Urdu News

نائب صدر جمہوریہ نے سہولیات کی بہتری کے لیے مزید ‘بھروسے پر مبنی حکم رانی’ پر زور دیا

‘Liveability’ should be the focus of urban governance: VP Shri Naidu

  نائب صدر جمہوریہ ہند جناب وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ اچھی حکم رانی کا آخری امتحان لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کو عوام کے قریب ہونا چاہیے، ان کی ضروریات کی فوری تکمیل کی جائے اور خیال رکھنے والا اور تسہیل کار کا کردار ادا کیا جائے۔ جناب نائیڈو نے تجویز پیش کی کہ ضروری خدمات موثر ہونی چاہئیں اور آر ٹی آئی جیسے شہریوں کے چارٹروں کو واضح ہونا چاہیے اور خدمت سے فائدہ اٹھانے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ " بنیادی خدمات کے حصول کے لیے عام آدمی کو کسی جدوجہد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"

بھارت سرکار کے سابق سکریٹری ڈاکٹر ایم رام چندرن کی تحریر کردہ کتاب 'برنگنگ گورنمنٹس اینڈ پیپل کلوزر' کا اجرا کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ لوگ امید کرتے ہیں کہ سرکاری دفاتر میں تمام نظام اور طریقہ کار 'آسان، شفاف، پریشانی سے خالی' ہوں جیسا کہ مصنف نے اجاگر کیا ہے۔ انھوں نے مصنف کی اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ سرکاری دفاتر سے ان کے پریشان ہونے کی سب سے بڑی وجہ دفاتر کا طویل مدتی طریقہ کار ہے۔ انھوں نے بہتر اصلاحات کی تجویز رکھی اور زیادہ سے زیادہ احتساب کا تعین کرنے کے لیے 'سینٹرلائزڈ عوامی شکایات کے مطالعہ اور نگرانی نظام'  (سی پی گرامز) جیسے میکنزم کا استعمال کرتے ہوئے شکایات کے ازالے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے مصنف کی اس تجویز کا بھی خیر مقدم کیا کہ "سرکاری اشاریے کے ساتھ عام آدمی کے تعامل میں سہولت ہو"۔

جناب نائیڈو نے خدمات کی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے مزید 'بھروسے پر مبنی حکم رانی' کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اصلاحات کے لیے حکومت سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زیادہ تر دستاویزات کے لیے خود تصدیق کرنے کو اب کافی سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے ٹیکس اصلاحات کا حوالہ دیا جس سے فیس لیس تصدیق اور اپیلیں سامنے آئی ہیں اور ٹیکس حکام اور ٹیکس ادا کرنے والوں کے بیچ فزیکل انٹرفیس میں کمی آئے گی۔

جناب نائیڈو نے یہ بھی کہا کہ تکنیکی ترقی نے حکومتوں کو عوام کے قریب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا، آدھار سے منسلک بینک کھاتوں، سوچھ بھارت جیسی اسکیموں کی نگرانی کے لیے جیو ٹیگنگ کے استعمال جیسے اقدامات سے حکم رانی میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔

اس طرح کی مزید اختراعات پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے زور دے کر کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی شہری کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حکومت کے تمام پہلوؤں میں زیادہ سے زیادہ بھارتی زبانوں کے وسیع استعمال کی تجویز دی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ جو زبانیں عوام کے لیے قابل فہم ہیں انھیں دفاتر، اسکولوں، عدالتوں اور عوامی مقامات پر استعمال کرنا چاہیے۔

حکم رانی کے لیے "نتائج پر مبنی اپروچ" کی وکالت کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی رائے اور نفاذ کے درمیان خلیج کو پر کرے۔ لہذا انھوں نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ خدمات کی فراہمی کے معیار کی بنیاد پر کارروائی کریں۔ انھوں نے کہا کہ اسکولوں کے لیے دشا پلیٹ فارم اور دیگر کے علاوہ دیہات میں برقی کاری کے لیے 'سوبھاگیہ' پورٹل کے ذریعے بر وقت نتیجے کی پیمائش کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ "بنیادی منتر "وژن کو مشن" اور "مشن کو نفاذ" میں کم از کم کم وقت میں بدلنا چاہیے۔

حکم رانی میں اصلاحات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں نے اصلاحات کو ان کی روح کے ساتھ نافذ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد عوامی زندگی بہتر طریقے سے جینا اور لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے بدعنوانی کو خدمات کی فراہمی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ کے طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طریقہ کار کو موثر بنانے اور حکومت کا زیادہ سے زیادہ احتساب قائم کرکے ہی سرکاری دفاتر سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے۔

شہری علاقوں میں حکم رانی پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے تجویز پیش کی کہ ہمیں ایک شہر میں بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مسرت والی جگہ پیدا کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ 'رہائش پذیری' پر توجہ دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک دیہی علاقوں کا تعلق ہے وہاں گورننس کے اہم مسائل میں اراضی ریکارڈ کی کاپیوں کا حصول، عدالتوں میں زیر التوا مقدمات، بجلی کی فراہمی، پنشن میں تاخیر اور ہیلتھ کیئر اور تعلیم کی رسائی شامل ہیں۔ انھوں نے اجولا یوجنا کے ذریعے زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے، سڑک رابطے میں بہتری، رسوئی گیس کی رسائی جیسے قابل ذکر اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جس سے ہمارے گاوؤں کے لیے دن بہ دن زندگی گزارنے میں آسانی میں بہتری آ رہی ہے۔

جناب نائیڈو نے لامرکزیت اور اختیارات کو مقامی حکومتوں کے حوالے کرنے کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے مقامی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ درج فہرست 29 موضوعات کے لیے زیادہ موثر انداز اختیارات تفویض کریں۔

قانون سازوں کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے تجویز پیش کی کہ وہ پالیسیوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے، کارکردگی اور خامیوں کو اجاگر کرنے اور مقننہ اور پارلیمنٹ میں تجاویز دینے کے لیے پہل کریں۔

نائب صدر جمہوریہ نے یہ بھی سفارش کی کہ حکم رانی کے بہترین پہلوؤں کو شیئر کیا جائے، عام کیا جائے اور وسیع طور پھیلایا جائے۔ انھوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ حکم رانی کے طریقوں پر نافذ کیے گئے منصوبوں کی جامع دستاویزات بنائیں، کام یابیوں اور ناکامیوں سے سیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے کہیں اور بہتر طور پر عمل درآمد کے لیے راہ ہم وار ہوگی۔

جناب نائیڈو نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ 21 ویں صدی کے عوام کی امنگوں کی تکمیل اور بھارتی حکومت کو عالمی نمونہ بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔ انھوں نے عام لوگوں کو قومی ترقی میں فعال شراکت دار بننے کی تجویز رکھی اور کہا کہ 'سوچھ بھارت' جیسے پروگراموں میں لوگوں کی شرکت اور کووڈ-19 پر ملک کا ردعمل اہم ہے۔ "گڈ گورننس تب حقیقت بنتی ہے جب لوگوں کو نہ صرف اتفادہ کننگان کے طور پر بلکہ تبدیلی کے ایجنٹ کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔'

اس ورچول تقریب میں سابق سیکرٹری ڈاکٹر ایم رام چندرن، سابق کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل آف انڈیا جناب ونود رائے، اکنامک ٹائمز کے ایڈیٹر جناب ٹی کے ارون، پبلشر، کوپل پبلشنگ ہاؤس جناب رشی سیٹھ، اعلیٰ حکام، پروفیسران اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔نئی دہلی، 20 مارچ: نائب صدر جمہوریہ ہند جناب وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ اچھی حکم رانی کا آخری امتحان لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کو عوام کے قریب ہونا چاہیے، ان کی ضروریات کی فوری تکمیل کی جائے اور خیال رکھنے والا اور تسہیل کار کا کردار ادا کیا جائے۔ جناب نائیڈو نے تجویز پیش کی کہ ضروری خدمات موثر ہونی چاہئیں اور آر ٹی آئی جیسے شہریوں کے چارٹروں کو واضح ہونا چاہیے اور خدمت سے فائدہ اٹھانے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ " بنیادی خدمات کے حصول کے لیے عام آدمی کو کسی جدوجہد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"

بھارت سرکار کے سابق سکریٹری ڈاکٹر ایم رام چندرن کی تحریر کردہ کتاب 'برنگنگ گورنمنٹس اینڈ پیپل کلوزر' کا اجرا کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ لوگ امید کرتے ہیں کہ سرکاری دفاتر میں تمام نظام اور طریقہ کار 'آسان، شفاف، پریشانی سے خالی' ہوں جیسا کہ مصنف نے اجاگر کیا ہے۔ انھوں نے مصنف کی اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ سرکاری دفاتر سے ان کے پریشان ہونے کی سب سے بڑی وجہ دفاتر کا طویل مدتی طریقہ کار ہے۔ انھوں نے بہتر اصلاحات کی تجویز رکھی اور زیادہ سے زیادہ احتساب کا تعین کرنے کے لیے 'سینٹرلائزڈ عوامی شکایات کے مطالعہ اور نگرانی نظام'  (سی پی گرامز) جیسے میکنزم کا استعمال کرتے ہوئے شکایات کے ازالے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے مصنف کی اس تجویز کا بھی خیر مقدم کیا کہ "سرکاری اشاریے کے ساتھ عام آدمی کے تعامل میں سہولت ہو"۔

جناب نائیڈو نے خدمات کی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے مزید 'بھروسے پر مبنی حکم رانی' کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اصلاحات کے لیے حکومت سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زیادہ تر دستاویزات کے لیے خود تصدیق کرنے کو اب کافی سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے ٹیکس اصلاحات کا حوالہ دیا جس سے فیس لیس تصدیق اور اپیلیں سامنے آئی ہیں اور ٹیکس حکام اور ٹیکس ادا کرنے والوں کے بیچ فزیکل انٹرفیس میں کمی آئے گی۔

جناب نائیڈو نے یہ بھی کہا کہ تکنیکی ترقی نے حکومتوں کو عوام کے قریب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا، آدھار سے منسلک بینک کھاتوں، سوچھ بھارت جیسی اسکیموں کی نگرانی کے لیے جیو ٹیگنگ کے استعمال جیسے اقدامات سے حکم رانی میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔

اس طرح کی مزید اختراعات پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے زور دے کر کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی شہری کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حکومت کے تمام پہلوؤں میں زیادہ سے زیادہ بھارتی زبانوں کے وسیع استعمال کی تجویز دی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ جو زبانیں عوام کے لیے قابل فہم ہیں انھیں دفاتر، اسکولوں، عدالتوں اور عوامی مقامات پر استعمال کرنا چاہیے۔

حکم رانی کے لیے "نتائج پر مبنی اپروچ" کی وکالت کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی رائے اور نفاذ کے درمیان خلیج کو پر کرے۔ لہذا انھوں نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ خدمات کی فراہمی کے معیار کی بنیاد پر کارروائی کریں۔ انھوں نے کہا کہ اسکولوں کے لیے دشا پلیٹ فارم اور دیگر کے علاوہ دیہات میں برقی کاری کے لیے 'سوبھاگیہ' پورٹل کے ذریعے بر وقت نتیجے کی پیمائش کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ "بنیادی منتر "وژن کو مشن" اور "مشن کو نفاذ" میں کم از کم کم وقت میں بدلنا چاہیے۔

حکم رانی میں اصلاحات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں نے اصلاحات کو ان کی روح کے ساتھ نافذ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد عوامی زندگی بہتر طریقے سے جینا اور لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے بدعنوانی کو خدمات کی فراہمی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ کے طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طریقہ کار کو موثر بنانے اور حکومت کا زیادہ سے زیادہ احتساب قائم کرکے ہی سرکاری دفاتر سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے۔

شہری علاقوں میں حکم رانی پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے تجویز پیش کی کہ ہمیں ایک شہر میں بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مسرت والی جگہ پیدا کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ 'رہائش پذیری' پر توجہ دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک دیہی علاقوں کا تعلق ہے وہاں گورننس کے اہم مسائل میں اراضی ریکارڈ کی کاپیوں کا حصول، عدالتوں میں زیر التوا مقدمات، بجلی کی فراہمی، پنشن میں تاخیر اور ہیلتھ کیئر اور تعلیم کی رسائی شامل ہیں۔ انھوں نے اجولا یوجنا کے ذریعے زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے، سڑک رابطے میں بہتری، رسوئی گیس کی رسائی جیسے قابل ذکر اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جس سے ہمارے گاوؤں کے لیے دن بہ دن زندگی گزارنے میں آسانی میں بہتری آ رہی ہے۔

جناب نائیڈو نے لامرکزیت اور اختیارات کو مقامی حکومتوں کے حوالے کرنے کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے مقامی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ درج فہرست 29 موضوعات کے لیے زیادہ موثر انداز اختیارات تفویض کریں۔

قانون سازوں کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے تجویز پیش کی کہ وہ پالیسیوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے، کارکردگی اور خامیوں کو اجاگر کرنے اور مقننہ اور پارلیمنٹ میں تجاویز دینے کے لیے پہل کریں۔

نائب صدر جمہوریہ نے یہ بھی سفارش کی کہ حکم رانی کے بہترین پہلوؤں کو شیئر کیا جائے، عام کیا جائے اور وسیع طور پھیلایا جائے۔ انھوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ حکم رانی کے طریقوں پر نافذ کیے گئے منصوبوں کی جامع دستاویزات بنائیں، کام یابیوں اور ناکامیوں سے سیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے کہیں اور بہتر طور پر عمل درآمد کے لیے راہ ہم وار ہوگی۔

جناب نائیڈو نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ 21 ویں صدی کے عوام کی امنگوں کی تکمیل اور بھارتی حکومت کو عالمی نمونہ بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔ انھوں نے عام لوگوں کو قومی ترقی میں فعال شراکت دار بننے کی تجویز رکھی اور کہا کہ 'سوچھ بھارت' جیسے پروگراموں میں لوگوں کی شرکت اور کووڈ-19 پر ملک کا ردعمل اہم ہے۔ "گڈ گورننس تب حقیقت بنتی ہے جب لوگوں کو نہ صرف اتفادہ کننگان کے طور پر بلکہ تبدیلی کے ایجنٹ کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔'

اس ورچول تقریب میں سابق سیکرٹری ڈاکٹر ایم رام چندرن، سابق کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل آف انڈیا جناب ونود رائے، اکنامک ٹائمز کے ایڈیٹر جناب ٹی کے ارون، پبلشر، کوپل پبلشنگ ہاؤس جناب رشی سیٹھ، اعلیٰ حکام، پروفیسران اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔

Recommended