ہمیں فالو کریں

بہار کی شکست سے سبق لینے کو تیار نہیں ہے کانگریس

بہار اسمبلی الکشن میں سب سے بری حالت کانگریس کی رہی۔ کانگریس صرف انیس سیٹیں ہی حاصل کر سکی۔ پچھلی بار کانگریس نے ستائیس سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس مرتبہ آر جے ڈی کے ساتھ مل کر ستر سیٹوں پر الکشن لڑے اور جیت حاصل کی محض انیس سیٹوں پر۔ کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی وجہ سے ہی مہاگٹھ بندھن حکومت نہیں بنا سکی۔ آر جے ڈی کے سینئر لیڈر شیوانند تیواری نے تو سیدھے راہل گاندھی کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیا۔

Dr. S. U. Khan Updated November 19, 2020 6:17 IST
Congress leaders Kapil Sibbal and Salman Khursheed
Congress leaders Kapil Sibbal and Salman Khursheed

Congress بہار کی شکست سے سبق لینے کو تیار نہیں ہے کانگریس
بہار اسمبلی الکشن میں سب سے بری حالت کانگریس کی رہی۔ کانگریس صرف انیس سیٹیں ہی حاصل کر سکی۔ پچھلی بار کانگریس نے ستائیس سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس مرتبہ آر جے ڈی کے ساتھ مل کر ستر سیٹوں پر الکشن لڑے اور جیت حاصل کی محض انیس سیٹوں پر۔ کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی Congress وجہ سے ہی مہاگٹھ بندھن حکومت نہیں بنا سکی۔ آر جے ڈی کے سینئر لیڈر شیوانند تیواری نے تو سیدھے راہل گاندھی کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیا۔

شکست کا ذمہ دار کون؟
بہار الکشن میں امید کی جا رہی تھی کہ کانگریس کم از کم چالیس سیٹیں جیت سکے گی۔ لیکن کانگریس نے بہت خراب پرفارمنس کیا۔ بہار کانگریس کی اس شکست کے لئے انچارج شکتی سنگھ گوہل کو بھی ذمہ دار مانا جا رہا ہے۔ لہوار، دربھنگہ کے رہنے والے اُردو اسکالر ڈاکٹر شکیل احمد خان کا کہنا ہے کہ کانگریس کی اندرونی اُٹھا پٹک نے لُٹیا ڈبو دی۔ مدھوبنی اور دربھنگہ کے علاقے میں خاصہ اثر رکھنے والے ڈاکٹر شکیل احمد بھی اس الکشن میں کچھ خاموش سے تھے۔ ڈاکٹر شکیل احمد مرکز میں وزیر رہ چکے ہیں۔

نئے لیڈروں کو ذمہ داری
کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرانے چہروں کے بجائے کانگریس کو نئے چہروں کو آگے لانا چاہئے۔ مثال کے طور پر کٹیہار کے کدوا سے ڈاکٹر شکیل خان کو ٹکٹ دیا گیا تو رزلٹ بھی مثبت رہا۔ اسی طرح دربھنگہ کی کسی سیٹ سے انور جہاں خانم کو اگر کانگریس ٹکٹ دیتی تو شاید نتائج بہتر ہوتے۔ انور جہاں خانم کی علاقے میں اچھی پکڑ ہے۔ ان کی امیج ایک کام کرنے والی خاتون لیڈر کی ہے۔ لیکن کانگریس کے مٹھادھیش الکشن ہار جانا قبول کریں گے، مگر نئے چہروں کو آگے نہیں لائیں گے۔

Congress پارٹی میں مچا ہے شور
پارٹی کے لیڈر اب دبی زبان میں ہی سہی بول رہے ہیں۔ بہار کانگریس کے ممتاز رہنما شکیل الزماں انصاری نے تو محاذ ہی کھول دیا ہے۔ ادھر مرکز میں بھی سلمان خورشید اور کپل سبل ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر رہے ہیں۔ کانگریس ہائی کمان ہمیشہ کی طرح خاموش ہے۔ سونیا گاندھی کی عمر کافی ہو چکی ہے۔ وہ بیمار بھی ہیں۔ ان کے بیٹے راہل گاندھی پہلے ہی صدر کا عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔ نان گاندھی کا تصور کانگریس میں محال ہے۔ ایسے میں بہت مشکل ہے کہ کانگریس ٹھیک ڈھنگ سے اپنا محاسبہ کر سکے۔ اور اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھ سکے۔

To Top