Urdu News

جزو وقتی مزدوروں کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے بی آر او کی جانب سے کئے گئے اقدامات

بارڈر روڈز آرگنائزیشن

 نئی دہلی:21؍ اگست، 2021۔

اہم جھلکیاں:

  • بی آر او اتراکھنڈ کے اونچائی والے علاقوں میں تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کو تعلیم فراہم کر رہا ہے۔
  • 60-70 بچے تین کیمپوں میں آوٹ ڈور کلاسیز میں شرکت کر رہے ہیں۔
  • بی آر او ایک این جی او کے ساتھ مل کر ان بچوں کو کپڑے اور راشن فراہم کرتا ہے۔
  • بنیادی رہائش اور بہتر تدریسی سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ۔

بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے اترا کھنڈ میں دھاراسو-گنگوتری روڈ پر مختلف سڑکوں کی تعمیر میں کام کرنے والے جزو وقتی پیڈ مزدوروں (سی پی ایل) کے بچوں کو تعلیم دینے کا ایک نیک کام کیا ہے۔ موبائل کنکشن اور بنیادی سہولیات سے محروم بی آر او کے افسران اور سپروائزر ان بچوں کو انتہائی دشوار گزار اونچائی والے علاقوں میں تعلیم دے رہے ہیں۔

اترکاشی ضلع میں گنگوتری ہائی وے پر سڑک کی تعمیر کے ذمہ دار جونیئر انجینئر راہل یادو اور صوبیدار سندیش پوار نے بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنے اور ان کے والدین کو کام سے باہر رکھنے کے دوران ان کو مصروف رکھنے کا خیال پیش کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0017FTF.jpg

جھنگلا، ہندولی گڑھ اور ناگا کے تین کیمپ 21 جولائی 2021 سے ان آؤٹ ڈور کلاسز کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اس وقت 60-70 بچے ان کلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ بی آر او کے یہ افسران ان بچوں کو کپڑے اور راشن کی فراہمی کے لیے ایک این جی او ’گونج‘ کے ساتھ فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان افسران کی پہل کو آگے بڑھاتے ہوئے بی آر او آنے والے مہینوں میں بچوں کو بنیادی رہائش اور بہتر تدریسی سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002RHHA.jpg

سی پی ایل بی آر او کی ریڑھ کی ہڈی ہیں کیونکہ وہ اسٹریٹجک سرحدی سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے دشوار گزار اور مشکل علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ طویل عرصے تک اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں اور معاشرے سے کٹ جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں کام کرنے والوں میں سے بیشتر کا تعلق جھارکھنڈ سے ہے یا وہ لوگ ہیں جو نیپال کی سرحد کے قریب رہتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ان نوجوان اور اکثر نظرانداز کردہ ذہنوں کو تعلیم دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کے والدین ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اس تنظیم سے مطمئن ہوں جس کے لیے وہ کام کرتے ہیں۔

Recommended