Urdu News

صدارتی انتخابات 2022 کے لیے پولنگ آج پرامن طریقے سے ہوئی

President of India

 

بھارت کے صدر کےدفتر، جو کہ ملک کا سب سے اعلیٰ انتخابی دفتر ہے، کے انتخاب کے لیے پولنگ  آج پارلیمنٹ ہاؤس اور این سی ٹی  دلی اورمرکز کے زیر انتظام علاقہ  پڈوچیری  کی اسمبلی  سمیت ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے 30 مقامات پر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی  ۔جمہوریہ  بھارت کے صدر کے عہدے کا انتخاب سب سے اہم انتخابات میں سے ایک ہے، جسے بھارت  کا الیکشن کمیشن بھارت  کے آئین کے آرٹیکل 324 کے ذریعے حاصل اختیار کے تحت منعقد کرتا ہے۔ 16ویں صدارتی انتخاب کے لیے دو امیدوار محترمہ  دروپدی مرمو اور جناب  یشونت سنہامدمقابل تھے۔ 31 مقامات پر صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک پولنگ ہوئی۔

EC-1.jpeg

آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق، بھارت  کے صدر کا انتخاب ایک الیکٹورل کالج کے اراکین کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں (الف) پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے منتخب اراکین، اور (ب) قومی راجدھانی خطہ دہلی اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری  سمیت تمام ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے منتخب اراکین شامل ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں یا این سی ٹی دلی اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری   سمیت ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے لیے نامزد  اراکین  الیکٹورل کالج میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں۔

صدر اور نائب صدر کے انتخابات کے ضوابط، 1974 کے ضابطہ  40 کے تحت، الیکشن کمیشن آف انڈیا کو الیکٹورل کالج کے اراکین کی فہرست  رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس فہرست میں راجیہ سبھا، لوک سبھا اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے منتخب اراکین، این سی ٹی دہلی کے  اور یو ٹی پڈوچیری کے منتخب اراکین کے نام  شامل ہیں۔ دو ممبران یعنی جناب اننت کمار سنگھ اور جناب مہندر ہری دلوی آج کے الیکشن میں ووٹ دینے کے اہل نہیں تھے، کیونکہ مجاز عدالت کے فیصلے کے بعد آر پی ایکٹ 1951 کی دفعہ 8 کے تحت انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ مزید برآں راجیہ سبھا میں 5 اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں 6 اسامیاں خالی ہیں۔ اس لیے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اس صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج کی فہرست میں کل 4796 رائے دہندگان  تھے۔

نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں کمرہ نمبر 63 اور این سی ٹی دلی و یوٹی پڈوچیری سمیت تمام ریاستی قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ  میں مزید 30 پولنگ اسٹیشنوں کو پولنگ کے مقامات کے طور پر طے  کیا گیا تھا۔ ممبران پارلیمنٹ نے نئی دہلی میں ووٹ ڈالاجبکہ  این سی ٹی دہلی اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری کی قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین سمیت  ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین نے ہر قانون ساز اسمبلی میں مقررہ جگہ پر ووٹ دیا۔ تاہم، کمیشن کی جانب سے کسی بھی رکن پارلیمنٹ/رکن  قانون ساز اسمبلی کو کمیشن کے قائم کردہ کسی دوسری  جگہ پر ووٹ ڈالنے کی سہولت  بھی فراہم کی گئی تھی  ۔ اس کے مطابق 44 اراکین پارلیمنٹ کو اسٹیٹ ہیڈ کوارٹر میں، 9 اراکین اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اور 2 اراکین اسمبلی کو دیگر ریاستی صدر دفتر میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ووٹ دینے کے حقدار کل 771 ارکان پارلیمنٹ (5 خالی) میں سے اور اسی طرح ووٹ کے حقدار قانون ساز اسمبلیوں کے کل 4025 ارکان (6 خالی اور 2 نااہل) میں سے 99 فیصد سے زیادہ نےآج  اپنا ووٹ ڈالا۔  تاہم چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، ہماچل پردیش، کیرالہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، منی پور، میزورم، پڈوچیری، سکم اور تمل ناڈو کے  اراکین اسمبلی کی طرف سے 100 فیصد ووٹ ڈالے جانے  کی اطلاع ہے۔

ووٹنگ کی رازداری اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کردہ چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • بیگنی  سیاہی کے منفرد سیریل نمبر والے قلم مرکزی طور پر الیکشن کمیشن کے ذریعہ فراہم کیے گئے تھے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ووٹر ووٹ کی ترجیح کے نشان کے لیے کوئی دوسرا آلہ استعمال نہ کرے۔
  • ای سی آئی کی طرف سے خصوصی قلم کے استعمال اور ووٹ ڈالنے کے لیے ووٹرز کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے اس سے متعلق خصوصی پوسٹرز پولنگ اسٹیشنوں کے باہر نمایاں جگہوں پر آویزاں کیے گئے تھے۔
  • مختلف واٹس ایپ گروپس آراو/اےآر او/سی ای او/ای سی آئی آفیسرز،ای سی آئی   آبزرورس، سیکورٹی پرسنز وغیرہ کے لیے بنائے گئے اور بڑے پیمانے پر ریاستی صدر دفتر، پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سرگرمیوں کی قریبی نگرانی اور ہم آہنگی کے لیے استعمال کیے گئے ۔
  • مبصرین کو ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں پول سیٹ اپ کے تمام مقامات پر تعینات کیا گیا تھا تاکہ انتخابی عمل پر نظر رکھی جا سکے اور ساتھ ہی انتخابی عمل کے دوران ہونے والی کسی بھی بے ضابطگی پر بھی نظر رکھی جا سکے۔
  • پارلیمنٹ ہاؤس میں گنتی کے عمل کے لیے 2 مبصرین بھی تعینات  کئے گئے ہیں۔

16ویں صدارتی انتخابات، 2022 کے لیے متعارف کرائی گئی نئی خصوصیات میں شامل ہیں:

    • کووڈ 19 پازیٹیو ووٹروں  کے لیے سہولت – کمیشن نے ان ووٹرز کو جو کووڈ 19 پازیٹیو  ہیں ، پولنگ کے آخری گھنٹے میں یا تمام غیر کووڈ ووٹرز کے ذریعے  اپنے ووٹ ڈال لینے  کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی / متعلقہ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ وقتا  فوقتا  طے  کردہ تمام رہنما خطوط/ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی ۔ تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی میں دو کووڈ 19 پازیٹیو  ووٹروں نے اپنا ووٹ ڈالا اور ایک کووڈ پازیٹیو رکن  پارلیمنٹ نے ترواننت پورم، کیرالہ میں اپنا ووٹ ڈالنے کا انتخاب کیا۔

EC-4.jpeg

    • اس بار کمیشن نے متعلقہ ریٹرننگ آفیسر اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ماحول دوست اور بایوڈیگریڈیبل مواد کے استعمال کو یقینی بنائیں اور حکومت ہند کی موجودہ ہدایات کے مطابق ممنوعہ پلاسٹک/مٹیریل کے استعمال کو ختم کریں۔

میگھالیہ میں گرین پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا۔

 

آئین کے آرٹیکل 55 (3) کے مطابق، بھارت  کے صدر کے دفتر کا انتخاب متناسب نمائندگی کے نظام کے مطابق واحد قابل منتقلی ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے اور ایسے انتخابات میں ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتی ہے۔ آئین (چواسیواں) ترمیمی ایکٹ، 2001 یہ التزام  کرتا ہے کہ سال 2026 کے بعد کی جانے والی پہلی مردم شماری کے اعداد و شمار شائع ہونے تک، صدارتی انتخابات کے لیے ووٹوں کی قدر کے حساب کتاب  کے لیےریاستوں کی آبادی سے مراد وہ آبادی ہو گی جس کا تعین  1971 کی مردم شماری کے بعد کیا گیا تھا۔

12 اور 13 جولائی 2022 کو ای سی آئی  سے ریاستوں تک خالی بیلٹ بکسوں کی ،پریشانی سے پاک نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اسی طرح 30 پولڈ بیلٹ بکسوں کو واپس لانے کے لیے ، ریاستی ٹیموں کے لئے نقل و حمل کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ تمام بیلٹ بکس اور دیگر انتخابی سامان 19 جولائی 2022 تک پارلیمنٹ ہاؤس یعنی گنتی کی جگہ پہنچ جائیں گے ۔ ووٹوں کی گنتی 21 جولائی 2022 کو 1100 بجے ہوگی۔

Recommended