ٹو پلس ٹو مذاکرات: بھارت نے نام لیے بغیر چین کی تجاوزات کی کوششوں کا کیاذکر

https://urdu.indianarrative.com/Two-Plus-Two-Negotiations1.webp

ٹو پلس ٹو مذاکرات: بھارت نے نام لیے بغیر چین کی تجاوزات کی کوششوں کا کیاذکر

بھارت اور روس کے درمیان پیر کودفاع اور وزرائے خارجہ کی سطح پر’ٹو پلس ٹو‘ بات چیت کے دوران بھارت نے ملک کی شمالی سرحدوں پر’افواج جمع کرنے‘ اور پڑوس سے ’غیر اشتعال انگیز دراندازی کی کوششوں‘ کا خصوصی ذکر کیا۔ چین کا نام لیے بغیر وزیر دفاع نے اپنے ابتدائی گفتگومیں زور دیا کہ بھارت مضبوط سیاسی ارادے اور عوام کی موروثی صلاحیت کے ساتھ ہر چیلنج پر قابو پائے گا۔

بھارت اور روس کے درمیان پیر کو دفاع اور وزیر خارجہ کی سطح پر بات چیت ہوئی۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس بات چیت میں بھارت کی طرف سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حصہ لیا۔ روس کی جانب سے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور وزیر سرگئی شوئیگو نے شرکت کی۔

روس کے ساتھ دفاع اور وزرائے خارجہ کی سطح کے مذاکرات میں پہلی بار دونوں ممالک کے وزراء نے اپنے ابتدائی باتیں رکھیں۔ افتتاحی بیان میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کو 2020 کے موسم گرما کے آغاز سے ہی بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیسے کہ وبائی بیماری، پڑوس میں غیر معمولی فوج اور ہتھیاروں کا جمع ہونا اور شمالی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت۔بھارت کی توقعات کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اس مشکل صورتحال میں روس بھارت کو دفاعی شعبے میں خود کفیل بننے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی تکنیکی اور جدید تحقیقی تعاون کے ساتھ دفاعی سازوسامان کی مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کرے، تاکہ بھارت خود انحصاری حاصل کر سکے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت نے وسطی ایشیا اور بحر ہند کے خطے میں روس کے ساتھ مزید بہتر تعلقات کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات حالیہ دنوں میں بے مثال طریقے سے بڑھے ہیں۔ اپنے ماسکو دورے کو یاد کرتے ہوئے راج ناتھ نے کہا کہ انہیں دو بار ماسکو اور ایک بار دوشنبہ جانے کا موقع ملا۔اس دوران روس کے وزیر دفاع نے دونوں ممالک کے بین الحکومتی کمیشن میں ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں مستقبل میں دفاعی تعاون کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کی ایجنسیاں باہمی اعتماد کو بڑھانے اور دنیا کو مزید محفوظ بنانے کے لیے تعاون جاری رکھیں گی۔