بھارت کے صدرجمہوریہ نے،بھارتی بحریہ کے 22ویں میزائل ویسیل اسکویڈرن کو اسٹینڈرڈ سے نوازا

https://urdu.indianarrative.com/Ram-Nath-Kovind-2-webp.webp

بھارت کےصدر جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند

 بھارت کےصدر جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند نے آج (8دسمبر 2021) مہاراشٹر کے ممبئی میں بھارتی بحریہ کے 22ویں میزائل ویسیل اسکویڈرن  کو پریزیڈنٹس اسٹینڈرڈسے نوازا ۔

اس موقع  پر اظہار خیال کرتے ہوئے ، صدر جمہوریہ نے اس کا ر نمایاں کی  حصولیابی کے لئے 22ویں میزائل ویسیل اسکویڈرن سے وابستہ  تمام عہدے داران اور  جہا ز کے عملے کے ارکان کو مبارکباد پیش کی ۔انہوں نے کہا کہ اسٹینڈرڈ سے نوازا جانا ،اس  اسکویڈرن کے  عہدے داروں اور عملے کے ارکان کے ذریعہ ہمارے ملک کے لئے  ماضی اور حال میں انجام دی گئیں غیر معمولی  خدمات کا ایک ثبوت ہے۔

صدر جمہوریہ  نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اس اسکویڈرن   کے بحری جہازوں کو بڑی تعداد میں کارروائیوں کے لئے تعینات کیا گیا ہے اور یہ جہازمشن پر مبنی تعیناتیوں  کے ذریعہ ہماری سمندری سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں اور وہ خلیج عمان  اور خلیج فارس میں  سفارتی مشنوں    کو انجا م دیتے رہے ہیں اور بحری قذاقی مخالف کارروائیاں  بھی انجام دے رہے ہیں۔

صدرجمہوریہ  نے کہا کہ بھارت  ایک سمندری  ملک ہے اور بھارتی بحریہ  کا ہماری خارجہ پالیسی  کو  تقویت بہم پہنچانے اور  ہمارے  قومی مفادات   اور تجارتی  خواہشات   کے تحفظ میں ایک زبردست کردار ادا کررہے ہیں۔یہ بہت  اطمینان کی بات ہے کہ بھارتی بحریہ عزم مصمم کے  ساتھ ہمارے  وسیع بحری مفادات کا  کامیابی کے ساتھ تحفظ کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بحری تجارت  کا ایک بڑا حصہ  بحرہند خطےسے ہوکر گزرتا ہے،اس لئے اس خطے میں امن اور سکون برقراررکھنا ، نہ صرف ہمارے لئے بلکہ  پور ی عالمی برادری کے لئے بھی  سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں سب سے بڑی بحریاؤں  میں سے ایک ہونے کے ناطے ، بھارتی بحریہ  کو ہمارے سمندری  پڑوسی ملک ، بحر ہند خطے میں  ایک ترجیحی  سکیورٹی  ساجھیدار  کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔

صدرجمہوریہ نے کہا کہ بھارت ، بحرالکاہل خطے  میں سامنے آنے والی جغرافیائی سیاست سےمتعلق چنوتیاں ، بھارت کو ایک بنیادی کردار اداکرنے کا موقع  پیش  کرتی ہیں۔

انہوں نے زوردے کر کہا کہ اس خطے کی سرکردہ  بحریاؤں  میں شمار ہونے والی ایک بحریہ کی حیثیت سے  بھارتی بحریہ نے  تمام علاقائی  عہدبندگیوں  کے تقاضوں   کی تکمیل   نیز انڈو-پیسفک (بھارت – بحرالکاہل  ) خطے میں اپنے شراکتداروں  کے ساتھ   استوار روابط کو   مزید تقویت بخشنے کے لئے   خاطر خواہ کوششیں کی ہیں۔