مدارس میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ توہین مذہب کی سزا سر قلم کرنا ہے: عارف محمد خان

https://urdu.indianarrative.com/arif-khan.webp

کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان

مسلمان بچوں کو 14 سال کی عمر تک وسیع ذہن کی تعلیم دی جانی چاہیے

کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے بدھ کے روز کہا کہ مسلمان بچوں کو 14 سال کی عمر تک وسیع ذہن کی تعلیم دی جانی چاہیے۔ وہ ادے پور میں مذہبی جنونیوں کے ذریعہ کئے گئے قتل پر تبصرہ کررہے تھے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد خان نے کہا کہ جب ہمیں بیماری کی علامات نظر آتی ہیں تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس بات کی فکر نہیں کہ بیماری کتنی گہرائی میں داخل ہو چکی ہے۔ مدارس میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ توہین مذہب کی سزا سر قلم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم قوانین قرآن سے نہیں لیے جاتے۔ یہ مختلف سلاطین میں افراد نے تیار کیے ہیں۔ مدارس میں بچوں کو مسلم قوانین کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔ بچے اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

خان نے کہا کہ ہر بچے کا حق ہے کہ اسے 14 سال تک کی جامع تعلیم دی جائے۔ انہیں اس عمر میں خصوصی تعلیم نہ دی جائے۔