Urdu News

جناب پیوش گوئل نے ہندوستان چیمبر آف کامرس کے 74 ویں سالانہ جلسے سے خطاب کیا

جناب پیوش گوئل نے ہندوستان چیمبر آف کامرس کے 74 ویں سالانہ جلسے سے خطاب کیا

<div class="text-center">
<h2>جناب پیوش گوئل نے ہندوستان چیمبر آف کامرس کے 74 ویں سالانہ جلسے سے خطاب کیا
<span id="ltrSubtitle">
خود کفیل بننے ، کام کاج کی سطح میں اضافہ کرنے ، مصنوعات سازی کے اچھے طور طریقے شروع کرنے اور کوالٹی کو بہتر بنانے کی بھارت کی تمام صلاحیتوں کو دنیا تسلیم کر رہی ہے : جناب گو</span></h2>
</div>
<p dir="RTL">کامرس و صنعت  اور ریلوے کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج ہندوستان چیمبرز آف کامرس کے 74ویں جلسے سے ورچوئل طریقے سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چیمبر آف کامرس کی طرف سے بلائے گئے اس سالانہ جلسے میں چیمبرز آف کامرس کے رول اور ٹکنالوجی کی اہمیت پر توجہ دی گئی  – جو ایک بہت ہی  موزوں  موضوع ہے جس کی اہمیت ہم نے اس عالمی وبا کے دوران محسوس کر لی ہے۔  وزیر موصوف نے کہا کہ کامرس کے ایوان کا رول  کی اہمیت روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان نے جو اقدام کیے ہیں ان سے اس شاخ کا پتہ چلتا ہے جو وجود میں آئی ہے۔ ایوان نے حکومت کے تشویش والے میدانوں ، نچلی سطح پر مسائل اور تجارت میں حائل پریشانیوں کے اختراعی حل تلاش کرنے میں بہت ہی اہم رول ادا کیا ہے۔ نیز اُس نے کووڈ کے خلاف لڑائی کے اعتبار کو برقرار رکھا ہے۔</p>
<p dir="RTL">جناب گوئل نے کہا کہ ہم سب اپنے بزنس کو دوبارہ منصوبہ بند کرنے اور اس کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے  اور حکومت کے کام کرنے کے  طریقے کو دوبارہ تشکیل دینے ، پالیسیوں ، قوانین اور طریقۂ کار کو تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ان سبھی کو موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اہل  بنایا جائے۔  انہوں نے کہا کہ بزنس اور حکومت مل کر سماج کے پسماندہ طبقے اور ان لوگوں کے لیے جو آزادی کے بعد 73 سال سے فائدوں سے محروم رہے ہیں،  ایک بہتر مستقبل کے تئیں کام کر رہے ہیں۔  آیئے ہم  سماج کے سب سے نچلے طبقے کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کریں ۔ آیئے ہم ڈیجیٹل ٹکنالوجی کا استعمال کریں تاکہ ہم بزنس اور حکومت کے کاموں کی رفتار بہتر کر سکیں اور ایک ارب 30 لاکھ بھارتیوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اپنے معیار میں بہتری لائیں۔</p>
<p dir="RTL">وزیر موصوف نے کہا کہ یہ ایک ایسا وقت ہےکہ جب بھارتی تجارت کو صحیح معنوں میں صبر سے کام لینا ہوگا اور اپنے صبر کو کسوٹی پر کھڑا اتارنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پی پی  ای،  ماسک ، وینٹی لیٹرز اور دواؤں کے دنیا بھر سب سے بڑے  مصنوعات سازوں میں سے ایک ہیں اور ہم ان اشیاء کو برآمد بھی کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ  جب سختی کے ساتھ لاک ڈاؤن جاری تھا ہماری برآمدات  میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی  جس سے دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت ایک  قابل انحصار شراکت دار ہے۔</p>
<p dir="RTL">معیشت کے جلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بہت سارے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خراب ترین دن ختم ہو گئے ۔  اس سال ستمبر میں برآمدات ، پچھلے سال کی بنسبت 5 فیصد زیادہ تھیں۔ جی ایس ٹی وصولی پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے چار فیصد زیادہ ہے اور ریلوے کے محکمے نے 15 فیصد زیادہ مال بھاڑا  حاصل کیا ہے۔</p>
<p dir="RTL">اس بات کا یقین دلاتے ہوئے کہ بھارت ہمارے سبھی بزنس کی بحالی کو یقینی بنانے کی عہد بند ہے ۔ جناب گوئل نے کہا کہ یہ صنعت اور حکومت کی اجتماعی کوشش ہے جس کی وجہ سے بحالی کے مرحلے میں واپس آنے میں ہمیں مدد ملی ہے۔</p>
<p dir="RTL">جناب گوئل نے کہا کہ عالمی وبا نے دکھا دیا ہے کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کے پچھلے سال میں اقدامات کتنے اہم ہیں، جو انہوں نے بھارت کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے اور غریبوں کے طرز حیات کے معیار کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوچھتا مشن ، مفت گیس سلینڈرز کی سہولت ، غریبوں کو صحت کی سہولیات اور جن دھن کھاتے کھولنے ان سبھی سے خدمات کی بہتر فراہمی میں مدد ملی ہے۔</p>
<p dir="RTL">جناب گوئل نے کہا کہ وزیراعظم اصلاح، کارکردگی اور یکسر تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم نے کووڈ  کے موقعے کو زراعت، محنت ، کانکنی ، مارکیٹ اور بینکنگ کے اثاثے ، خلائی ٹکنالوجی  اور دفاع میں یکسر تبدیلی لانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے بھارت مستحکم ہوگا اور  استحکام کی پوزیشن سے ہمیں دنیا کے ساتھ سرگرم ہونے کے لیے تیار کرے گا۔</p>
<p dir="RTL">حال ہی میں کی گئی زرعی اصلاحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ یہ حقیقت کہ تقریباً 10 کروڑ کسان چھ ہزار روپے سالانہ حاصل کر رہے ہیں، یہ رقم  اناج کے شعبے میں بھارت کو خود کفیل بنانے میں ان کے بڑے تعاون کے تئیں احترام کے طور پر دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کسانوں کی اس بات کے لیے تعریف کی کہ انہوں نے بھارت کو زرعی اور ڈبہ بند خوراک  کی  مصنوعات  کا ایک بڑا برآمد کار ملک بنایا۔</p>.

Recommended