Urdu News

ہندوستان اور انڈونیشیا نے دو دن تک بین الاقوامی میری ٹائم باونڈری لائن پر گشت کیا

ہندوستان اور انڈونیشیا نے دو دن تک بین الاقوامی میری ٹائم باونڈری لائن پر گشت کیا

بحر ہند کے خطے کے ممالک کے ساتھ ہندوستانی بحریہ سرگرم عمل ہے

دوطرفہ مشق میں دونوں ممالک کے گشتی طیاروں نے بھی شرکت کی

نئی دہلی، 24 نومبر (انڈیا نیرٹیو)

ہندوستانی بحریہ نے انڈونیشیائی بحریہ کے ساتھ بین الاقوامی میری ٹائم باونڈری لائن (آئی ایم بی ایل) کے ساتھ دو روزہ کوآرڈینیٹڈ پٹرولنگ (کورپیٹ) کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان  مسلسل ہوتے ندرگاہ سفر، دو طرفہ مشقوں اور تربیتی تبادلوں کے ساتھ سمندری بات چیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان کورپیٹ کے اس ایڈیشن میں دونوں ممالک کے سمندری گشتی طیاروں کی شرکت بھی دیکھی گئی۔

آئی ایم بی ایل پر 23-24 نومبر کو ہوئی اس کوآرڈینیٹیڈ گشت میں ہندوستانی بحریہ کا مقامی آف شور گشتی جہاز آئی این ایس خنجرشامل  ہوا۔ اسی طرح انڈونیشیا کی بحریہ کے کپیٹن پتیومورا کلاس کارویٹ کے آرآئی-سلطان طحہ سیف الدین (376) نے بھی گشت کیا۔ اس کوآرڈینیٹیڈ گشت میں دونوں ممالک کے بحری گشتی طیاروں کی شرکت بھی دیکھی گئی۔ یہ مشق ایک 'غیر رابطہ، 'صرف سمندر میں چلنے والی' مشق کے طور پر منعقدکی گئی تھی، جو دونوں دوست بحری افواج کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور تعاون کو اجاگرکرتا ہے۔

ہندوستان اور انڈونیشیا 2002 سے سال میں دو بار بین الاقوامی میری ٹائم باؤنڈری لائن (آئی ایم بی ایل) کے ساتھ کوآرڈینیٹیڈ گشت (کورپیٹ) کرتے ہیں۔ اس کا مقصد بحر ہند کے خطے کے اس اہم حصے کو تجارتی جہاز رانی، بین الاقوامی تجارت کے لیے محفوظ اور قانونی سمندری سرگرمیاں انجام دینے کے لیے محفوظ بنانا ہے۔ کارپیٹس بحری افواج کے درمیان افہام و تفہیم اور تعامل پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی غیر قانونی ان۔رپورٹیڈ بے ضابطگی (آئی یو یو) ماہی گیری، منشیات کی اسمگلنگ، سمندری دہشت گردی، مسلح قزاقی، بحری قزاقی کو روکنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیاجاتا ہے۔

ہندوستانی بحریہ حکومت ہند ساگر (علاقے میں سب کے لئے سلامتی اور ترقی) کے وژن کے مطابق بحر ہند کے خطے کے ممالک کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان روایتی طور پر قریبی اور دوستانہ تعلقات کئی سالوں میں وسیع پیمانے پر سرگرمیوں اور بات چیت کے ساتھ مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں بحری افواج کے درمیان مسلسل بندرگاہوں کے دورے، دوطرفہ مشقوں اور تربیتی تبادلوں کے ساتھ بحری رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Recommended