Urdu News

آج چنئی میں آیوش کے لیے خام ادویات کے علاقائی گودام  کی شروعات کی گئی

آج چنئی میں آیوش کے لیے خام ادویات کے علاقائی گودام  کی شروعات کی گئی

<div class="pull-right">
<div class="print-icons"></div>
</div>
<div class="innner-page-main-about-us-content-right-part">
<div class="text-center">
<h2>آج چنئی میں آیوش کے لیے خام ادویات کے علاقائی گودام  کی شروعات کی گئی
<span id="ltrSubtitle"></span></h2>
</div>
<div class="ReleaseDateSubHeaddateTime text-center pt20"></div>
<div class="pt20"></div>
<p dir="RTL">     آیوش کے مرکزی وزیر اور دفاع کے وزیر مملکت جناب شری پد یسونائک نے آج ایک ورچوئل تقریب کے ذریعے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سدھا میں  ا ٓیوش کے لیے  خام ادویات کے علاقائی گودام (آر آر ڈی آر)کا افتتاح کیا۔ آیوش کی وزارت کے سکریٹری جناب ویدیہ راجیش کوٹیچہ نے پروگرام کی صدارت کی۔</p>
<p dir="RTL">آر آر ڈی آرایس قومی آیوش مشن کی مرکزی نگرانی والی اسکیم کے اہم حصوں کی حیثیت رکھتے ہیں جو ادویات میں استعمال ہونے والے پودوں کی کاشت میں اہم رول ادا  کرتےہیں۔ اس سلسلےمیں آیوش کی وزارت نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے  نیشنل  میڈی دیسیدینل پلانٹس بورڈ کے ذریعے نیشنل راڈرگ ریپوزیٹری اور ریجنل را ڈرگ ریپوزیٹریز کے قیام کی شروعات کی ہے۔ این ایم پی بی نے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سدھا کی نشاندہی کی ہے۔ جس کے ساتھ چنئی کا ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن اور چنئی کا سدھا سینٹرل ریسرچ  انسٹی ٹیوٹ  تال میل کے اداروں کے طو رپر کام کریں گے۔ آر آر ڈی آر زرعی آب وہوا والے علاقے یعنی جنوبی سطح مرتفع کے علاقے سے حاصل ہونے والی خام ادویات کو جمع کرنے، ان کو دستاویزی شکل دینے اور ان کی توثیق کے لیے نمایاں رول ادا کرے گا۔</p>
<p dir="RTL">پوری دنیا میں صحت کی دیکھ بھال کے روایتی اور متبادل نظام پر دوبارہ سے توجہ مرکز کی جارہی ہے۔ بھارت میں ہم لوگ خوش قسمت ہیں کہ ہمارے روایتی طریقہائے علاج کا تعلق 3000 سال سے بھی پہلے کا ہے اور ان کو بڑے پیمانے پر سماجی قبولیت حاصل ہے۔ آیوروید سدھا اور یونانی طریقہائے علاج  ہماری آبادی کے بڑے طبقے تک قابل رسائی ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دور دراز اور اندرونی علاقوں میں رہتے ہیں۔</p>
<p dir="RTL"> ہمارے علاج کے روایتی  طریقوں میں دواؤں میں کام آنے والے پودے ایک بڑے ذریعے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی افادیت میں وبائی بیماری کے پس منظر کے دوران خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے ان ادویات کے احتیاطی اثرات کا۔ آیوش طریقہائے علاج کی پہنچ اور قبولیت جس میں قومی اور عالمی دونوں سطح کی قبولیت شامل ہے وہ  خام مال پر مبنی اعلیٰ معیار کی دواؤں کی خصوصیات رکھنے والے پودوں کی فراہمی پر منحصر ہے۔ ہماری خام ادویات آسانی کے ساتھ مل جاتی ہیں لیکن ان کے سلسلے میں سائنسی دستاویزات موجود نہیں ہیں جن کی وجہ سے ان ادویات کے بارے میں تحقیقات میں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان ادویات کے تجارتی  استعمال کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔</p>
<p dir="RTL">خام ادویات کے بارے میں مستند سائنسی معلومات کی آسانی کے ساتھ فراہمی سے آیوش طریقہائے علاج کے متعلق ادویات کی تحقیق کو فروغ حاصل ہوگا جس سے ان طریقہائے علاج کی مزید تشہیر کی جاسکے گی۔</p>
<p dir="RTL">علاج کے روایتی  طریقوں کے فروغ اور ان کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر اسپتالوں، ڈسپنسریوں، دواساز اور دواساز اداروں کا زبردست بنیادی ڈھانچہ موجود ہو تاکہ معیاری ادویات تیار کی جاسکیں اور انھیں تقسیم کیا جاسکے۔ البتہ ان یونٹوں کی طرف سے تیار کردہ ادویات کے معیار کا انحصار تیاری کے اس طریقہ کار پر منحصر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے اور خام مال کے معیار پر بھی منحصر ہے۔ حکومت نے  دوائیں تیار کرنے والے تمام یونٹوں کے لیے  یہ لازمی بنا دیا ہے کہ وہ ڈرگس اور کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے شیڈول ٹی  میں درج شدہ اچھی ادویات تیار کرنے کی کارروائیوں کی پابندی کریں۔ لیکن چونکہ ادویات کی 90 فیصد تیاری کا انحصار پودوں پر ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلیٰ معیار کے خام مال کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p dir="RTL">آر آر ڈی آر نہ صرف  جنوبی علاقے میں فراہم خام ادویات کے جمع کرنے کے مراکز کے طور پر کام کریں گے بلکہ خام ادویات کی توثیق کے لیے ایک ملحق حوالہ جاتی لائبریری کے طو رپر بھی کام کریں گے اور جڑی بوٹیوں سے متعلق صنعتوں میں استعمال ہونے والی خادم ا دویات کی توثیق میں بھی اہم ثابت ہوں گے۔ اس پروجیکٹ کے سربراہ پرنسپل انویسٹی گیٹرس کے طورپر این آئی ایس کی ڈائرکٹر ڈاکٹر آر مینا کماری ہوں گی جبکہ ساتھی انویسٹی گیٹرس کے طور پر  آر آر آئی یوایم کے سربراہ ڈاکٹر ظہیر احمد اور ایس سی آر آئی کے ڈائرکٹر (انچارج) ڈاکٹر ستیہ راجیسورن کام کریں گے۔</p>

</div>.

Recommended