Urdu News

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ


پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ

راجیہ سبھا میں اہم اپوزیشن کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی بروز بڑھتی قیمتوں کے سلسلے میں منگل کو راجیہ سبھا میں ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

صبح گیارہ بجے وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈر ملک ارجن کھڑکے، بہوجن سماج پارتی کے ستیش چندر مشرا، شیو سینا کی پرینکا چترویدی اور ڈی ایم کے کے تروچی شیوا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ضابطہ 267 کے تحت کام ملتوی کرنے کی تحریک دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو نے کل ہی ضابطہ 267 پر انتظام دیا تھا۔ اسپیکر کی اجازت کے بغیر ضابطہ 267 پر بحث نہیں ہوسکتی۔ اس دوران اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان ایوان کے بیچ میں آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ تقریباً 20 منٹ کی کارروائی کے بعد ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

لوک سبھا میں مہنگائی کے معاملے پر اپوزیشن نے بجٹ اجلاس کے دوسرے دن بھی آج زبردست ہنگامہ کیا جس کے سبب وقفہ سوال کے بعد وقفہ صفر بھی متاثر رہا اور پریذائڈنگ آفیسر میناکشی لیکھی کو ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔
جیسے ہی محترمہ لیکھی نے ایک بار ملتوی ہونے کے بعد 12 بجے ایوان کی کارروائی کا آغاز کیا، اپوزیشن کے ارکان ایوان کے وسط میں آکر نعرے بازی اور ہنگامہ کرنے لگے۔

 پریذائڈنگ آفیسر نے ضروری دستاویزات ایوان میں پیش کئے اور ممبروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی جگہ پر جائیں اور کارروائی کو آسانی سے چلنے دیں۔ ان کی اپیل پر ارکان نے توجہ نہیں دی اور پر ہنگامہ اور نعرے بازی جاری رہی۔ جب ہنگامہ نہ رکا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے محض پانچ منٹ کے دوران دوبارہ دو بجے تک ملتوی کردی۔

اس سے قبل جیسے ہی صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن ممبران نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آگئے۔ اسپیکر اوم برلا نے انھیں خاموش رہنے اور وقفہ سوال چلنے دینے کے لیے کہا، لیکن کسی نے بھی ان کی بات نہ مانی اور ہنگامہ کرتے رہے۔ ادھر ایوان میں کانگریس کے لیڈر ادیر رنجن چودھری نے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے ممبروں کے خلاف ’’ڈیجیٹل‘‘ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

 ہم ایوان میں جو بھی مسئلہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ ٹی وی پر نہیں دکھایا جاتا ہے۔ تمام ممبروں کے حقوق ایک جیسے ہیں لیکن ہم جو بھی کہنا چاہتے ہیں ہمیں بلیک آوٹ کردیا جاتا ہے۔ ایوان کی کارروائی کے دوران کیمرہ سب پر ہونا چاہئے‘‘۔
مسٹر چودھری کے اعتراض کے جواب میں مسٹر برلا نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم ملک کو دکھائیں کہ آپ ایوان میں ہنگامہ کررہے ہیں؟‘‘

پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے بھی شور شرابے کو غلط بتایا اور کہا کہ اپوزیشن اراکین، پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ شور اور ہنگامہ کرتے ہیں جو نامناسب ہے۔ اسی دوران جیسے ہی ہنگامے میں اضافہ ہوا تو اسپیکر نے ایوان کو کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردی۔

Recommended