کورونا کے چیلنج پر مذہبی پیشواؤں کی وزیر اعظم کے ساتھ آن لائن گفتگو

https://urdu.indianarrative.com/Modi.jpg

@PMO India

وزیراعظم نے مذہبی پیشواؤں سے ویکسی نیشن کے بارے میں لوگوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کام کرنے کا مشورہ دیا۔

 

 مذہبی رہنماؤں، پیشواؤں اور مذہبی تنظیموں کا مشترکہ نمائندہ فورم ”دھارمک جن مورچہ“ کے زیر اہتمام محترم وزیر اعظم کے ساتھ گیارہ مذہبی رہنماؤں کی ایک آن لائن گفتگو کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ گفتگو کا مرکزی موضوع ”کورونا وبائی امراض کے چیلنجز: مذہبی تنظیموں اور حکومتوں کی مشترکہ کوششیں“ تھا۔

 اس پروگرام میں مذہبی پیشوا شنکر اچاریہ ا شری اونکانند سرسوتی(پریاگ پیٹھ)، پیٹھا دھیس گوسوامی سشیل جی مہاراج، گلتا پیٹھا دھیش او دیھشاچاریہ جی، گردوارہ بنگلہ صاحب کے چیف گرنتھی گیانی رنجیت سنگھ جی، فادر ڈاکٹر ایم ڈی تھا مس، آ چاریہ ویویک مونی جی، برہما کماری بہن بی کے آشا، رام کرشن مشن کے سوامی شانت آتما نند جی، روی داسیا دھرم سنگٹھن کے سوامی ویر سنگھ ہتکار ی جی، بہائی دھرم کے ڈاکٹر اے کے مرچنٹ اور جماعت اسلامی ہند کے پروفسیر محمد سلیم انجینئر نے حصہ لیا۔

یہ گفتگو تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک چلی۔ تمام مذہبی پیشواؤں نے پہلے اپنے خیالات اور تجاویز پیش کئے۔ اس کے بعد معزز وزیر اعظم نے مذہبی پیشواؤں کے خیالات و تجاویز سننے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے  ہوئے کہا کہ مذہبی پیشواؤں اور سرکار کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور آپ اپنی اپنی ریا ستی سرکاروں سے بھی مسلسل رابطے میں رہیں۔ انہوں نے مذہبی پیشواؤں کو  ویکسینیشن  کے بارے میں لوگوں میں  پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کے لئے بھی کام کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے آزادی کے 75 سالہ پروگراموں کا حصہ بننے اور ان میں تعاون دینے کی بھی بات کہی۔ انہوں نے مذہبی پیشواؤں سے ”ایک ہندوستان،سریسٹھ ہندوستان“ کے لیے مل جل کر کام کرنے کی بھی اپیل کی۔

 مذہبی پیشواؤں کی جانب سے جو تجاویزو خیالات پیش کئے گئے ان میں سے کچھ اہم یہ ہیں:

(الف) کوروونا کے ان سنگین حالات کا مقابلہ اکیلے حکومت نہیں کرسکتی۔ سبھی مذہبی پیشواؤں، اداروں اور سماجی تنظیموں اور حکومتوں کو ہر سطح پر مل جل کر کام کرنا ضروری ہوگا۔

 (ب) اس بڑے چیلنج کا مقابلہ تب ہی کامیابی سے کیا جاسکتا ہے جب ملک میں آپسی محبت، نیک نیتیاور اعتماد مضبوط ہو اور کوئی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔ اس سلسلے میں مذہبی پیشوا اور سرکار دونوں اپنے اپنے حلقوں میں سخت محنت کریں۔ باہمی محبت اور ہم آہنگی کو کمزور کرنے اور آپس میں نفرت پھیلانے والوں کو سماجی سطح پر مذہبی پیشوا اور ادارے اور حکومتی سطح پر ریاست و مرکز کی سرکاریں روکنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔

 (ج)  ویکسی نیشن  کے پروگرام کو اور زیادہ تیز کرنے کی ضرورت ہے۔  مذہبی پیشوا اس کے لئے بیداری مہم کو سماج میں چلائیں اور سرکار ویکسین کی دستیابی کو تیز رفتار ی کے ساتھ یقینی بنانے کی کوشش کرے۔

(د)  اس وبا کے دوران ہوئے نقصان سے سبق لیتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ سرکاری طبی سہولتوں کو کئی گنا بڑھا ئیں۔ریاستی و مرکزی سرکاروں کے بجٹ میں طبی سہولیات کے لیے بجٹ میں بڑا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

 (ھ) دوسری لہر کے دوران دواؤں اور طبی سہولتوں کی کالابازاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعہ مجبوری کا فائدہ اٹھاکر بڑی بڑی رقم میں وصول کرنے کے واقعات بڑی تعداد میں سامنے آئے تھے، مستقبل میں ایسا نہ ہو، اس کے لئے مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی جانب سے سخت قدم اٹھائے جانے چاہیے۔

 (و) دوسری لہر کے دوران بھی مندر، مسجد، چرچ، گرودوارہ، آشرم، درگاہیں و دیگر مذہبی مقامات انسانی خدمات کے مراکز بن گئے تھے۔ سرکاری اداروں کی مدد سے خدمات کے یہ کام اور بڑے پیمانے پر کئے جا سکتے ہیں، اس کے لئے مذہبی پیشوا اور سرکاریں مل کر کام کریں۔

 (ز)  دوسری لہر کے دوران بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا اور دیگر کئی کمیاں سامنے آئیں۔ عوام کی جانب سے کوویڈ ہدایات کی تعمیل میں لاپرواہی ہوئی اور ہم بڑی بھیڑ والے مذہبی و سیاسی پروگراموں کو روکنے میں ناکام رہے۔ ان سب پہلوؤں کا ایمانداری سے تجزیہ کرکے مستقبل میں نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کے لئے قدم اٹھائیں جائیں۔

 (ح)  دھرم اچاریوں نے تباہی کے اخلاقی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کے وجوہات میں سے ایک وجہ بنی نوع انسان کی طرف سے قدرتی وسائل کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والا عدم توازن ہے، تو دوسری طرف سماج میں بے حیائی،  بدکرداری، ناانصافی، مظالم، استحصال، تشدد اور جانبداریت بھی اس کا ایک سبب ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم انفرادی طور پر، اجتماعی طور پر اور سرکاری سطح پر ایمانداری سے اپنی اپنی غلطیوں کا جائزہ لے کر ان پر پشیماں ہوں، رب سے معافی مانگیں  اور اپنے اندر اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ امید ہے کہ رب ہمیں معاف کرکے ہم پر مہربانی کریں گے اور کورونا مہاماری کی آفت سے ہمیں نجات دیں گے۔

(و)  سرکار اور عام مذہبی و سماجی تنظیموں کے ساتھ بوقت ضرورت مشاورت اورباہمی  گفت و شنید کے ذریعہ عوام کے حقیقی حالات و مسائل سامنے آتے ہیں۔وزیر اعظم کا یہ اقدام خوش آئند ہے، اسے جاری رکھنا ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے اور مفید بھی۔