Urdu News

نئے سی این جی پمپوں کی تعمیر

Setting up of New CNG Pumps

 

 

پٹرولیم اور قدرتی گیس سے متعلق انضباطی بورڈ (پی این جی آر بی)، پی این جی آر بی قانون مجریہ 2006 کے مطابق جغرافیائی علاقوں (جی اے ایس) میں شہر میں گیس کے نظام تقسیم ( سی جی ڈی) یا مقامی قدرتی گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک کی ترقی کے مقصد سے مختلف اداروں کو اس کی تعمیر، کام کاج اوراس کی توسیع کی غرض سے اجازت جاری کرنے والی اتھارٹی ہے۔

سی جی ڈی اداروں کو جاری اجازت کے مطابق کم از کم کام کے پروگرام (ایم ڈبلیوپی) کے تحت تمام 27 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام تین علاقوں میں آٹھ سے دس سال کی مدت کے دوران 8181 سی این جی پمپوں کی تعمیر لازمی ہے۔

سردست مدھیہ پردیش ریاست میں کم از کم کام کے پروگرام ایم ڈبلیو پی کے تحت آٹھ تا دس سال کی مدت کے دوران مجاز ضلعوں میں 417 سی این جی اسٹیشن تعمیر کرنا لازمی ہے۔ فی الحال پی این جی آر بی نے کسی بھی ادارے کو چھتیس گڑھ ریاست میں کسی بھی جغرافیائی علاقے میں سی جی ڈی  نیٹ ورک  تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایم ڈبلیو پی کے تحت سی این جی اسٹیشنوں کی تفصیلات، تعلیقہ میں دی گئی ہیں۔

سی جی ڈی ادارے کام سے متعلق اپنے منصوبے اور تکنیکی اور تجارتی اعتبار سے قابل عمل ہونے کی صورت کے مطابق قومی شاہراہوں سے متصل علاقوں میں بھی سی این جی پمپ تعمیر کرتے ہیں ۔ ملک میں کمپریسڈ قدرتی گیس (سی این جی) اسٹیشنوں کی کل تعداد کی ریاست وار فہرست تعلیقہ میں دی گئی ہے۔ یہ لسٹ  https://www.pngrb.gov.in/data-bank/PNG.CNG. پربھی دستیاب ہے۔

 

نمبرشمار

ریاستیں / مرکز کے زیرانتظام علاقے

 (منظوری والے ضلعوں میں)

سی این جی اسٹیشنز

 

موجودہ

(31.12.2020)

کم از کم کام کے منصوبہ کے مطابق

  1.  

آندھرا پردیش

72

426

 

  1.  

آندھرا پردیش،تملناڈو اور کرناٹک

251

  1.  

آسام

1

72

  1.  

بہار

10

459

  1.  

بہار اور جھارکھنڈ

37

  1.  

چنڈی گڑھ (مرکز کے زیرانتظام علاقہ )

8

  1.  

دمن اینڈ دیو اور گجرات

35

  1.  

دادر و نگر حویلی

7

  1.  

دمن اینڈ دیو

5

  1.  

گوا

4

 
  1.  

گجرات

731

140

  1.  

ہریانہ

147

277

  1.  

ہریانہ  اورہماچل پردیش

45

  1.  

ہریانہ  اور پنجاب

54

  1.  

ہماچل پردیش

2

10

  1.  

جھارکھنڈ

13

179

  1.  

کرناٹک

44

811

  1.  

کیرالہ

14

763

  1.  

کیرالہ اور پودوچیری

185

  1.  

مدھیہ پردیش اور راجستھان

54

  1.  

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ

20

  1.  

مدھیہ پردیش اوراترپردیش

34

  1.  

مدھیہ پردیش

78

309

  1.  

مہاراشٹر اورگجرات

156

  1.  

مہاراشٹر

423

225

  1.  

خطہ قومی راجدھانی دہلی (مرکز کے زیرانتظام علاقہ)

424

  1.  

اڈیشہ

19

116

  1.  

پڈوچیری اور تملناڈو

27

  1.  

پڈوچیری

130

  1.  

پنجاب

80

278

  1.  

راجستھان

49

576

  1.  

تاملناڈو

3

872

  1.  

تلنگانہ

74

268

  1.  

تریپورہ

11

12

  1.  

اترپردیش

384

785

  1.  

اترپردیش اور اتراکھنڈ

91

  1.  

اتراکھنڈ

11

50

  1.  

مغربی بنگال

8

480

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پی این جی آر بی کے ذریعہ اجازت شدہ کچھ جی ایز ایک سے زیادہ ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

 

پٹرولیم اورقدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندرپردھان نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی۔


پٹرولیم اور قدرتی گیس سے متعلق انضباطی بورڈ (پی این جی آر بی)، پی این جی آر بی قانون مجریہ 2006 کے مطابق جغرافیائی علاقوں (جی اے ایس) میں شہر میں گیس کے نظام تقسیم ( سی جی ڈی) یا مقامی قدرتی گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک کی ترقی کے مقصد سے مختلف اداروں کو اس کی تعمیر، کام کاج اوراس کی توسیع کی غرض سے اجازت جاری کرنے والی اتھارٹی ہے۔

سی جی ڈی اداروں کو جاری اجازت کے مطابق کم از کم کام کے پروگرام (ایم ڈبلیوپی) کے تحت تمام 27 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام تین علاقوں میں آٹھ سے دس سال کی مدت کے دوران 8181 سی این جی پمپوں کی تعمیر لازمی ہے۔

سردست مدھیہ پردیش ریاست میں کم از کم کام کے پروگرام ایم ڈبلیو پی کے تحت آٹھ تا دس سال کی مدت کے دوران مجاز ضلعوں میں 417 سی این جی اسٹیشن تعمیر کرنا لازمی ہے۔ فی الحال پی این جی آر بی نے کسی بھی ادارے کو چھتیس گڑھ ریاست میں کسی بھی جغرافیائی علاقے میں سی جی ڈی  نیٹ ورک  تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایم ڈبلیو پی کے تحت سی این جی اسٹیشنوں کی تفصیلات، تعلیقہ میں دی گئی ہیں۔

سی جی ڈی ادارے کام سے متعلق اپنے منصوبے اور تکنیکی اور تجارتی اعتبار سے قابل عمل ہونے کی صورت کے مطابق قومی شاہراہوں سے متصل علاقوں میں بھی سی این جی پمپ تعمیر کرتے ہیں ۔ ملک میں کمپریسڈ قدرتی گیس (سی این جی) اسٹیشنوں کی کل تعداد کی ریاست وار فہرست تعلیقہ میں دی گئی ہے۔ یہ لسٹ  https://www.pngrb.gov.in/data-bank/PNG.CNG. پربھی دستیاب ہے۔

 

نمبرشمار

ریاستیں / مرکز کے زیرانتظام علاقے

 (منظوری والے ضلعوں میں)

سی این جی اسٹیشنز

 

موجودہ

(31.12.2020)

کم از کم کام کے منصوبہ کے مطابق

  1.  

آندھرا پردیش

72

426

 

  1.  

آندھرا پردیش،تملناڈو اور کرناٹک

251

  1.  

آسام

1

72

  1.  

بہار

10

459

  1.  

بہار اور جھارکھنڈ

37

  1.  

چنڈی گڑھ (مرکز کے زیرانتظام علاقہ )

8

  1.  

دمن اینڈ دیو اور گجرات

35

  1.  

دادر و نگر حویلی

7

  1.  

دمن اینڈ دیو

5

  1.  

گوا

4

 
  1.  

گجرات

731

140

  1.  

ہریانہ

147

277

  1.  

ہریانہ  اورہماچل پردیش

45

  1.  

ہریانہ  اور پنجاب

54

  1.  

ہماچل پردیش

2

10

  1.  

جھارکھنڈ

13

179

  1.  

کرناٹک

44

811

  1.  

کیرالہ

14

763

  1.  

کیرالہ اور پودوچیری

185

  1.  

مدھیہ پردیش اور راجستھان

54

  1.  

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ

20

  1.  

مدھیہ پردیش اوراترپردیش

34

  1.  

مدھیہ پردیش

78

309

  1.  

مہاراشٹر اورگجرات

156

  1.  

مہاراشٹر

423

225

  1.  

خطہ قومی راجدھانی دہلی (مرکز کے زیرانتظام علاقہ)

424

  1.  

اڈیشہ

19

116

  1.  

پڈوچیری اور تملناڈو

27

  1.  

پڈوچیری

130

  1.  

پنجاب

80

278

  1.  

راجستھان

49

576

  1.  

تاملناڈو

3

872

  1.  

تلنگانہ

74

268

  1.  

تریپورہ

11

12

  1.  

اترپردیش

384

785

  1.  

اترپردیش اور اتراکھنڈ

91

  1.  

اتراکھنڈ

11

50

  1.  

مغربی بنگال

8

480

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پی این جی آر بی کے ذریعہ اجازت شدہ کچھ جی ایز ایک سے زیادہ ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

 

پٹرولیم اورقدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندرپردھان نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی۔

Recommended