Urdu News

زراعت کے سیکٹرمیں بجٹ التزامات کے نفاذ پرویبنارسے وزیراعظم کے خطاب کا متن

Text of PM’s address at webinar on implementation of Budget in Agriculture sector

 

 
 

نئی دہلی ،یکم مارچ :

نمسکار!

آپ کی تجاویز کااس سال کے بجٹ میں بہت اہم رول رہاہے اورآپ نے بھی جب بجٹ دیکھاہوگا توآپ سب کے ذہن میں آیاہوگا کہ آپ کی تجاویز کو ، آپ کو خیالات کو اس میں شامل کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی ہے ۔ وہ کام تو ہوگیا، اب جو آج کے یہ مذاکرات ہیں ۔۔۔یہ مذاکرات زرعی اصلاحات اوربجٹ کے التزامات کو آگے بڑھائیں ، تیزی سے آگے بڑھائیں ، لاسٹ مائل ڈلیوری تک پہنچے ، مقررہ وقت میں کریں اور بہت موثر طریقے سے کریں اورپھربھی سب کو جوڑکرکریں ۔ سرکاری پرائیویٹ ساجھیداری کا بہترین نمونہ ۔ مرکز یا ریاستی تعاون کا بہترین نمونہ ۔۔۔ ایسا ہم آج کے تبادلہ خیال سے نکالنا چاہتے ہیں۔

اس ویبنارمیں زراعت ، ڈیری ، ماہی گیری جیسے الگ الگ شعبوں کے ماہرین بھی ہیں ، سرکاری ، پرائیویٹ اور امدادباہمی کے سیکٹرکے ساتھی بھی —آج ہمیں ان کے نظریات کا بھی فائدہ ملنے والا ہے اورملک کی دیہی معیشت کو فنڈ کرنے والے بینکوں کے نمائندے بھی ہیں ۔

آپ سبھی آتم نربھربھارت کے لئے ضروری آتم نربھردیہی معیشت کے اہم فریق ہیں ۔ میں نے کچھ عرصے پہلے پارلیمنٹ میں اس بات کو تفصیل سے رکھاتھا کہ کیسے ملک کے چھوٹے کسانوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے حکومت نے گذشتہ برسوں میں کئی اہم فیصلے کئے ہیں ۔ ان چھوٹے کسانوں کی تعداد 12کروڑکے قریب ہے اور ان کو بااختیاربنانا ، ان چھوٹے کسانوں کا ایمپاورمنٹ ہی ہندوستانی زراعت کو مختلف پریشانیوں سے نجات دلانے میں بہت مدد کرے گا۔ اتناہی نہیں دیہی معیشت کا ڈرائیونگ فورس بھی وہی بنیں گے۔

میں اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے بجٹ میں زراعت کے لئے جو کیاگیاہے ، اس کی کچھ خاص باتیں آپ کے سامنے دوہراناچاہتاہوں ۔ میں جانتاہوں آپ ان سبھی باتوں کو جانتے ہیں ۔ حکومت نے اس مرتبہ زراعت کے قرض کے ہدف بڑھا کر 16لاکھ 50ہزارکروڑروپے کردیاہے ۔ اس میں بھی مویشی پروری ، ڈیری اور ماہی پروری سیکٹرکو اولیت دی گئی ہے ۔ دیہی بنیادی ڈھانچے فنڈ کو بھی بڑھا کر 40ہزارکروڑروپے کردیاگیاہے ۔ مائیکروآبپاشی فنڈ کو بھی بڑھا کر دوگنا کردیاگیاہے ۔ آپریشن گرین اسکیم کا دائرہ بڑھاکر اب 22جلد خراب ہونے والی اشیاتک توسیع دے دی گئی ہے ۔ملک کی 1000اورمنڈیوں کو ای۔ نیم سے جوڑنے کا فیصلہ کیاگیاہے ۔ ان سارے فیصلوں میں حکومت کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے ، حکومت کا ارادہ محسوس ہوتاہے اورساتھ ساتھ حکومت کے ویژن کا پتہ چلتاہے۔ اوریہ ساری باتیں آپ سب کے ساتھ تبادلہ خیال سے حاصل کی گئی ہیں جس کو ہم آگے بڑھایاہے ۔لگاتاربڑھتی ہوئی زرعی پیداوار کے درمیان 21 ویں صدی میں ہندوستان کو پوسٹ ہارویسٹ ( فصل کٹنے کے بعد ) انقلاب یا پھرفوڈ پروسیسنگ ( خوراک کی ڈبہ بندی ) انقلاب اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے ۔ ملک کے لئے بہت اچھاہوتا اگریہ کام دو-تین  دہائی پہلے ہی کرلیاگیاہوتا۔ اب ہمیں جو وقت گزرگیاہے ، اس کی بھرپائی توکرنی ہی کرنی ہے ، آنے والے دنوں کے لئے بھی اپنی تیاری اور تیزی میں اضافہ کرناہے 


 

نئی دہلی ،یکم مارچ :

نمسکار!

آپ کی تجاویز کااس سال کے بجٹ میں بہت اہم رول رہاہے اورآپ نے بھی جب بجٹ دیکھاہوگا توآپ سب کے ذہن میں آیاہوگا کہ آپ کی تجاویز کو ، آپ کو خیالات کو اس میں شامل کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی ہے ۔ وہ کام تو ہوگیا، اب جو آج کے یہ مذاکرات ہیں ۔۔۔یہ مذاکرات زرعی اصلاحات اوربجٹ کے التزامات کو آگے بڑھائیں ، تیزی سے آگے بڑھائیں ، لاسٹ مائل ڈلیوری تک پہنچے ، مقررہ وقت میں کریں اور بہت موثر طریقے سے کریں اورپھربھی سب کو جوڑکرکریں ۔ سرکاری پرائیویٹ ساجھیداری کا بہترین نمونہ ۔ مرکز یا ریاستی تعاون کا بہترین نمونہ ۔۔۔ ایسا ہم آج کے تبادلہ خیال سے نکالنا چاہتے ہیں۔

اس ویبنارمیں زراعت ، ڈیری ، ماہی گیری جیسے الگ الگ شعبوں کے ماہرین بھی ہیں ، سرکاری ، پرائیویٹ اور امدادباہمی کے سیکٹرکے ساتھی بھی —آج ہمیں ان کے نظریات کا بھی فائدہ ملنے والا ہے اورملک کی دیہی معیشت کو فنڈ کرنے والے بینکوں کے نمائندے بھی ہیں ۔

آپ سبھی آتم نربھربھارت کے لئے ضروری آتم نربھردیہی معیشت کے اہم فریق ہیں ۔ میں نے کچھ عرصے پہلے پارلیمنٹ میں اس بات کو تفصیل سے رکھاتھا کہ کیسے ملک کے چھوٹے کسانوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے حکومت نے گذشتہ برسوں میں کئی اہم فیصلے کئے ہیں ۔ ان چھوٹے کسانوں کی تعداد 12کروڑکے قریب ہے اور ان کو بااختیاربنانا ، ان چھوٹے کسانوں کا ایمپاورمنٹ ہی ہندوستانی زراعت کو مختلف پریشانیوں سے نجات دلانے میں بہت مدد کرے گا۔ اتناہی نہیں دیہی معیشت کا ڈرائیونگ فورس بھی وہی بنیں گے۔

میں اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے بجٹ میں زراعت کے لئے جو کیاگیاہے ، اس کی کچھ خاص باتیں آپ کے سامنے دوہراناچاہتاہوں ۔ میں جانتاہوں آپ ان سبھی باتوں کو جانتے ہیں ۔ حکومت نے اس مرتبہ زراعت کے قرض کے ہدف بڑھا کر 16لاکھ 50ہزارکروڑروپے کردیاہے ۔ اس میں بھی مویشی پروری ، ڈیری اور ماہی پروری سیکٹرکو اولیت دی گئی ہے ۔ دیہی بنیادی ڈھانچے فنڈ کو بھی بڑھا کر 40ہزارکروڑروپے کردیاگیاہے ۔ مائیکروآبپاشی فنڈ کو بھی بڑھا کر دوگنا کردیاگیاہے ۔ آپریشن گرین اسکیم کا دائرہ بڑھاکر اب 22جلد خراب ہونے والی اشیاتک توسیع دے دی گئی ہے ۔ملک کی 1000اورمنڈیوں کو ای۔ نیم سے جوڑنے کا فیصلہ کیاگیاہے ۔ ان سارے فیصلوں میں حکومت کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے ، حکومت کا ارادہ محسوس ہوتاہے اورساتھ ساتھ حکومت کے ویژن کا پتہ چلتاہے۔ اوریہ ساری باتیں آپ سب کے ساتھ تبادلہ خیال سے حاصل کی گئی ہیں جس کو ہم آگے بڑھایاہے ۔لگاتاربڑھتی ہوئی زرعی پیداوار کے درمیان 21 ویں صدی میں ہندوستان کو پوسٹ ہارویسٹ ( فصل کٹنے کے بعد ) انقلاب یا پھرفوڈ پروسیسنگ ( خوراک کی ڈبہ بندی ) انقلاب اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے ۔ ملک کے لئے بہت اچھاہوتا اگریہ کام دو-تین  دہائی پہلے ہی کرلیاگیاہوتا۔ اب ہمیں جو وقت گزرگیاہے ، اس کی بھرپائی توکرنی ہی کرنی ہے ، آنے والے دنوں کے لئے بھی اپنی تیاری اور تیزی میں اضافہ کرناہے 

Recommended