زرعی ٹکنالوجی اسٹارٹ اپس ہندوستان کی مستقبل کی معیشت کے لیے اہم ہیں

https://urdu.indianarrative.com/Jitendra_Singh.webp

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ

 

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت؛ وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، ارضیاتی سائنس کی وزارت؛ وزیر اعظم کے دفتر اور عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت کے وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس ہندوستان کی مستقبل کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔

شاہی شہر میسور میں ایگری ٹیک اور فوڈ ٹیک پر ایک کانکلیو اور نمائش سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، پالیسی ماحول کو فعال بنانے کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں میں ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کی نئی لہر ہندوستان میں آئی ہے۔ مودی حکومت نے ہندوستانی زراعت کے مسائل جیسے سپلائی چین مینجمنٹ، پرانے آلات کا استعمال، نامناسب انفراسٹرکچر، اور کسانوں کی آسانی کے ساتھ وسیع پیمانے پر منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں ناکامی کو حل کرنے کے لیے مددگار پالیسی ماحول فراہم کیا ہے۔ وزیر موصوف نے اس بات اطمینان کااظہار کیا کہ نوجوان کاروباری افراد اب آئی ٹی سیکٹرز اور ایم این سی میں اپنی ملازمتیں چھوڑ کر اپنے اسٹارٹ اپ قائم کر رہے ہیں اور یہ نوجوان کاروباری افراد اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ زراعت میں سرمایہ کاری ان  بہت کم  لیکن محفوظ اور منافع بخش کاروباروں میں سے ایک ہے۔

 

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ زرعی ٹکنالوجی والے اسٹارٹ اپس  تمام زرعی ویلیو چین میں درپیش متعدد چیلنجوں کے لیے اختراعی نظریات اور کفایتی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور اس میں ہندوستانی زرعی شعبے کا نقشہ بدلنے اور بالآخر کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسٹارٹ اپ اور ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کسانوں، خام مال کالین دین کرنے وا لے ، تھوک فروشوں، خوردہ فروشوں اور صارفین کے درمیان گمشدہ کڑی بن گئے ہیں جو ان میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں اور مارکیٹنگ کے مضبوط روابط اور وقت پر معیاری پیداوار فراہم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ’’ٹیک بھارت‘‘کا تیسرا ایڈیشن ’’انڈیا کی فوڈ ٹیک، ایگری ٹیک اور زرعی زمین کی انقلابی تبدیلی‘‘ کے عنوان پر بروقت  اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے کیونکہ زراعت ہندوستانی معیشت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے  اس لئے کہ  ہندوستانی آبادی کا 54 فیصد براہ راست زراعت پر ا نحصار کرتا ہے اور اس کا جی ڈی پی کا تقریباً 19 (21) فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ، ہندوستان میں زراعت کے شعبے  میں گزشتہ چند سالوں میں بڑے پیمانے پر مسلسل ترقی دیکھی گئی ہے، لیکن اس شعبے میں نئے، تازہ اور منفرد اختراعی خیالات کی حوصلہ افزائی کے لیے  زیادہ کچھ نہیں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زرعی شعبے میں جدید اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی پرزور وکالت کی اور اس بات کی طرف  نشاندہی کی کہ اسرائیل، چین اور امریکہ جیسے ممالک نے ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے ملک میں زراعت کے طور طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ثابت کیا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے زراعت کے عمل میں ہر مرحلے پر ہائبرڈ سیڈز، پریزین فارمنگ، بڑے اعدادوشماری تجزیے، مصنوعی ذہانت، جیو ٹیگنگ اور سیٹلائٹ   کے ذریعہ نگرانی، موبائل ایپس اور فارم مینجمنٹ سوفٹ ویئر جیسی ٹیکنالوجی کی درجہ بندی کا  پیداواریت اورزرعی آزدنی میں اضافے کے لئے اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ثابت کیا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے زراعت کے عمل میں ہر مرحلے پر ہائبرڈ سیڈز، پریسیشن فارمنگ، بڑے ڈیٹا اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت، جیو ٹیگنگ اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ، موبائل ایپس اور فارم مینجمنٹ سوفٹ ویئر جیسی ٹیکنالوجیاور زرعی آمدنی کی درجہ بندی کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سال فروری میں ملک بھر میں 100 میڈ ان انڈیا زرعی ڈرون لانچ کیے، جنہوں نے بیک وقت منفرد پروازوں میں فارم آپریشن کیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی بجٹ تقریر کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ 'کسان ڈرون' کے استعمال کو فصلوں کی تشخیص، زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ اور غذائی اجزاء کے لیے فروغ دیا جائے گا۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ڈرون کا استعمال کسی بھی پودوں یا فصل کی صحت، جڑی بوٹیوں، انفیکشنز اور کیڑوں سے متاثرہ کھیت کے علاقوں کا اندازہ لگانے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے اور اس تشخیص کی بنیاد پر ان کیڑوں سے لڑنے کے لیے درکار کیمیکلز کی صحیح مقدار کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس طرح کسان کے لئے مجموعی لاگت کو   بہتر بنایا جا سکتا ہے۔.

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی زراعتی میدان اس میں شامل آبادی کے حجم کو دیکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کو اپنانے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ایگری ٹیک کچھ بھی نہیں ہے، بلکہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا اطلاق پیداوار، کارکردگی اور آمدنی کو بڑھانے کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تصور کسی بھی ایپلی کیشنز، طریقوں، مصنوعات اور خدمات تک پھیلا ہوا ہے جو زرعی عمل کے کسی بھی پہلو کو بڑھاتا ہے، چاہے وہ ان پٹ فنکشن ہو یا حاصل شدہ آؤٹ پٹ۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان میں بہت سے ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس بنیادی طور پر مارکیٹ پلیس کے حصے میں ہیں جہاں ای کامرس کمپنیاں کسانوں سے براہ راست خریدے گئے تازہ اور نامیاتی پھل اور سبزیاں فراہم کرتی ہیں، لیکن حال ہی میں کئی اسٹارٹ اپس نے کسانوں کے مسائل کے لیے اختراعی اور پائیدار حل فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، اسٹارٹ اپ اب بائیو گیس پلانٹس، شمسی توانائی سے چلنے والے کولڈ اسٹوریج، باڑ لگانے اور پانی کی پمپنگ، موسم کی پیشین گوئی، اسپرے کرنے والی مشینیں، سیڈ ڈرل اور عمودی فارمنگ جیسے حل فراہم کر رہے ہیں، جو کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے پابند ہیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، وہ کافی پر امید ہیں کہ انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ، اسمارٹ فون کی رسائی میں اضافہ، اسٹارٹ اپس کا ابھرنا اور دیہی علاقوں میں مختلف حکومتی اقدامات فارم سیکٹر میں تیز رفتار ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سہولت فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت میں زیادہ تر مسائل کے ٹیکنالوجی حل موجود ہیں لیکن چیلنج یہ ہے کہ ان حل کو صرف ایک کسان تک نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہر کسان تک پہنچانا ہے۔ وزیر  موصوف نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی معیشت کے اس انتہائی اہم شعبے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کو اپنائیں، تاکہ زراعت اور کسان برادری کو فائدہ پہنچے اور اس کے نتیجے میں ہندوستان کی معیشت بھی تیزی سے ترقی کرے۔

ڈاکٹر جی آر چنتالا، چیئرمین، نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نبارڈ) ، ڈاکٹر سری دیوی اناپورنا سنگھ ؛ ڈائرکٹر،  سی ایس آئی آر ،سنٹرل فوڈ ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی ایف ٹی آر آئی ) ، میسور، جناب مہیش شینائے ، صدر،کگھو ادیوگ بھارتی  میسور  وبھاگ( Laghu Udyog Bharati-Mysuru Vibhag)، شری راجپا ، سکریٹری، کگھو ادیوگ بھارتی  میسورو  وبھاگ( Laghu Udyog Bharati-Mysuru Vibhag )اور بہت سے سینئر عہدیدار، مندوبین سی ایس آئی آر –سی ایف ٹی آر آئی  کیمپس میسور  میں منعقدہ اس پروگرام میں شامل ہوئے۔