ملک بھر میں مختلف تنظیموں کی طرف سے ”مسلم خواتین کے حقوق کا دن“ منایا گیا

https://urdu.indianarrative.com/Muslim_Women.jpg

مسلم خواتین

 

 

آج ملک بھر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے ”مسلم خواتین کے حقوق کا دن“ منایا گیا جہاں مسلم خواتین نے تین طلاق کے خلاف قانون لانے پر وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر محترمہ سمرتی ایرانی، اقلیتی امور کے وزیر جناب مختار عباس نقوی اور وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں ”مسلم خواتین کے حقوق کا دن“ پروگرام میں شرکت کی۔ وزرا نے تین طلاق کی شکار کئی خواتین سے بات چیت بھی کی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0011KNF.jpg

 

مسلم خواتین نے یکم اگست 2019 کو تین طلاق کے خلاف قانون لانے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا جس نے تین طلاق کی معاشرتی خرابی کو ایک مجرمانہ جرم بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کی مسلم خواتین کی ”خود انحصاری، عزت نفس اور خود اعتمادی“ کو مضبوط کیا ہے اور تین طلاق کے خلاف قانون لا کر ان کے آئینی، بنیادی اور جمہوری حقوق کا تحفظ کیا ہے۔

اس موقع پر مسلم خواتین سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سمرتی ایرانی نے کہا کہ یکم اگست تین طلاق کے خلاف مسلم خواتین کی جدوجہد کو سلام کرنے کا دن ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت اور لیبر کی وزارت مسلم خواتین میں کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مل کر کام کریں گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم خواتین کو ”مدرا یوجنا“، ”جن دھن یوجنا“، ”اسٹینڈ اپ انڈیا“، ”پوشن ابھیان“ جیسی اسکیموں کے ذریعے بے حد فائدہ ہوا ہے۔

اس موقع پر جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ حکومت معاشرے کے ہر طبقے کی خواتین کے وقار اور عطائے اختیار کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی رہی ہے۔ حکومت نے تین طلاق کے خلاف قانون لا کر مسلم خواتین کے وقار کو یقینی بنایا ہے۔ بیشتر بڑے مسلم ممالک نے بھی تین طلاق کو ختم کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی ”بلا امتیاز ترقی“ کی پالیسی نے پورے ملک میں اعتماد کی فضا پیدا کی ہے۔ میڈیکل/ڈینٹل سٹڈیز میں او بی سی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقے کے لیے کوٹہ فراہم کرنے کے حکومتی فیصلے سے مسلم کمیونٹی کے غریب طبقوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، جناب نقوی نے کہا کہ تین طلاق کے خلاف قانون مسلم خواتین کے آئینی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ایک ”بڑی اصلاح“ ثابت ہوا ہے جس کے ”بہتر نتائج“ سامنے آئے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ قانون کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں تین طلاق کے معاملات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔