Urdu News

پون ہنس لمیٹڈ کی سرمایہ نکالنے کے لیے اسٹریٹجک خریدار کی منظوری

شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا

 

 

نئی دہلی، 29 اپریل 2022:

اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی کے ذریعہ بااختیار متبادل طریقہ کار، سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری، مرکزی وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن اور شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا نے پون ہنس لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کی پوری جی او آئی کی شیئر ہولڈنگ (51 فیصد شیئر ہولڈنگ) کی فروخت اور مینجمنٹ کنٹرول کی منتقلی کے لیے میسرز اسٹار9 موبلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کی سب سے زیادہ بولی کو منظوری دے دی ہے۔

پی ایچ ایل جی او آئی اور او این جی سی کا مشترکہ منصوبہ ہے جو ہیلی کاپٹر اور ایرو موبلیٹی خدمات فراہم کرتا ہے۔ کمپنی میں حکومت ہند کے 51 فیصد حصص ہیں اور او این جی سی کے پاس بقایا 49 فیصد ہیں۔ او این جی سی نے اس سے قبل جی او آئی اسٹریٹجک ڈس انویسٹمنٹ ٹرانزیکشن میں اسی قیمت اور شرائط پر جو حکومت کی طے کردہ ہیں شناخت کردہ کامیاب بولی لگانے والوں کو اپنی پورے حصس پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سی سی ای اے نے اکتوبر 2016 میں پی ایچ ایل میں جی او آئی کے پورے حصص کی اسٹریٹجک سرمایہ کَشی کی منظوری دی تھی۔ ماضی میں تین بار لین دین کی کوشش کی گئی تھی۔ پہلے دور میں ابتدائی معلوماتی یادداشت (پی آئی ایم) 13 اکتوبر 2017 کو جاری کی گئی تھی جس میں دلچسپی کے اظہار (ای او آئی) کی مانگ کی گئی تھی۔ موصول ہونے والے چار ای او آئیز میں سے صرف ایک اہل پایا گیا اور لین دین منسوخ کردیا گیا۔ دوسرے راؤنڈ میں پی آئی ایم کو 14 اپریل 2018 کو ای او آئی کی مانگ جاری کی گئی تھی اور دو بولی دہندگان اہل پائے گئے تھے اور انھیں تجویز (آر ایف پی) کی درخواست جاری کی گئی تھی۔ تاہم آخر کار آر ایف پی کے مطابق نہ ہونے والی ایک واحد نامکمل بولی موصول ہوئی۔ تیسرے راؤنڈ میں پی آئی ایم کو 11 جولائی 2019 کو ای او آئی کی تلاش جاری کی گئی تھی۔ موصول ہونے والے چار ای او آئیز میں سے صرف ایک اہل پایا گیا اور یہ عمل منسوخ کر دیا گیا۔ 8 دسمبر 2020 کو مدعو دلچسپی کے اظہار (ای او آئی) کی درخواست کے ساتھ یہ چوتھی تکرار ہے۔ سات ای او آئی موصول ہوئے اور چار دلچسپی رکھنے والے بولی دہندگان کو اہل بولی دہندگان کے طور پر شارٹ لسٹ کیا گیا۔ تفصیلی طور پر غور کرنے کے بعد اہل بولی دہندگان کو مالی بولیاں جمع کرانے کی دعوت دی گئی۔ تین مالی بولیاں موصول ہوئیں ہیں۔

موجودہ طریقہ کار کے مطابق ماہرین (ٹرانزیکشن ایڈوائزر اور اثاثہ ویلیور) کی جانب سے کی جانے والی ویلیو ایشن (تعیین قدر) کی بنیاد پر پی ایچ ایل کی 51 فیصد شیئر ہولڈنگ کی فروخت کے لیے ریزرو پرائس 199.92 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔ اس کے بعد بولی دہندگان کی موجودگی میں تینوں بولیاں کھول دی گئیں۔ تینوں بولیاں مجاز پائی گئیں۔ میسرز سٹار9 موبلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز بگ چارٹر پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز مہاراجہ ایوی ایشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور میسرز الماس گلوبل اپرچونٹی فنڈ ایس پی سی کنسورشیم؛ 211.14 کروڑ روپے کے حوالے سے سب سے زیادہ بولی لگانے والے کے طور پر ابھرے جو ریزرو پرائس سے اوپر تھا۔ دیگر دو بولیاں 181.05 کروڑ روپے اور 153.15 کروڑ روپے میں تھیں۔ مناسب غور و خوض کے بعد میسرز اسٹار9 موبلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کی مالی بولی کو حکومت نے قبول کر لیا ہے۔

اسٹریٹجک ڈِس انویسٹمنٹ ٹرانزیکشن کو ایک کھلے اور مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے نافذ کیا گیا جس کی حمایت بین وزارتی گروپ، کور گروپ آف سیکرٹریز آن ڈس انویسٹمنٹ اور بااختیار متبادل میکانزم پر مشتمل کثیر سطحی مشاورتی فیصلہ سازی کے طریقہ کار کی حمایت سے کی گئی۔ لین دین اب اختتامی مرحلے کی طرف بڑھتا ہے۔ اگلے اقدامات لیٹر آف ایوارڈ جاری کرنا، شیئر پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کرنا اور ٹرانزیکشن کو اختتام تک لے جانا ہے۔

پی ایچ ایل کو گزشتہ تین سالوں میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے (مالی سال-19، مالی سال-20 اور مالی سال-21)۔ کمپنی کے پاس 42 ہیلی کاپٹر ہیں جن میں سے 41 کمپنی کی ملکیت ہیں۔ ملکیت والے ہیلی کاپٹروں کی اوسط عمر 20 سال سے زیادہ ہے اور ان میں سے تین چوتھائی فی الحال اصل مینوفیکچرر کی طرف سے تیار نہیں کیے جا رہے ہیں۔ اس نجکاری سے توقع کی جاتی ہے کہ اسٹریٹجک خریدار تازہ سرمائے کے انفیوژن کے ذریعے عمر رسیدہ بیڑے کو تبدیل کرکے کمپنی کا احیا کرے گا اور کمپنی کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا۔

Recommended