Urdu News

انکم ٹیکس کے محکمہ نے ممبئی میں چھاپے ماری کی

نیشنل اکیڈمی برائے براہ راست ٹیکس

  انکم ٹیکس کے محکمہ نے ممبئی میں واقع ایک معروف بلڈر اور ڈیولپر گروپ کے معاملے میں 17 مارچ 2021 کو چھاپے ماری کی کارروائی انجام دی۔ موبائل آلات کی تجارت میں مصروف ڈیلروں کے معاملے میں بھی تلاشی مہم چلائی گئی۔ ان سبھی کارروائیوں میں ممبئی میں واقع 29 احاطوں پر چھاپے مارے گئے، جبکہ 14 احاطوں کو سروے کارروائی کے تحت کور کیا گیا۔

یہ ریئل اسٹیٹ گروپ ایک کمرشیل مال ڈیولپ کررہا ہے، جس میں خاص طور سے موبائل آلات کے کاروبار کے لئے 950 اکائیاں ہیں۔ ان میں سے تقریباً 905 کی فروخت 2017 سے اب تک کی گئی۔ تلاشی کے دوران احاطے میں پین ڈرائیو میں رکھے گئے ثبوت سے پتہ چلا کہ بلڈر گروپ نے 150 کروڑ روپئے کی رقم رسیدوں پر لی ہے جو معاہدے کی قدر سے اوپر اور زیادہ ہے۔ اس کا حساب ایسی اکائیوں کی فروخت کی اکاؤنٹ بک میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایک رہائشی اور کمرشیل پروجیکٹ سے متعلق پین ڈرائیو میں 70 کروڑ روپئے کی موصولگی کے شواہد پائے گئے ہیں۔ اس گروپ کے مختلف احاطوں سے 5.50 کروڑ روپئے ملے ہیں جنھیں ضبط کرلیا گیا ہے۔ بلڈر کے ذریعے ڈیجیٹل طریقے پر درج متعدد پروجیکٹوں میں دکانوں / فلیٹوں کی فروخت کے لئے پیسے کی رسیدیں ضبط کی گئی ہیں۔

موبائل ساز و سامان کے کاروبار میں مصروف ڈیلروں کے سلسلے میں متعدد فروخت کے ایسے ثبوت ملے ہیں جن کا ذکر اکاؤنٹ بکس میں نہیں ہے۔ یہ گروپ چین سے مال درآمد کرتا ہے اور ان سامانوں کو پورے بھارت میں مختلف پارٹیوں کو فروخت کرتا ہے۔ یہ درآمد چالان میں درج رقم سے کم کی ہے اور ادائیگی حوالہ چینلوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ بے حساب اسٹاک والے 13 خفیہ گودام بھی تلاش کئے گئے ہیں، جن میں اسٹاک تیار کیا جاتا ہے۔  اس کی کل قیمت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ مذکورہ ڈیلروں کے ذریعے جائیدادوں میں بے حساب سرمایہ کاری کے 40.5 کروڑ روپئے کے ثبوت ملتے ہیں۔ اس میں سے 21 کروڑ روپئے کی بے حساب سرمایہ کاری مذکورہ کمرشیل مال میں اکائیوں کی خرید سے متعلق ہے۔ ملازمین کے نام پر 4 غیراعلانیہ بینک کھاتوں کا بھی پتہ لگایا گیا ہے، جن کا استعمال گروپوں کے خوردہ فروخت کنندگان سے فروخت کی رقم وصول کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ان بینک کھاتوں میں کل جمع رقم 80 کروڑ روپئے ہے۔

اس چھاپے ماری سے پتہ چلا ہے کہ موبائل ساز و سامان میں ٹرینڈنگ کا پورا شعبہ کافی حد تک بے حساب کتاب کا ہے۔ خاص طور پر سامان جن سے ممبئی اور چنئی بندرگاہوں کے راستے درآمد کیا جاتا ہے۔ تلاشی سے پتہ چلا ہے کہ ڈیلر اپنی فروخت اور خرید کو بیحد کم کرکے بتاتے رہے ہیں۔ چینی ہم منصبوں کے ساتھ لین دین وی- چیٹ ایپ کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ محکمہ نے فارنسک کا استعمال کرکے وی- چیٹ پیغامات کو ازسرنو حاصل کیا ہے۔ چینی درآمدات کی مقدار اور لاگت کے بارے میں معلومات اخذ کرنے کےلئے اطلاع کی توثیق اور ان کا ملان کیا جارہا ہے۔

اس کارروائی میں اب تک 5.89 کروڑ روپئے کی بے حساب نقدی ضبط کی جاچکی ہے۔ ابھی تک ہوئی تلاشی کے نتیجے میں تقریباً 270 کروڑ روپئے کی غیراعلانیہ آمدنی کا پتہ چلا ہے۔ ھآگے کی جانچ اور بے حساب اسٹاک کے ویلیوشن کا کام جاری ہے۔ انکم ٹیکس کے محکمہ نے ممبئی میں واقع ایک معروف بلڈر اور ڈیولپر گروپ کے معاملے میں 17 مارچ 2021 کو چھاپے ماری کی کارروائی انجام دی۔ موبائل آلات کی تجارت میں مصروف ڈیلروں کے معاملے میں بھی تلاشی مہم چلائی گئی۔ ان سبھی کارروائیوں میں ممبئی میں واقع 29 احاطوں پر چھاپے مارے گئے، جبکہ 14 احاطوں کو سروے کارروائی کے تحت کور کیا گیا۔

یہ ریئل اسٹیٹ گروپ ایک کمرشیل مال ڈیولپ کررہا ہے، جس میں خاص طور سے موبائل آلات کے کاروبار کے لئے 950 اکائیاں ہیں۔ ان میں سے تقریباً 905 کی فروخت 2017 سے اب تک کی گئی۔ تلاشی کے دوران احاطے میں پین ڈرائیو میں رکھے گئے ثبوت سے پتہ چلا کہ بلڈر گروپ نے 150 کروڑ روپئے کی رقم رسیدوں پر لی ہے جو معاہدے کی قدر سے اوپر اور زیادہ ہے۔ اس کا حساب ایسی اکائیوں کی فروخت کی اکاؤنٹ بک میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایک رہائشی اور کمرشیل پروجیکٹ سے متعلق پین ڈرائیو میں 70 کروڑ روپئے کی موصولگی کے شواہد پائے گئے ہیں۔ اس گروپ کے مختلف احاطوں سے 5.50 کروڑ روپئے ملے ہیں جنھیں ضبط کرلیا گیا ہے۔ بلڈر کے ذریعے ڈیجیٹل طریقے پر درج متعدد پروجیکٹوں میں دکانوں / فلیٹوں کی فروخت کے لئے پیسے کی رسیدیں ضبط کی گئی ہیں۔

موبائل ساز و سامان کے کاروبار میں مصروف ڈیلروں کے سلسلے میں متعدد فروخت کے ایسے ثبوت ملے ہیں جن کا ذکر اکاؤنٹ بکس میں نہیں ہے۔ یہ گروپ چین سے مال درآمد کرتا ہے اور ان سامانوں کو پورے بھارت میں مختلف پارٹیوں کو فروخت کرتا ہے۔ یہ درآمد چالان میں درج رقم سے کم کی ہے اور ادائیگی حوالہ چینلوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ بے حساب اسٹاک والے 13 خفیہ گودام بھی تلاش کئے گئے ہیں، جن میں اسٹاک تیار کیا جاتا ہے۔  اس کی کل قیمت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ مذکورہ ڈیلروں کے ذریعے جائیدادوں میں بے حساب سرمایہ کاری کے 40.5 کروڑ روپئے کے ثبوت ملتے ہیں۔ اس میں سے 21 کروڑ روپئے کی بے حساب سرمایہ کاری مذکورہ کمرشیل مال میں اکائیوں کی خرید سے متعلق ہے۔ ملازمین کے نام پر 4 غیراعلانیہ بینک کھاتوں کا بھی پتہ لگایا گیا ہے، جن کا استعمال گروپوں کے خوردہ فروخت کنندگان سے فروخت کی رقم وصول کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ان بینک کھاتوں میں کل جمع رقم 80 کروڑ روپئے ہے۔

اس چھاپے ماری سے پتہ چلا ہے کہ موبائل ساز و سامان میں ٹرینڈنگ کا پورا شعبہ کافی حد تک بے حساب کتاب کا ہے۔ خاص طور پر سامان جن سے ممبئی اور چنئی بندرگاہوں کے راستے درآمد کیا جاتا ہے۔ تلاشی سے پتہ چلا ہے کہ ڈیلر اپنی فروخت اور خرید کو بیحد کم کرکے بتاتے رہے ہیں۔ چینی ہم منصبوں کے ساتھ لین دین وی- چیٹ ایپ کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ محکمہ نے فارنسک کا استعمال کرکے وی- چیٹ پیغامات کو ازسرنو حاصل کیا ہے۔ چینی درآمدات کی مقدار اور لاگت کے بارے میں معلومات اخذ کرنے کےلئے اطلاع کی توثیق اور ان کا ملان کیا جارہا ہے۔

اس کارروائی میں اب تک 5.89 کروڑ روپئے کی بے حساب نقدی ضبط کی جاچکی ہے۔ ابھی تک ہوئی تلاشی کے نتیجے میں تقریباً 270 کروڑ روپئے کی غیراعلانیہ آمدنی کا پتہ چلا ہے۔ ھآگے کی جانچ اور بے حساب اسٹاک کے ویلیوشن کا کام جاری ہے۔

Recommended