ٹویٹر گمراہ کن معلومات کے معاملے پر من مانی کر رہا ہے: روی شنکر پرساد

https://urdu.indianarrative.com/Ravi_Shankar_Prasad.jpg

مرکزی وزیر روی شنکر پرساد

مرکزی وزیر روی شنکر پرسادنے کہا کہ آئی ٹی قوانین پر عمل نہ کرنا غلط ثابت ہوگا

نئی دہلی ، 16 جون (انڈیا نیرٹیو)

 مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بدھ کے روز ٹویٹر کے نئے آئی ٹی قوانین پر عمل کرنے کے سلسلہ میں کی جا رہی بے توجہی پر سوشل میڈیا ویب سائٹ کی سرزنش کی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر وہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق قوانین کی تعمیل کو لے کر اسی طرح کا رویہ اپناتا رہا تو ایسی کوششیں غلط ثابت ہوں گی۔

مرکزی وزیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ ٹویٹر 26 مئی سے نافذالعمل آئی ٹی کے نئے قوانین پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ٹویٹر کوکئی مواقع فراہم کیے گئے ، لیکن وہ جان بوجھ کر تعمیل کرنے سے گریز کرتا رہا۔ ان کا یہ بیان ا س طرح کے سوالوں پر سامنے آیا ہے جس میں پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ٹویٹر کوبات چیت کے ذریعہ کے طو ر پر ملا تحفظ جاری ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز غازی آباد میں ٹویٹ ، نیوز ویب سائٹ دی وائر ، صحافی رانا ایوب اور کچھ دوسرے ٹویٹر صارفین پر گمراہ کن خبریں پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو کو لے کر کل ان لوگوں نے ایک ٹویٹ کیا تھا۔ 

اس ویڈیو میں ایک مسلمان شخص کی کچھ لوگوں کے ذریعہ داڑھی کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص نے الزام لگایا کہ اسے زبردستی جے شری رام بلوایاگیا اور اس کی داڑھی کاٹ دی گئی۔ تاہم ، پولیس نے کہا کہ تعویذ کے غلط نتائج ملنے کے بعد کچھ لوگوں نے اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔ ان لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسی موضوع پر ، روی شنکر پرساد نے ٹویٹ کر بتایا کہ ہندوستان ایک وسیع علاقے میں پھیلا ثقافتی لحاظ سے متنوع ملک ہے۔ایسی صورت حال میں خاص حالات میں سوشل میڈیا پر لگائی گئی ایک چھوٹی سی چنگاری جھوٹی خبروں کو ایک بڑے تنازعہ میں بدل سکتی ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ خود کو آزادی اظہار رائے کا پرچم بردار بتانے والا ٹویٹر قانون کے تحت تشکیل دیئے گئے شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو نافذ نہیں کرناچاہ رہا ہے۔ اس کے باوجود اس کے اس نے خود مینی پولیٹیڈ میڈیاطے کرنے کی پالیسی تیار کی ہے اور جسے وہ من مانے طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں پیش آیا واقعہ فیک نیوز کو لے کر ٹویٹر کے اس من مانی رویے کی عکاس ہے۔ ایک بار نہیں ، بلکہکئی بار ٹویٹر اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بھارت میں فارما، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں بھی امریکہ اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور وہ مقامی قوانین کی پاسداری کرتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں ٹویٹر ہندوستانی قوانین کی تعمیل سے دوری بنا رہا ہے۔ بھارتی قانون متاثرین کو استحصال کے خلاف آواز دیتا ہے۔ 

جی -7 سربراہی اجلاس میں آزادی اظہار کی آئینی فراہمی کے بارے میں ہندوستان کی طرف سے ظاہر کئے گئے عزم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معاشرہ قانون پر مبنی نظام میں چلتا ہے۔ ایسے میں ، ٹویٹر کی جانب سے اس پر عمل کرنے سے گریز کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔