Urdu News

شری کرشن جنم بھومی معاملہ: عیدگاہ مسجد کو سیل کرنے کے مطالبے پر یکم جولائی کو سماعت

شری کرشن جنم بھومی معاملہ

ایڈوکیٹ مہیندر پرتاپ سنگھ نے شری کرشن جنم استھان-شاہی عیدگاہ کیس کے سلسلے میں سول جج سینئر ڈویڑن کی عدالت میں دائر مقدمے کے بعد منگل کو عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شاہی مسجد میں موجود ثبوتوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ گیانواپی کمپلیکس میں شیولنگ ملنے کے بعد عیدگاہ کمیٹی عیدگاہ کے مرکزی علاقے سے شواہد مٹا سکتی ہے۔ اس لیے اس علاقے کو سیل کرکے اسپیشل سیکورٹی آفیسر کا تقرر کیا جائے اور کسی کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد اگلی سماعت کے لیے یکم جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

واضح رہے کہ ایڈوکیٹ مہندر پرتاپ سنگھ نے عدالت میں ایک مقدمہ دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ شری کرشن جنم بھومی ٹرسٹ کو شری کرشن جنم بھومی کمپلیکس میں واقع شاہی مسجد عیدگاہ کو ہٹا کر پوری زمین سونپ دی جائے۔ نارائنی سینا، آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے قومی صدر منیش یادو، خزانچی دنیش شرما اور شری کرشنا جنم بھومی مکتی نیائے کے قومی صدر ایڈوکیٹ مہیندر پرتاپ سنگھ نے شری کرشن جنم بھومی میں شاہی عیدگاہ میں سروے کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان لوگوں نے عدالت میں درخواست دے کر کہا کہ شاہی عیدگاہ کمپلیکس کا بھی ایڈووکیٹ کمیشن سے سروے کروایا جائے۔ عدالت نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے یکم جولائی کو اس کی سماعت کا فیصلہ کیا۔

Recommended