Urdu News

سیاسی پارٹیوں کی طرف سے مفت ریوڑی کلچر سنگین مسئلہ، الیکشن کمیشن سے جواب طلب

سیاسی پارٹیوں کی طرف سے مفت ریوڑی کلچر سنگین مسئلہ

مفت ا سکیموں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی سرزنش کی، سماعت 17 اگست کو

انتخابات میں مفت اسکیموں کے اعلان کے معاملے پر جمعرات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا کی قیادت والی دو رکنی بنچ نے  کوئی حکم دینے سے انکار کردیا۔ کیس کی اگلی سماعت 17 اگست کو ہوگی۔

جمعرات کو سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کی اس بات پر سرزنش کی کہ اخباروں میں ا ن کا حلف نامہ شائع ہوگیا لیکن کل رات 10 بجے تک سپریم کورٹ کو موصول نہیں ہوا۔ جب یہ اخبار پہنچ سکتا ہے تو عدالت میں کیوں نہیں آ سکتا۔

عدالت نے تمام فریقین سے کہا کہ وہ اپنی تجاویز دیں۔ سماعت کے دوران عام آدمی پارٹی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے ماہرین کی کمیٹی کی تشکیل کو غیر ضروری قرار دیا۔عام آدمی پارٹی نے بھی خود کو اس کیس میں فریق بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عام آدمی پارٹی نے ایسے اعلانات کو سیاسی جماعتوں کا جمہوری اور آئینی حق قرار دیا۔ عام آدمی پارٹی نے اشونی اپادھیائے کو بی جے پی کا رکن قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں عرضی گزار کی نیت پر بھی سوال اٹھائے۔

 اشونی اپادھیائے کی عرضی پر 6 اگست کوسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ ریزرو بینک، نیتی آیوگ سمیت دیگر اداروں اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں  کے ساتھ غور و فکر کرنے کے بعد ایک رپورٹ تیار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرے۔ درخواست میں، اشونی اپادھیائے نے انتخابات کے دوران ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے مفت تحائف دینے کے اعلانات کرنے والی سیاسی جماعتوں کی منظوری کو ختم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

Recommended