Urdu News

بارہ بنکی:دین نام ہے اللہ ورسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا جس کا ذریعہ قرآن وحدیث ہے:مولانامحمد صابر قاسمی

مدرسہ عالیہ فرقانیہ میں جلسہ شہداء اسلام و مشاعرہ نعت ومنقبت منعقد

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)

گزشتہ شب مدرسہ عالیہ فرقانیہ میں جلسہ شہداء اسلام و مشاعرہ نعت ومنقبت منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت معروف عالم دین مولانا محمد صابر قاسمی نے کی اور نظامت کے فرائض نسیم اختر قریشی نے انجام دیے حافظ محمد سلمان کی تلاوت سے  جلسے کا آغاز ہوا۔

مہمان خصوصی کی حیثیت سے محمد شاکر حلیمی نائب صدر جمیعت علما ہند ضلع بارہ بنکی صحافی جاوید اختر نے شرکت کی۔

صدر جلسہ مولانا محمد صابر قاسمی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دس روزہ شہدائے اسلام کے جلسے ہماری اصلاح کا ذریعہ ہیں اس لیے ہمیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے دین نام ہے اللّٰہ ورسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا جس کا ذریعہ قرآن وحدیث ہے جو باتیں قرآن وحدیث سے ثابت ہیں وہی قابل عمل ہیں چاہے ماہ محرم کا موقع ہو یا کوئی دوسرا موقع ہو۔

آج کے جلسہ میں ہمارے شعراء کرام بھی نعت ومنقبت اور شہداء اسلام کے اوصاف جمیلہ بیان کریں گے۔ جب کہ مفتی محمد نجیب قاسمی نے کہا اس ماہ میں جہاں لوگ صرف ایک ہی شہید کا تذکرہ کرتے اور جانتے ہیں جبکہ اسلام کی پوری تاریخ شہیدوں کے خون سے لالہ زار ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے،کہ سارے شہیدوں کا تذکرہ کیا جائے۔

مشاعرے میں پڑھے گئے اشعار نظر قارئین ہیں۔

 یہ فیض ماہ رسالت نہیں تو پھر کیا ہے

 کھلی ہے چار سو اک چاندنی صحابہ کی

راہی صدیقی

کرتے ہیں اور کریں گے سدا مدحت حسین

 تم کو نہیں پتہ ہے ابھی عظمت حسین

احمد سعید حرف

خلد میں جیسے بھی چاہیں گے وہ پھل کھائیں گے

 پیڑ سنت کا جو ہیں گھر میں لگانے والے

 نسیم اختر قریشی

غلام مصطفی کا عاشقانہ حال تو دیکھو

 بلال حبشی کو تپتی ریت پر بھی لطف آتا ہے

مطیع اللہ حسینی

قرآن میں لکھا ہے کہ مرتے نہیں شہید

 اس سے یہ صاف ہو گیا زندہ حسین ہے

حسان ساحر

غیب سے  پرویز ملتی ہے مدد اللہ کی

 مشکلوں میں سورہ یاسین پڑھ کر دیکھیے

قاری پرویز یزدانی

کھلے عام ہجرت کروں گا حرم سے

 عمر نے کہا روک لے جس میں دم ہے

 وثیق الرحمان شفق

اصحاب محمد سے جو رکھتے ہیں عداوت

انکو کبھی جنت میں کوئی گھر نہ ملے گا

محفوظ فتح پوری

تین سو تیرہ پڑے بھاری ہزاروں پر حسیب

 لشکر کفار بھاگا مٹھی بھر کے سامنے

 حسیب یاور

کھلا دے مجھ کو بھی یا رب کبھی کھانا مدینے میں

مری تقدیر کا گر ہولکھا دانہ مدینے میں

شاداب انور

صاحب صداقت ہیں صاحب عدالت ہیں

 آج بھی محمد کی  قربتوں کے سائے میں

عتیق فتح پوری

 جالا تو اک بہانہ تھا مکڑی کا غار پر

 مقصود تھی خدا کو حفاظت رسول کی

سلمان فتح پوری

کیوں نہ سب سے افضل ہو شان حضرت صدیق

ایک اک ادا ان کی مصطفی سے ملتی ہے

عبدالہادی فیضی

دیکھیے کیا خوب ان سب کے مقدر ہو گئے

جو در سرکار کے در کے گداگر ہو گئے

 حافظ سلمان بلالی

ان کے علاوہ عثمان راعینی و محمد یوسف نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔مشاعرے میں خاص طور پر حافظ مصباح الدین صدر مدرس مدرسہ عالیہ فرقانیہ سید عاطف حسین چاند ، حاجی اجاز انصاری ، محمد جابر ، حلیم استاد ، جاوید ٹھیکیدار ، شیخ اعجاز احمد وغیرہ موجود رہے۔  مولانا  محمد صابر قاسمی کی دعا پر مشاعرے کا اختتام ہوا۔پروگرام کے آخر میں احمد سعید حرف و حسان ساحرنے کلماتِ تشکر ادا کیے۔

Recommended