڈیننس، 2020“، ”کسان (امپاورمنٹ اور تحفظ) قیمت گارنٹی اور فارم سروسز آرڈیننس، 2020“ اور ”ضروری اجناس (ترمیمی) آرڈیننس“ کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی حکومت نے آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست III کے اندراج 33 کے تحت نئے فارم قانون نافذ کیے تھے، جس کے تحت پارلیمنٹ آئینی طور پر قانون سازی کرنے کے اہل ہے اور اس نے قوانین کو منظور کیا ہے۔

مذکورہ بالا قوانین سے متعلق بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا تھا اور اس کے بعد 27 ستمبر 2020 کو یہ ایکٹ نافذ کر دیا گیا تھا۔

حکومت زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹیوں (اے پی ایم سی) کو مضبوط بنانے اور خدمات اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے ذریعہ انھیں زیادہ مسابقتی بنانے کے خیال کی ہمیشہ حمایت کرتی رہی ہے۔ حکومت مختلف اسکیموں جیسے راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا - رفتار، زرعی مارکیٹ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی)، قومی زراعت مارکیٹ (e-NAM)، ایگری انفراسٹرکچر فنڈ (اے آئی ایف) اور زرعی مارکیٹنگ انفراسٹرکچر فنڈ، وغیرہ کے ذریعہ انفراسٹرکچر اور ویلیو چین کی ترقی کے لیے اے پی ایم سی کو مدد فراہم کرتی رہی ہے۔

نئے قوانین یعنی ”کسانوں کی پیداواری تجارت اور کامرس (فروغ اور سہولت) آرڈیننس، 2020“، ”کسان (امپاورمنٹ اور تحفظ) قیمت گارنٹی اور فارم سروسز آرڈیننس، 2020“ اور ”ضروری اجناس (ترمیمی) آرڈیننس“ کا مقصد ایک ایسا ماحولیاتی نظام فراہم کرنا ہے جہاں کاشتکار کسانوں کی پیداوار کی فروخت سے متعلق انتخاب کی آزادی سے لطف اندوز  ہو سکتے ہیں جو کسانوں کو ان کی پیداوار کو بیچنے کے لیے مسابقتی متبادل چینلز کے ذریعے معاوضے کی قیمتوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ یہ زرعی ایکٹ تاجروں، پروسیسرز، برآمد کنندگان، کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او)، زراعت کوآپریٹو  سوسائٹیوں وغیرہ کے ذریعہ تجارت کے شعبے میں کاشتکاروں سے براہ راست خریداری میں سہولت فراہم کریں گے، تاکہ سپلائی چین میں کمی کی وجہ سے اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ کسانوں کو سہولت فراہم ہو سکے۔

زرعی قوانین اے پی ایم سی مارکیٹ یارڈ جیسے فارم گیٹ، کولڈ اسٹورج، گودام، بند گودام وغیرہ سے باہر مارکیٹنگ کے اضافی مواقع فراہم کرتے ہیں تاکہ اضافی مسابقت کی وجہ سے کاشتکاروں کو معاوضے کی قیمتوں میں مدد مل سکے۔ زرعی قوانین سے مارکیٹنگ اور قدر افزائی انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جس سے دیہی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ مزید  یہ کہ  کسان پہلے کی طرح اے پی ایم سی میں اپنی پیداوار بیچنے کے لیے آزاد ہیں۔

ایم ایس پی پالیسی کا زرعی قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسان آزادانہ طور پر ایم ایس پی یا زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی (اے پی ایم سی) مارکیٹوں میں یا کنٹریکٹ فارمنگ کے ذریعہ یا کھلی مارکیٹ میں جو بھی ان کے لیے فائدہ مند ہو اپنی پیداوار سرکاری پیداواری ایجنسیوں کو بیچ سکتے ہیں۔

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔