Urdu News

شہری ہوابازی کی وزارت کی اُڑان اسکیم نے کامیابی کے 5 برس مکمل کیے

جناب جیوترا دتیہ ایم سندھیا نے دہلی ہوائی اڈے پر چوتھے رن وے اور ایلی ویٹیڈ ٹیکسی وے کا افتتاح کیا

 

شہری ہوابازی کی وزارت کے فلیگ شپ پروگرام علاقائی کنکٹیویٹی اسکیم اُڑان (اُڑے دیش کا عام ناگرک) نے 27 اپریل 2017 کو وزیر اعظم کے ذریعہ اس کی پہلی اُڑان کے آغاز سے اب تک 5 برس مکمل کر لیے ہیں۔ اس اسکیم کا آغاز زمرہ II اور زمرہ III کے شہروں میں ہوائی کنکٹیویٹی  اور ہوابازی بنیادی ڈھانچہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ’اُڑے دیش کا عام ناگرک‘ کی تصوریت پر عمل کرتے ہوئے عام شہریوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے مقصد سے 21 اکتوبر 2016 کو عمل میں آیا۔

گذشتہ پانچ برسوں میں، اُڑان نے ملک میں علاقائی ہوائی کنکٹیویٹی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ 2014 میں 74 ہوائی اڈے مصروف عمل تھے۔ اڑان اسکیم کی بدولت اب یہ تعداد بڑھ کر 141 کے بقدر ہوگئی ہے۔

68 انڈرسروڈ/اَن سروڈ مقامات جن میں 58 ہوائی اڈے، 8 ہیلی پورٹس اور 2 واٹر ایئرڈرومس  شامل ہیں، کو اُڑان  اسکیم کے تحت مربوط کیا جا چکا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 425 نئے راستے شروع کرنے کے ساتھ ہی، اُڑان نے ملک کے طول و عرض میں 29 سے زائد ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہوائی کنکٹیویٹی فراہم کی ہے۔ 4 اگست 2022 تک ایک کروڑ سے زائد مسافرین اس اسکیم سے فیضیاب ہوچکے ہیں۔ اس اسکیم نے علاقائی کیریئرس کو اپنے آپریشنوں میں اضافہ کرنے کے لیے ازحد ضروری طور پر درکار پلیٹ فارم بھی فراہم  کیا ہے۔

ملک میں غیر مربوط مقامات کو جوڑنے کے مقصد سے، اُڑان اسکیم کے تحت 220 مقامات (ہوائی اڈوں/ہیلی پورٹوں/واٹر ایئرڈرومس) کو 1000 راستوں کے ساتھ 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے ۔ اُڑان کے تحت، 156 ہوائی اڈوں کو مربوط کرنے کی غرض سے 954 راستوں کو پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔

اس موقع پر، شہری ہوابازی کے وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے کہا، ’’آر سی ایس اُڑان کی کامیابی وزیر اعظم کے خواب ’اُڑے دیش کا عام ناگرک‘ کے ویژن کے تئیں حکومت کی عہد بندگی کا مظہر ہے۔ اس نے بھارتی ہوابازی صنعت کے تغیر میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اب تک اس اسکیم کے تحت، ہمارے پاس 425 راستے ہیں جنہیں بڑھا کر 1000 تک کرنے کا ارادہ ہے، اس کے علاوہ 68 نئے ہوائی اڈے ہیں جنہیں بڑھا کر 100 تک کرنے کا ارادہ ہے۔ آئندہ 4 برسوں میں ہم بھارت میں شہری ہوابازی کے توسط سے 40 کروڑ مسافرین کی توقع کرتے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب ریل  اور سڑک نقل و حمل کے ساتھ ساتھ شہری ہوابازی بھی بھارت میں نقل و حمل کے شعبہ میں زبردست طور پر مددگار ثابت ہوگا۔‘‘

آر سی ایس – اُڑان کو قومی شہری ہوابازی پالیسی (این سی اے پی)-2016 کے جائزے کی بنیاد پر وضع کیا گیا اور اسے 10 برسوں کی مدت کے لیے جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اسکیم علاقائی رابطہ کاری فنڈ (آر سی ایف) کی ترقی کے ساتھ سیلف فائنینسنگ میکنزم کی حامل ہے۔ اس اسکیم کے تحت، آر سی ایف تشکیل دیا گیا،جو کہ مخصوص گھریلو پروازوں پر ٹیکس کے توسط سے اسکیم کی وی جی ایف ضرورتوں کے لیے سرمایہ بہم پہنچاتا ہے۔ اس طرح، شعبوں سے حاصل شدہ سرمایہ شعبے کی نمو اور ترقی کو مہمیز کرتا ہے۔

اُڑان اسکیم نے مختلف طبقات کے شراکت داروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ مسافرین کو ہوائی کنکٹیویٹی کے فوائد حاصل ہوئے ہیں، ایئر لائنوں کو علاقائی راستوں کے آپریشن کے لیے رعایتیں حاصل ہوئی ہیں، اَن سروڈ علاقوں کو ان کی اقتصادی ترقی کے لیے ہوائی رابطہ کاری کے راست اور غیر راست فوائد حاصل ہوئے ہیں۔

اُڑان نے ضرورت کی بنیاد پر ایک فریم ورک تیار کیا اور مندر جہ ذیل چیزوں کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کی:

  • لائف لائن اُڑان (وبائی مرض کے دوران میڈیکل کارگو کا نقل و حمل)
  • کرشی اُڑان (زرعی مصنوعات کی قدر و قیمت کی شناخت، خصوصاًشمال مشرقی خطے (این ای آر) اور قبائلی اضلاع میں )
  • گواہاٹی سے امپھال  تک/امپھال سے گواہاٹی تک  بین الاقوامی رابطہ کاری کی تلاش کے  سلسلے میں این ای آر کے لیے بین الاقوامی اُڑان  کے راستے۔

لائف لائن اُڑان – لائف لائن اُڑان پہل قدمی کا آغاز کووِڈ۔19 کے دوران مارچ 2020 میں ہوا اور اس نے ملک کے مختلف حصوں میں ضروری طبی خدمات اور تقریباً 1000 ٹن کے بقدر بڑے کارگو نقل و حمل کے لیے 588 پروازوں میں مدد فراہم کی۔

آر سی ایس – اُڑان کو سال 2020 کے لیے اختراعی زمرے کے تحت عوامی انتظامیہ میں عمدگی کے لیے پرائم منسٹرس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

(اُڑان اسکیم کے تحت  مصروف عمل آر سی ایس راستوں اور ہوائی اڈوں کی ریاست کے لحاظ سے تفصیلات  ضمیمہ-اے میں دی گئی ہے)

 

ضمیمہ – اے

اُڑان اسکیم کے تحت مصروف عمل آر سی ایس راستوں اور ہوائی اڈوں کی ریاست کے لحاظ سے تفصیلات

نمبر شمار

ریاست

آر سی ایس راستے

آر سی ایس ہوائی اڈے

  1.  

انڈمان اور نکوبار جزیرہ (یو ٹی)

کچھ نہیں

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

آندھرا پردیش

26

02

کڈپا، کرنول

  1.  

اروناچل پردیش

04

02

تیزو، پاسی گھاٹ

  1.  

آسام

30

04

جورہاٹ، لیلاباری، تیزپور، روپسی

  1.  

بہار

11

01

دربھنگہ

  1.  

چنڈی گڑھ

06

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

چھتیس گڑھ

12

02

بلاس پور، جگدل پور

  1.  

دمن اور دیو (یو ٹی)

02

01

دیو

  1.  

دہلی (یو ٹی)

35

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

گوا

06

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

گجرات

53

08

بھاؤنگر، جام نگر، کاندلا، کیشود، مندرا، پوربندر، مجسمہ اتحاد (ڈبلیو اے)، سابرمتی ریور فرنٹ (ڈبلیو اے)

  1.  

ہریانہ

06

01

حصار

  1.  

ہماچل پردیش

20

04

شملہ، کلو، منڈی (ایچ)، رامپور (ایچ)

  1.  

جموں و کشمیر

04

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

جھارکھنڈ

01

01

دیوگھر

  1.  

کرناٹک

90

06

بیلگام، ہوبلی، میسور، ودیہ نگر، گلبرگہ، بیدر

  1.  

کیرالا

18

01

کنور

  1.  

لداخ (یوٹی)

کچھ نہیں

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

لکشادیپ (یو ٹی)

کچھ نہیں

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

مدھیہ پردیش

29

01

گوالیار

  1.  

مہاراشٹر

65

06

گونڈیا، جلگاؤں، کولہاپور، ناندیڑ، ناسک، سندھو درگ

  1.  

منی پور

06

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

میگھالیہ

14

01

شیلانگ

  1.  

میزورم

02

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

ناگالینڈ

08

01

دیماپور

  1.  

اڈیشا

18

01

جھارسوگوڈا

  1.  

پڈوچیری (یو ٹی)

02

01

پڈوچیری

  1.  

پنجاب

20

04

آدم پور، لدھیانہ، بھٹنڈا، پٹھان کوٹ

  1.  

راجستھان

38

03

بیکانیر، جیسلمیر، کشن گڑھ

  1.  

سکم

06

01

پاکیونگ

  1.  

تمل ناڈو

14

01

سیلم

  1.  

تلنگانہ

40

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

تری پورہ

06

کچھ نہیں

کچھ نہیں

  1.  

اترپردیش

63

06

آگرہ، کانپور، ہنڈن، بریلی، کشی نگر، پریاگ راج

  1.  

اتراکھنڈ

24

08

پنت نگر، پتھوراگڑھ، سہستر دھارا (ایچ)، چنیالی سور (ایچ)، نئی ٹہری (ایچ)، گوچر (ایچ)، سری نگر (ایچ)، ہلدوانی (ایچ)

  1.  

مغربی بنگال

24

01

درگاپور

 

**********

Recommended