Urdu News

وزیر اعظم کا قوم سے خطاب

@PMO India

وزیر اعظم نے وبائی مرض کے دوران ہلاک ہونے والوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا۔ وبائی مرض کو گزشتہ سو سالوں کی سب سے بڑی آفت قرار دیتے ہوئے، جو جدید دنیا میں نہ تو دیکھی گئی تھی اور نہ ہی اس کا تجربہ کیا گیا تھا، وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نے وبائی مرض کے خلاف کئی محاذ پر لڑائی لڑی۔ جناب مودی نے کئی اہم اعلانات کیے۔

چوں کہ کئی ریاستوں نے ٹیکہ کاری کی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے اور یکم  جولائی سے پہلے والے نظام کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا، لہٰذا وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 25 فیصد ٹیکہ کاری جو ریاستوں کے سپرد تھی، وہ اب حکومت ہند کے ذریعے کرائی جائے گی۔ اسے دو ہفتوں میں شروع کیا جائے گا۔ دو ہفتوں میں، مرکز اور ریاستیں نئی گائیڈ لائنس کے مطابق ضروری تیاریاں کریں گی۔ وزیر اعظم نے مزید اعلان کیا کہ 21 جون کے بعد، حکومت ہند 18 سال سے زیادہ عمر کے سبھی ہندوستانی شہریوں کو مفت ٹیکہ فراہم کرائے گی۔ حکومت ہند ویکسین تیار کرنے والوں سے ان کی کل پیداوار کا 75 فیصد خریدے گی اور ریاستوں کو مفت فراہم کرے گی۔ کوئی بھی ریاست ٹیکوں پر کچھ بھی نہیں خرچ کرے گی۔ ابھی تک، کروڑوں لوگوں کو مفت ٹیکے لگ چکے ہیں، اب اس میں 18 سال سے زیادہ عمر والوں کو شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے زور دیکر کہا کہ حکومت ہند تمام شہریوں کو مفت ٹیکہ مہیا کرائے گی۔

جناب مودی نے بتایا کہ پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعے 25 فیصد ٹیکے براہ راست خریدنے کا سلسلہ حسب معمول جاری رہے گا۔ ریاستی حکومتیں اس بات کی نگرانی کریں گی کہ پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعے ٹیکہ کی طے شدہ قیمت کے اوپر صرف 150 روپے کا سروس چارج لیا جا رہا ہے۔

ایک اور بڑا اعلان کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ پردھان منتری غریب کلیان یوجنا دیوالی تک جاری رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نومبر تک، 80 کروڑ لوگوں کو ہر مہینے پہلے سے طے شدہ مقدار میں اناج ملتا رہے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وبائی مرض کے دوران، حکومت غریبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان کی دوست بن کر کھڑی ہے۔

اپریل اور مئی میں دوسری لہر کے دوران طبی آکسیجن کی مانگ میں غیر متوقع اضافہ کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس چیلنج کا سامنا جنگی سطح پر کیا گیا اور اس کے لیے حکومت کے تمام سسٹم کو بروئے کار لایا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں طبی آکسیجن کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر کبھی مانگ نہیں کی گئی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر ٹیکہ تیار کرنے والی کمپنیوں اور ممالک کے پاس ٹیکے عالمی مانگ کے مقابلے کافی کم ہیں۔ ایسے میں میڈ ان انڈیا ویکسین ہندوستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں ہندوستان کو، ملک سے باہر تیار ہونے والے  ٹیکے بننے کے کئی دہائیوں بعد  حاصل ہوا کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ ماضی میں ہندوستان میں ٹیکہ کاری ابھی شروع بھی نہیں ہوتی تھی کہ دیگر ممالک اپنے یہاں ٹیکہ لگانے کا کام پورا کر لیا کرتے تھے۔ جناب مودی نے کہا کہ مشن موڈ میں کام کرنے سے، ہم نے 6-5 سالوں میں ٹیکہ کاری کی کوریج  کو 60 فیصد سے بڑھاکر 90 فیصد کر دیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے نہ صرف رفتار میں اضافہ کیا ہے، بلکہ ٹیکہ کاری کے دائرہ کار  کو بھی وسیع کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس بارہندوستان نے تمام قیاس آرائیوں کو جھوٹا ثابت کر دیا، اور صاف نیت، واضح پالیسی اور مسلسل کڑی محنت سے ایک ہی نہیں، بلکہ کووڈ کے لیے دو میڈ ان انڈیا ویکسین ہندوستان میں شروع کی گئی۔ہمارے سائنس دانوں نے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا۔ ملک میں آج تک، 23 کروڑ سے زیادہ ٹیکے کی خوراک دی جا چکی ہے۔

وزیر اعظم نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین ٹاسک فورس کی تشکیل اسی وقت ہو گئی تھے جب کووڈ-19 کے کچھ ہی ہزار معاملے تھے اور ویکسین کمپنیوں کو حکومت کی طرف سے ہر ممکن طریقے سے تحقیق و ترقی کے لیے ٹرائل اور فنڈنگ میں مدد فراہم کی گئی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ پوری کوشش اور سخت محنت کی وجہ سے، آنے والے دنوں میں ٹیکہ کی سپلائی میں اضافہ ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج، سات کمپنیاں الگ الگ قسم کے ٹیکے تیار کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ مزید تین ٹیکوں کا ٹرائل ایڈوانس مرحلہ میں ہے۔ وزیر اعظم نے بچوں کے لیےدو ٹیکے اور ایک ’ناک کی ویکسین‘ کے ٹرائل کے بارے میں بھی بتایا

وزیر اعظم نے ٹیکہ کاری کی مہم پر متعدد گوشوں سے آنے والی الگ الگ آراء پر روشنی ڈالی۔ کورونا کے معاملے میں جب کمی آنے لگی، تو ریاستوں کے لیے متبادل کی کمی کو لیکر سوالات کھڑے ہونے لگے اور کچھ لوگوں نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ ہر فیصلہ مرکزی حکومت ہی کیوں لے رہی ہے۔لاک ڈاؤن میں نرمی اور ایک ہی سائز سب پر فٹ نہیں ہوتا، جیسی دلیلیں دی جانے لگیں۔ جناب مودی نے کہا کہ 16 جنوری سے اپریل کے آخر تک، ہندوستان کی ٹیکہ کاری مہم اکثر و بیشتر مرکزی حکومت کے ذریعے چلائی گئی ہے۔ سبھی کے لیے مفت ٹیکہ آگے بڑھ رہا تھا اور اپنی باری آنے پر لوگ مہذب طریقے سے ٹیکہ لگوا رہے تھے۔ ان تمام چیزوں کے دوران ٹیکہ کاری کی لامرکوزیت کا یہ مطالبہ پیش کیا گیا، مخصوص عمر کے لوگوں کو ترجیح دینے کے فیصلہ پر سوال اٹھائے گئے۔ کئی طریقے سے دباؤ ڈالے گئے اور میڈیا کے کچھ حصوں نے اسے مہم کے طور پر چلایا۔

وزیر اعظم نے ٹیکہ کاری کے خلاف افواہ پھیلانے والوں کو متنبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے افراد، لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہے ہیں، جن سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

Recommended