Urdu News

پیگاسس’ معاملے پر لوک سبھا میں مرکزی وزیر اشونی ویشنو کا بیان

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو

پیگاسس' معاملے پر لوک سبھا میں مرکزی وزیر اشونی ویشنو کا بیان

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ مانسون اجلاس سے ایک روز قبل سامنے آنے والا 'پیگاسس' سافٹ ویئر جاسوسی کیس محض اتفاق نہیں ہے، اس کا مقصد ملک کے جمہوری اداروں کو بدنام کرنا ہے۔

لوک سبھا میں اس معاملے پر حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کے درمیان، مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اس معاملے پر ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ویب پورٹلس نے 'پیگاسس' سافٹ ویئر جاسوسی معاملے پر کل یہ خبر شائع کی تھی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے اور یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایسا ہوا ہو۔ اس سے قبل واٹس ایپ سے متعلق جاسوسی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس وقت بھی متعلقہ فریقوں نے اسے مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے جمہوری اداروں کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے تمام ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے پر حقائق اور منطق کے ساتھ غور کریں۔

خبر کے بارے میں، ویشنو نے بتایا کہ اخبارات کے ایک گروپ کو کچھ نمبروں کی ایک فہرست موصول ہوئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس میں موجود نمبروں کی جاسوسی کی گئی ہے۔ تاہم، اس فہرست میں شامل ہونا یہ ثابت نہیں کرتا ہے کہ اس نمبر پر جاسوسی کی گئی ہے۔ پیگاسس سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او نے بھی اس کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فہرست کا سرویلانس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے زیادہ تر صارفین مغربی ممالک کے ہیں اور بھارت اس میں شامل نہیں ہے۔

وزیر نے کہا کہ بھارت کے پاس قومی سلامتی اور عوامی مفاد میں نگرانی کا ایک پروٹوکول ہے۔ اور اس نظام میں کوئی غیر قانونی نگرانی ممکن نہیں ہے۔ قومی سلامتی میں ریاستوں کے ساتھ بھی ایسی نگرانی کے اختیارات موجود ہیں۔

اس کے بعد، اسپیکر نے ہنگامہ نہ رکنے کی وجہ سے کارروائی منگل تک ملتوی کردی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممبران سے گزارش ہے کہ وہ صرف مفاد عامہ اور ملکی مفاد کے معاملات ایوان میں اٹھائیں۔

پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے شہریوں کی جاسوسی نے انسانی تکریم و تحفظ کو پامال کیا ہے: ایس آئی او

حالیہ تحقیقات نے اسرائیلی ٹیکنالوجی فرم این ایس او کی جانب سے تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے کئی ہندوستانی شہری سمیت دنیا بھر کے لوگوں کی جاسوسی کے حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں. یہ جہاں ایک طرف غیر قانونی عمل ہے، وہیں انسانی تکریم و تحفظ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس طرح کی جاسوسی تکنیکوں کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی نگرانی کی جا رہی ہے بلکہ حکومت مخالف لوگوں کے خلاف فرضی ثبوت بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ بھیما کورے گاؤں معاملے میں کیا گیا۔

فوربیڈن اسٹوریز، مشہور ادارے ایمنسٹی انٹرنیشل اور 16 میڈیا اداروں نے مشترکہ طور پر یہ تحقیقات کی ہیں۔ انہوں نے 50 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد افراد کی شناخت کی ہے، جن میں ہمارے ملک کے کئی نامور شخصیات بھی شامل ہیں، جن پر مبینہ طور پر نگرانی رکھی جارہی تھی۔ بین الاقوامی سطح پر جہاں ایک طرف تنقید کرنے والے آوازوں کو دبانے کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری طرف ٹکنالوجی اور حکومتوں کی یہ ملی بھگت کئی اور سنگین سوالات کھڑے کردیتی ہے۔حالیہ دنوں میں ہمارے ملک میں نئے آئی ٹی قوانین نے جاسوسی و نگرانی کو لیکر کئی سوالات کھڑا کردیئے ہیں. ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بنیادی حقوق جیسے انسانی تکریم و تحفظ اور حق آزادی ئرائے کو سامنے رکھتے ہوئے ان الزامات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔

Recommended