Urdu News

مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کووڈ-19 وبا کے دوران ،گنگا کے پانی میں بھاری دھاتی آلودگی میں نمایاں کمی ہوئی

نمامی گنگے نے 49 یونیورسٹیوں کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کئے

 نئی دہلی،  08: فروری 2021:  صنعتی  گندے پانی کی نکاسی کو کم سے کم کرنے کی کوششیں  چندماہ کی قلیل مدت میں ہی گنگا میں  بھاری دھاتی آلودگی میں  نمایاں کمی کا باعث    ہوئی ہیں۔یہ بات کووڈ-19 وبا کے دوران کئے گئے ایک مطالعے سے سامنے آئی ہے۔

کووڈ-19 لاک ڈاؤن نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کانپور  سے  سائنسدانوں کی ایک ٹیم فراہم کی ، جو کہ  دریاؤں کی آبی کیمسٹری لچک سے متعلق  ممنوعہ بشریاتی سرگرمیوں کے  اثر کا اندازہ کرنے کا ایک نایاب موقع تھا۔

انہوں نے دریائے گنگا کے یومیہ جیو  کیمیاوی ریکارڈ کا تجزیہ کیا اور یہ بات ظاہر ہوئی کہ 15دن کے لازمی ملگ گیر لاک ڈاؤن کے دوران صنعتی گندے پانی کی نکاسی میں کمی کے باعث  بھاری دھاتی اجزا میں کم سے کم 50فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ا س کے برعکس  زراعتی پانی کی نکاسی اور گھریلو سیوریج  تقریباََ ویسے ہی رہے ، جن میں نائٹریٹ  اور فا سفیٹ  شامل ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ملک گیر لاک ڈاؤ ن سے ان ذرائع پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔

ہند –امریکہ سائنس  اور ٹکنالوجی فورم ( آئی یو ایس ایس ٹی ایف ) اس تحقیق میں  مدد دے رہی ہے جو کہ حکومت ہند کے محکمہ سائنس اور ٹکنالوجی ( ڈی ایس ٹی ) اور امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ  کے تحت  ایک باہمی تنظیم ہے۔اسے حال ہی میں ’’ ماحولیاتی سائنس  اور ٹکنالوجی لیٹرس  ‘‘ کے ذریعہ  شائع کیا گیا ہے،جس میں  بھاری مادوں  کی تحلیل میں   وسیع لچک دکھائی گئی ہے۔

یہ مطالعہ،جو کہ دنیا کے بڑے دریاؤں کی تحقیق کے متن کا اضافہ کرتا ہے ، اس کا عمیق  مطالعہ کیا گیا ہے جس کا مقصد  دریائی پانی  کی کوالٹی اور  معیار پر ماحولیاتی  تبدیلی اور براہ راست انسانی مداخلتوں   کے اثر کو بہتر طریقے پر سمجھنا ہے  ۔اسے جریدے کے کور پیج پر جگہ ملی ہے۔نئی دہلی،  08: فروری 2021:  صنعتی  گندے پانی کی نکاسی کو کم سے کم کرنے کی کوششیں  چندماہ کی قلیل مدت میں ہی گنگا میں  بھاری دھاتی آلودگی میں  نمایاں کمی کا باعث    ہوئی ہیں۔یہ بات کووڈ-19 وبا کے دوران کئے گئے ایک مطالعے سے سامنے آئی ہے۔

کووڈ-19 لاک ڈاؤن نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کانپور  سے  سائنسدانوں کی ایک ٹیم فراہم کی ، جو کہ  دریاؤں کی آبی کیمسٹری لچک سے متعلق  ممنوعہ بشریاتی سرگرمیوں کے  اثر کا اندازہ کرنے کا ایک نایاب موقع تھا۔

انہوں نے دریائے گنگا کے یومیہ جیو  کیمیاوی ریکارڈ کا تجزیہ کیا اور یہ بات ظاہر ہوئی کہ 15دن کے لازمی ملگ گیر لاک ڈاؤن کے دوران صنعتی گندے پانی کی نکاسی میں کمی کے باعث  بھاری دھاتی اجزا میں کم سے کم 50فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ا س کے برعکس  زراعتی پانی کی نکاسی اور گھریلو سیوریج  تقریباََ ویسے ہی رہے ، جن میں نائٹریٹ  اور فا سفیٹ  شامل ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ملک گیر لاک ڈاؤ ن سے ان ذرائع پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔

ہند –امریکہ سائنس  اور ٹکنالوجی فورم ( آئی یو ایس ایس ٹی ایف ) اس تحقیق میں  مدد دے رہی ہے جو کہ حکومت ہند کے محکمہ سائنس اور ٹکنالوجی ( ڈی ایس ٹی ) اور امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ  کے تحت  ایک باہمی تنظیم ہے۔اسے حال ہی میں ’’ ماحولیاتی سائنس  اور ٹکنالوجی لیٹرس  ‘‘ کے ذریعہ  شائع کیا گیا ہے،جس میں  بھاری مادوں  کی تحلیل میں   وسیع لچک دکھائی گئی ہے۔

یہ مطالعہ،جو کہ دنیا کے بڑے دریاؤں کی تحقیق کے متن کا اضافہ کرتا ہے ، اس کا عمیق  مطالعہ کیا گیا ہے جس کا مقصد  دریائی پانی  کی کوالٹی اور  معیار پر ماحولیاتی  تبدیلی اور براہ راست انسانی مداخلتوں   کے اثر کو بہتر طریقے پر سمجھنا ہے  ۔اسے جریدے کے کور پیج پر جگہ ملی ہے۔

Recommended