مدھیہ پردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات لڑے گی اویسی کی پارٹی

https://urdu.indianarrative.com/Madhya-Pradesh-AIMIM.webp

مدھیہ پردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات لڑے گی اویسی کی پارٹی

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) بلدیاتی انتخابات کے بعد مدھیہ پردیش میں اگلے سال 2023 کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی۔ پارٹی کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کو بھوپال میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس کا اعلان کیا ہے۔

بھوپال میں نگرنگم انتخابات لڑرہے  پارٹی امیدواروں کے حق میں انتخابی تشہیر کرنے بھوپال آئے آئی ایم آئی ایم کے صدر اویسی نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کے بعد ریاست میں تیسرا ا?پشن بھی موجود رہے گا۔ ہماری پارٹی ایم پی میں 2023 کے اسمبلی انتخابات بھی لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایم پی میں مسلم اقلیتی برادری کی آزاد سیاسی قیادت تشکیل دی جائے۔

یہاں کے لوگوں نے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو موقع دیا تھا، لیکن یہ کانگریس کی ناکامی ہے کہ ان کے ایم ایل اے بی جے پی میں چلے گئے اور اقتدار بی جے پی کے ہاتھ میں آگیا۔ کانگریس کو خدشہ ہے کہ اگر اس ملک کے مسلمان سیاسی قیادت کے داؤ کو سمجھ لیں گے تو ان کی باقی ماندہ سیاست ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت نہیں بنانا چاہتے، ہماری لڑائی حصہ داری میں آنے کی ہے۔ مسلمانوں کی شرح خواندگی مدھیہ پردیش میں سب سے کم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف 24 ہزار مسلمان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کی بلڈوزر کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایم پی میں جب لڑکی نے اپنی پسند کی شادی کی تو وہاں کے ڈی ایم نے ملک دشمن کہہ کر لڑکے کا گھر توڑ دیا۔ لڑکی کو جبل پور کورٹ سے تحفظ حاصل کرنا پڑی۔ اگر غیر قانونی کے نام پر گھر گرائے جائیں تو دہلی چھوڑیے، ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں 70 فیصد مکانات غیر قانونی ملیں گے۔

اویسی نے ادے پور قتل معاملہ کو لے کر  کہا کہ یہ ایک قتل ہے، مجھے امید ہے کہ راجستھان حکومت مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر راجستھان حکومت چوکس ہوتی تو یہ واقعہ رونما نہیں ہوتا۔ کنہیا لال ٹیلر کو قتل کرنے والے دونوں مجرموں کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ضمانت پر باہر آئے تھے اور ٹیلر کو دھمکیاں دے رہے تھے۔ اس معاملے پر دونوں سماج کے لوگوں کی میٹنگ بھی ہوئی تھی لیکن راجستھان پولیس کی ناکامی سے اتنا بڑا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوا ہے۔ نپور شرما کے خلاف ایسی بکواس کی گئی تھی لیکن تلنگانہ حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے اسے جیل بھیج دیا تھا۔

نپور شرما کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں گرفتار کرنا ضروری ہے۔ پارٹی سے معطلی کوئی سزا نہیں ہے۔ عدالت اس معاملے میں انصاف کرے۔ ملک کے تمام معاشروں میں تعصب بڑھ رہا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ قانون کے دائرے میں رہ کر پرامن احتجاج کیجئے۔ اویسی نے کہا کہ ہندوتوا کی مخالفت کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ ساورکر کا نظریہ ہے۔ اس میں ساورکر نے ہولی لینڈ اور مدر لینڈ کا ذکر کیا ہے۔ ہم اپنے ہندو بھائیوں کے خلاف کبھی نہیں تھے اور نہ ہی ہوں گے، لیکن ا?ر ایس ایس کے نظریے کی مخالفت کرتے رہیں گے۔

اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اسد الدین اویسی نے منگل کو بھوپال میں کونسلر کے انتخاب میں حصہ لینے والے اپنی پارٹی کے چھ امیدواروں کی حمایت میں ایک میٹنگ کی۔ مسلم اکثریتی پرانے بھوپال علاقے میں ہوئی اس میٹنگ میں اویسی نے بی جے پی اور کانگریس کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دونوں پارٹیوں کا موازنہ رام اور شیام کی جوڑی سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اقتدار میں حصہ داری نہیں ہوگی یہ مسائل حل نہیں ہوں گے، کمل ناتھ کی حکومت ہوگی یا موجودہ وزیراعلیٰ کی، آپ کے ظلم کے خلاف کون آواز اٹھائے گا؟ جب کمل ناتھ کانگریس کے وزیر اعلیٰ تھے، تب ایک ویڈیو میں وہ مسلمانوں کو پرسکون رہنے کو کہہ رہے تھے۔ آپ کو تسلی دینے والے یہ لوگ آپ کی آواز کیسے سنیں گے؟ بی جے پی والے کہتے ہیں آواز اٹھاؤ گے تو گھر گرا دیں گے۔ جب تک اویسی زندہ ہے میں اپنی آواز بلند کرتا رہوں گا۔