Urdu News

ڈیجیٹل دور اور مطالعہ: ٹکنالوجی اور کتب بینی کے تناظرمیں

تسنیم فردوس

تسنیم فردوس

جامعہ نگر،نئی دہلی

حقیقت یہ ہےکہ آج کا زمانہ ڈیجیٹیلائیز ہے۔جہاں ہر چیز کی رسائی آپ کی انگلیوں پر ہے ۔ ڈیجیٹل ٹیک اس میں ایک نیا اضافہ ہے۔ جس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ، کمپیوٹرکی مدد سے آپ جو چاہے دیکھ سکتے ہیں، معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

عہدِ حاضر کو"جدید دور " کہا جاتا ہے۔ اس دور جدید میں سائنس وٹیکنالوجی ترقی کی راہ میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ٹیکنالوجی لفظ انگریزی میں یونانی زبان سے آیا ہے۔جس کے معنی "کسی فن یا تکنیک کا منظم مطالعہ ہے"۔اس سے نہ صرف فرد کی ترقی ہوئی ہے بلکہ ملک کی ترقی میں بھی مدد ملتی ہے۔ اکثر یہ اندازا لگایا جاتا ہے کہ اگر ملک کی ترقی سست ہے تو اس میں ٹیکنالوجی سست ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے انسانی زندگی بھی کافی آسان ہو چکی ہے۔اس کی مدد سے انسان سائنس کی نئی دریافتیں کر رہا ہے، سمندر کی گہرائیوں سے آسمان کی بلندی پر پہنچ چکا ہے۔ تعلیم، تفریح، کاروبار، سیاحت، ذراعت، طب وغیرہ تمام شعبوں میں ترقی کرچکا ہے۔

اکیسویں صدی میں جدید ٹیکنالوجی زندگی کے ہر شعبہ میں داخل ہو گئی ہے اور ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے کام کو بہتر بنانے میں لازمی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس نئے زاویہ سے دنیا کے ایک کنارے پر بیٹھا شخص دنیا کے دوسرے کنارے پر رہنے والے شخص سے ہم کلام ہونے لگا ہے۔ ٹیکنالوجی نے بہت ساری گاڑیاں تیار کی ہیں جس کی وجہ سے انسان کے لیے کم وقت میں کسی بھی کونے میں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے صارفین کو سامان خریدنا، بیچنا اور پہنچانا بہت آسان ہو گیا ہے۔

ڈیجیٹل دور نے جہاں ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے وہیں تعلیم اور مطالعہ پر بھی اپنے تاثرات دکھائے ہیں۔ "شارٹ کٹ "  موجودہ نسل کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ہر چیز میں اس کو شامل کرنا فیشن بن چکا ہے۔اسکول،یونیورسٹی،ہو یا ہسپتال یا کوئی اور جگہ شارٹ کٹ کو ہی اہمیت دی جانے لگی ہے۔ اس لعنت نے ہماری نئی نسل کو برباد کر دیا ہے۔اور وہ کاہلی ،سستی کی عادی ہو چکی ہے۔لیکن پیشہ ورانہ مصروفیات اور زندگی کی تیز رفتاری کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکنالوجی کے طفیل اب آپ ڈرائیونگ کرتے ہوئے، کھانا پکانے کے دوران، یہاں تک کہ کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے ، ورزش کرتے ہوئے،بس میں سفر کرتے ہوئے،یا ان لوگوں کے لیے جن کے پاس مطالعہ کا وقت نہیں ہوتا کتابیں پڑھنے کے بجائے سن سکتے ہیں۔

 لیکن میرا یہ ماننا ہےکہ کتابوں کا مطالعہ شخصیت سازی کا ایک کارگر ذریعہ ہی نہیں بلکہ زندہ قوموں کے عروج وکمال میں ان کی ہم سفر ہوتی ہیں۔کتابیں شعور کو جلا بخشنے کے ساتھ ساتھ طلبا کو فضول مشغلوں سے بچاتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں کتب بینی کے رجحان میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ کیونکہ کتب بینی کی جگہ انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔ آج کل  طلبہ کتب خانوں میں جاکر کتابیں، رسائل و ناول پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگوں کو گھر بیٹھے قدیم اور جدید کتابیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ مگر آج کا طالبِ علم صرف کورس کی کتابوں کے علم تک ہی محدود ہے۔ وجہ ہےکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے خود کو انٹرٹین کرنے، میوزک سننے اور گیمز کھیلنے میں سارا وقت نکالنے کے بعد مطالعہ کا کس کا دل چاہیےگا۔انسان کی کامیابی میں مطالعہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب والدین اپنے بچوں کے لیے رول ماڈل ثابت ہوں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود بھی مطالعہ کریں اور بچوں کو بھی مطالعہ کرنے  پر زور ڈالیں۔

والدین کو یہ بھی چاہیے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کی ایک حد مقرر کر دیں۔ بلکہ اس دوران نظر رکھیں کہ بچہ کن لوگوں سے دوستی کر رہا ہے، کیا دیکھ رہا ہے، کس پلیٹ فارم کو استعمال کر رہا ہے اور کونسی ایپس اس کے زیادہ استعمال میں ہیں۔ ان سب کے بارے میں والدین کی آگاہی بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بچوں کا ذہن تشکیل پاتا ہے۔

ڈیجیٹل ٹیک کے مذکورہ بالا نقصانات سے بچ کر اس کا صحت مند استعمال پورے ہوش و حواس میں اس کے فائدے ونقصانات کو سامنے رکھکر قناعت کے ساتھ کیا جائے تو کوئی بھی چیز نقصاندہ نہیں ہوتی۔یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کون سی چیز کس طرح استعمال میں لاتا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کا دانشمندانہ استعمال آپ کے خاندانی اقدار اور بچوں کی پرورش کے انداز پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔اس کے برعکس اگر ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال بنا سوچے سمجھے کریں گے تو یہ عمل خاندانی اقدار اور سرگرمیوں مثلاً خاندانی ملاقاتوں،فیملی ٹاٹم،آوٹ ڈور ایکٹیوٹیز ورزش اور نیند پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی بہت ساری ویب سائٹس موجود ہیں جو آپ کو کام کے بدلے میں معاوضہ دیتی ہیں۔ آن لائن جرنلزم یا نیو میڈیا کے ناموں سے معروف ڈیجیٹل جرنلزم یا ڈیجیٹل صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ادارتی مواد انٹرنیٹ کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ تحریر،سمعی اور بصری مواد کے ذریعے پیش کی جانے والی خبریں،فیچرز ،ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجی کے ذریعے وزیٹرز تک جلد اور زیادہ سہولت  سے پہنچائے جاتے ہیں۔

 ٹیکنالوجی کی وجہ سے تعلیم کی سطح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔خاص کر جب  کورونا وائرس جیسی وباء سے پوری دنیا متاثر ہوئی اور دنیا کی رفتار تھم سی گئی۔جب سارے کام بند ہو چکے لوگوں کا گھر سے نکلنا مشکل ہو گیا اس وقت تعلیم کو جاری رکھنا مشکل کام تھا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے درسی وتدریسی  کام بخوبی انجام دۓجارہے ہیں۔ اس سے طلبہ اپنی پڑھائی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج شہر سے دور گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے طلبہ جن کے لئے نہ کتابیں دستیاب  تھیں اورنہ  لائبریری کی سہولیات میسر تھی وہ طلبہ بھی کمپیوٹراور اطلاعاتی ترسیلی تکنیک کے ذریعے اپنے گھر بیٹھے ہی تعلیم کا حصہ بن کر اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہیں۔ موجودہ وقت میں بہت سے طلبہ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسی ایپلیکیشن پر گروپ بنا کر مختلف امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسطرح سے ٹیکنالوجی کی اس انقلابی دنیا کو سائبر اسپیس کا نام دیا گیا ہے۔ادب  جب برقی لہروں کے ساتھ ساتھ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر طے کر رہا ہے ۔ ایسے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید ترین رجحانات کو اپنانے کی کوشش کریں اور جدید ٹیکنالوجی کو  اپنے وسیع دامن میں جگہ دیں کیونکہ اب مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے اندر اس سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت ہے یا نہیں  بلکہ یہی وقت اور  معاشرے کی ضرورت ہے۔اور ہمیں اس کے فائدے اور نقصانات کے ساتھ اس کو اپنانا ہی ہوگا۔

Recommended