Urdu News

کورونا بحران کے درمیان دشمنوں پر گولے برسانے کے لئے تیار ’شارنگ‘

جبلپور کی وہیکل فیکٹری 2022 تک تین سو شارنگ توپ تیار کرکے فوج کو سونپے گی

 کورونا بحران کے درمیان دشمنوں پر گولے برسانے کے لئے تیار ’شارنگ‘

جبلپور کی وہیکل فیکٹری 2022 تک تین سو شارنگ توپ تیار کرکے فوج کو سونپے گی
بھوپال، 26 مئی (ہ س)۔ ملک میں کورونا وائرس اپنا قہر برپا رہا ہے، ایسے میں مدھیہ پردیش میں بھی کورونا نے بہت سی زندگیوں کو تباہ کر دیا۔ اس کے باوجود کورونا کا قہر ایک طرف اور ملک کی خدمت سب سے آگے ہے۔ ملک کی سکیورٹی سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اس جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان دنوں مدھیہ پردیش کے جبلپور میں ’’شارنگ‘‘ توپیں تیار ہورہی ہیں۔ 2022 تک 300 شارنگ توپیں تیار کرکے فوج کو دیا جانا ہے۔
دراصل سب سے طاقتور آرٹلری گن سارنگ کے کامیاب تجربے کے بعد سے ہندوستانی فوج کی فائر پاور مزید طاقتور ہوئی ہے۔ ہندوستان اب پاکستان کے اندر تک مار کر سکے گا۔ اپ گریڈ ہونے کے بعد اس توپ کی مار کی صلاحیت 40 سے 50 کلو میٹر ہوگئی ہے۔ مارنے کی صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ہی یہ توپ پی او کے میں اپنا فیصلہ کن رول ادا کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے۔
حالانکہ یہ سچ ہے کہ کورونا نے اس کے بنانے کی رفتار کو متاثر کیا ہے، لیکن فوج اور ہمارے سائنسدانوں کے ارادے شروع سے ہی مضبوط ہیں۔ کورونا کا انفیکشن ان کے مضبوط ارادوں کو ذرا بھی نہیں ہلا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’شارنگ‘‘ تیار کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ بہر حال وہیکل فیکٹری (وی ایف جے) سمیت چاروں اسلحہ ساز فیکٹریاں 25 فیصدی ملازمین کے ساتھ فی الحال کام کر رہی ہیں۔ یہاں کل تین ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔
وی ایف جے کے لئے بڑا موقع
جبلپور کی وی ایف جے اصلاً فوج کی گاڑیاں بنانے کا کام کرتی ہے۔ ان گاڑیوں میں اسٹالین اور ایل پی ٹی اے جیسی طاقتور فوجی گاڑی بھی شامل ہیں۔ فوج کے لئے گاڑی بنانے والی اس وہیکل فیکٹری نے پہلی مرتبہ توپ تیار کرنے کے شعبے میں قدم رکھا ہے۔ اس توپ کے لئے وی ایف جے ہی نوڈل سینٹر ہے۔ اسے بڑی کامیابی مل رہی ہے۔ وی ایف جے اس سال سو شارنگ توپیں تیار کرے گی۔ یہ آڈر اسے آرڈیننس کنسٹرکشن بورڈ سےملا ہے، جس کی لاگت 966 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے۔ وی ایف جے کو 11 مہینوں میں اس بڑے آرڈر کو پورا کرنا ہے۔
یہاں ہورہی ہیں ابھی 100 شارنگ توپیں تیار
اس سلسلے میں جبلپور کی وی ایف جے کے رابطہ عامہ آفیسر راجیو کمار کہتے ہیں کہ ہم نے سال بھر میں 100 شارنگ توپ بنانے کا ہدف رکھا ہے۔ آرڈیننس کنسٹرکشن بورڈ سےجو آرڈر اس سے متعلق موصول ہوا ہے، اس میں یہی ہے کہ توپیں تیار کرکے وقت پر حوالے کرنا ہے۔ اس لئے اس آرڈر کو پورا کرنے کے لئے اس کورونا انفیکشن کے دور میں بھی کووڈ ضابطوں کی تعمیل کرتے ہوئے ہر حال میں اسے پورا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں ہماری جو ماقبل سے گاڑی بنانے کی خصوصیت رہی ہے، اس پر بھی ہماری توجہ برابر مرکوز ہے۔ جبلپور کی وہیکل فیکٹری اسٹالین اور ایل پی ٹی اے فوجی گاڑی بھی اپنے طے ہدف کے مطابق تیار کرنے میں مصروف ہے۔
ملکی تکنیک سے لیس ہے ’’شارنگ‘‘
شارنگ پوری طرح سے آرٹلری گن ہے۔ یہ ملک کی سب سے بڑی ملکی توپ ہے۔ 155 ایم ایم کیلبر والی اس گن کو اپ گریڈ کرکے اس کے مارنے کی صلاحیت بڑھائی گئی ہے۔ میک ان انڈیا کے عزم کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے یہ گن ملک میں سب سے جدید تکنیک سے لیس کہی جاسکتی ہے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس توپ کو 130 ایم ایم کی ایم-46 کی تکنیک اپ گریڈ کرکے بنایا جاگیا ہے۔اپ گریڈ ہونے کے بعد یہ اور بھی خطرناک ہوگئی ہے۔ ڈفینس ماہرین کے مطابق شارنگ کے گولے میں آٹھ کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے دشمن کے خیمے میں یہ اور زیادہ تباہی مچا دینے میں اہل ہوگئی ہے۔
 
 
 

Recommended