سادگی پسند، خوش طبع، با اخلاق، مہمان نواز، علم دوست انسان اظہار احمد ندیم

https://urdu.indianarrative.com/Izhar-Nadeem.webp

اظہار احمد ندیم بھارت کے مشہور و معروف طباعتی ادارے عرشیہ پبلیکیشنز، دہلی کے مالک ہیں.

 اظہار احمد ندیم بھارت کے مشہور و معروف طباعتی ادارے عرشیہ پبلیکیشنز، دہلی کے مالک ہیں.ان کا مکتبہ کتابوں کی نفیس، عمدہ اور کم قیمت طباعت کے لئے مشہور ہے. وہ  اصنافِ ادب کی تمام کتابیں شائع کرتے ہیں اور اتنی دیدہ زیب و دل فریب شائع کرتے ہیں کہ کتاب کی ظاہری خوبصورتی اور نفاست دیکھ کر آنکھوں کو نور  اور دل کو سرور حاصل ہوتا ہے اور کتاب خریدنے کو دل للچانے لگتا ہے.

میری ان سے ملاقات سال بھر قبل ان کے مکتبہ پر دوڈھائی گھنٹے کے قدرے طویل انتظار کے بعد ہوئی تھی. اس روز وسیم احمد فدا اور میں ہم رکاب تھے. ہم ان کا فون ریسیو نہ ہونے کی وجہ سے ناامید ہوکر واپس ذرا دور ہی پہنچے تھے کہ ان کی بیک کال آگئی اور انھوں نے باصرا ہمیں واپس بلالیا.( تاخیر اور فون نہ اٹھانے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ان کی سات آٹھ سال کی بچی انھیں دنوں چھت پر سے گرگئی تھی.جس کی وجہ سے وہ کافی افسردہ نظر آرہے تھے اور اسی کے علاج میں مصروف تھے. انھوں نے  بتایا کہ اس وقت بچی کی طبیعت مائل بہ شفا تھی. جس سے ہمیں تسلی ہوئی. بعد میں جب فون پر ان سے گفتگو ہوئی تو ان کی بٹیا بالکل تندرست ہوچکی تھی. فللہ الحمد.) 
اس وقت ان سے مل کر انتظار کی کُلفت دور ہوگئی. وہ ہمیں ایک سادگی پسند، خوش طبع، با اخلاق، مہمان نواز، علم دوست انسان نظر آئے.
اظہار احمد ندیم خود بھی ایک ادیب ہیں. وہ تنقید بھی کرتے ہیں اور تبصرہ بھی.وہ مرتب بھی ہیں اور مترجم بھی، وہ ادب نواز بھی ہیں اور ادیب نواز بھی.انھیں کتابوں سے عشق ہے اسی لئے اتنی نفاست سے کتابیں شائع کرتے ہیں. وہ غالباً جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی وغیرہ کررہے ہیں یا کرچکے ہیں. 
ان کو شکایت ہے کہ کاروباری مصروفیات انھیں تخلیقی کام کرنے نہیں دیتی اور ان کی یہ شکایت بالکل بجا ہے. تخلیقی کام ذہنی یکسوئی چاہتا ہے.
دوروز قبل جب میرے دیرینہ اور "کتاب باز" دوست وسیم احمد فدا دہلی کے سفر پر تھے تو اظہار ندیم صاحب نے ان کے ہاتھ اپنی مرتب کردہ کتاب "حمید اختر کے شاہکار خاکے" میرے لئے بھجوائی. میں دونوں کا ممنون ہوں کہ انھوں نے میری عدم موجودگی میں بھی مجھ خاکسار کو اس گرانقدر تحفے کے لئے یاد رکھا.کتاب دیکھ کر مجھے اس لئے بھی زیادہ خوشی ہوئی کہ خاکہ میری پسندیدہ اصناف میں شامل ہے.
اس کتاب میں حمید اختر کے گیارہ خاکے شامل ہیں. دس خاکے اردو ادب کی ترقی پسند شخصیات پر اور ایک خاکہ حمید اختر کا خود پر. 
شروع میں عرض مرتب کے عنوان سے اظہار احمد ندیم نے کتاب کا پیش لفظ سات صفحات میں قلمبند کیا ہے. جس میں انھوں نے ادب کی افادیت، اجتماعی کام کے فوائد، ترقی پسند تحریک اور حمید اختر کی زندگی، ترقی پسند تحریک سے ان کا تعلق نیز ان کے فکروفن پر شائستہ اسلوب میں روشنی ڈالی ہے. یہ کتاب انھوں نے اپنے دوست شاداب رشید (کتاب دار، ممبئی) کے نام مُعَنوَن کی ہے. 
یہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے، پہلا ایڈیشن کب چھپا تھا، کتاب میں درج نہیں جو درج ہونا چاہئے تھا. کتاب میں اکا دکا املا کی غلطیاں بھی ہیں جو اردو کتابوں کا لازمہ ہے. 
دوسو چونتیس صفحات کی اس نفیس اور عمدہ کتاب کی قیمت ڈھائی سو روپے ہے جو میرے خیال سے بہت مناسب ہے. اس کے علاوہ وہ قارئین کو رعایت بھی دیتے ہیں. جو ایک خوش آئند بات ہے.
خدا انھیں سلامت رکھے اور فرصت کے لمحات میسر فرمائے تاکہ وہ اپنی تخلیقی قوتوں اور انتظامی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے علم و ادب کے میدان میں ادب پاروں کا خوشگوار
   اضافہ کرتے رہیں.
 
( تحریر قاسم بن ظہیر )