Urdu News

’کمپوسٹیبل‘‘پلاسٹک کی تیاری اور تجارت کاری کےلئے اسٹارٹ اَپ قرض کو منظوری

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ

 مرکزی  وزیر مملکت (آزادانہ چارج)سائنس وٹیکنالوجی؛ وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارضیاتی سائنس، وزیر مملکت  ، وزیر اعظم  کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاءڈاکٹر جتندر سنگھ نے ا ٓج ’’کمپوسٹبل‘‘پلاسٹک کی تجارت کاری کے لئے میسرز ٹی جی پی بایو پلاسٹکس کو 1.15کروڑ روپے کے اسٹارٹ اَپ قرض کو منظوری دی اور اس طرح انہوں نے سنگل یوز پلاسٹکس(ایس یو پی)کے استعمال کو کم کرنے کی سمت میں پیش رفت کی۔

کمپوسٹبل پلاسٹک کی تیاری اور تجارت کاری کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے تحت  ایک بااختیار ادارے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ اور میسرز ٹی جی پی بایوپلاسٹکس پرائیویٹ لمٹیڈ ستارا، مہاراشٹر کےمابین ایک مفاہمتی عرضداشت پر دستخط کئے گئے۔


001.jpg


ڈاکٹر جتندر سنگھ کو باخبر کیا کہ اسٹارٹ اَپ سنگل یوز پلاسٹک(ایس یو پی)کے متبادل حل کے ساتھ آیا ہے۔جس میں ایک کمپوسٹبل پلاسٹک اشیاء کا پروٹوٹائپ ہے، جو ماحولیات کو متاثر کئے بغیر مٹی میں کھاد کی شکل میں ٹوٹ جاتا ہے۔اس انوکھے پروجیکٹ کو پروٹوٹائپ ترقی کے لئے نِدھی پریاس(ڈی ایس ٹی)کے تحت نیتی آیوگ اور یو این آئی ڈی اوکو سیڈ فنڈنگ حاصل ہوئی ہے۔

ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ذریعے محض ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک اشیاء کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنے کی کال کے عین مطابق ہندوستان نے شناخت شدہ سنگل یوز پلاسٹک سازو سامان کی تیاری ، درآمدات ، ذخیرہ اندوزی، تقسیم کاری ، فروخت  اور استعمال پر پابندی لگادی ہے، جن کی اہمیت کم ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ اس سے یکم جولائی 2022ء سے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر کچرے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک آلودگی پر عالمی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لئے سرکار کی حمایت کے ساتھ کمپوسٹبل پلاسٹک کے تصور کو وسعت دی جائے گی۔

ڈاکٹر جتندر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ ٹی جی پی بایو پلاسٹکس کے ذریعے کمپوسٹبل پلاسٹک کی تیاری اور تجارت کاری 5جولائی 2022ء سے ارضیاتی سائنس کی وزارت کے ذریعے شروع کی گئی ملک گیر ساحلی صفائی مہم کے ساتھ اچھی طرح سے میل کھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 75دنوں کی طویل مہم ’’سوچھ ساگر، سورکشت ساگر‘‘کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کے لئے شروع کی گئی تھی۔یہ مہم 17ستمبر 2022کو ’’ساحلی صفائی کے عالمی دن’’پر ختم ہوگی ، جب 75000افراد ، طلباء، شہری سماج کے ممبر اور ماحولیاتی کارکنان سمندر کے ساحلوں سے اس 1500ٹن کچرے کو صاف کرنے کےہدف کی تکمیل کے لئے متحرک کئے جائیں گے، جو بنیادی طورپر سنگل یوز پلاسٹک سے پیدا ہوا ہے۔

ڈاکٹر جتندر سنگھ نے مزید کہا کہ کوڑے میں پڑے سنگل یوز پلاسٹک (ایس یو پی)آئٹم کے منفی اثرات کو عالمی سطح پر منظوری حاصل ہے اور حکومت ہند کوڑے والے سنگل یوز پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لئے ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مارچ 2022ء میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے پانچویں سیشن کے دوران بھی ہندوستان پلاسٹک آلودگی پر عالمی کارروائی شروع کرنے کے عہد پر عام اتفاق رائے قائم کرنے کے لئے تمام ممبر ملکوں کے ساتھ تعمیری سطح پر جڑا رہا ہے۔حکومت ہند مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے توسط سے ایس یوپی کے خاتمے کی بے حد ضرورت کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے اقدامات کررہی ہے اور صنعتوں (اسٹارٹ اَپ، ایم ایس ایم ای، دیگر صنعت)، مرکز  ریاست اور مقامی انتظامیہ ، ضابطہ اداروں، شہریوں، آر اینڈ ڈی اور اکیڈمک اداروں کو ایک ساتھ لایا گیا ہے۔

موجودہ وقت میں بازار میں بہت کم سڑ سکنے والی اشیاء ؍کمپوزٹ دستیاب ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی قیمت کچے مال کے لئے 280فی کلو گرام سے زیادہ ہے۔

ٹی ڈی بح کے سیکریٹری، آئی پی اینڈ ٹی اے ایف ایس راجیش کمار پاٹھک نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ  پلاسٹک ایک غیر نامیاتی شے ہے اور  یہ انسانیت کے لئے خطرہ بن گئی ہے اور پہلے سے ہی ہمارے زمینی سمندری اور آبی ایکوسسٹم پر خطرناک اثرات ڈال رہی ہے۔ اس لئے ’ڈی گریڈیبل کمپوسٹبل پلاسٹک‘ کی تیاری کا خیال ’وقت کی ضرورت‘تکنیک ہے۔ ٹی ڈی بی کے ذریعے میسرز ٹی جی پی بایوپلاسٹکس کی حمایت کرنے کے ساتھ ہندوستان ایس یو پی کے لئے سودیشی متبادل حل مہیا کرنے اور سنگل یوز پلاسٹک سے مبرا ملک کی ہندوستان کے عہد کو حاصل کرنے کے لئے  بس ایک قدم دور ہے۔

Recommended