تیسری جنس کے لوگوں کیلئے رہائش کی گنجائشیں

https://urdu.indianarrative.com/Transgender_Persons1.jpg

Housing Provisions to Transgender Persons

 

 

نئی دہلی 27 جولائی 2021:سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت تیسری جنس کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک اسکیم تشکیل دے رہی ہے جس میں تیسری جنس کے انتہائی بدحال اور حاجتمند  لوگوں کے لئے پناہ گاہیں قائم کرنے کےاقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے 12 پائلٹ شیلٹر ہومز کا آغاز کیا ہے اور تیسری جنس کے لوگوں کے لئے ان پناہ گاہوں 'گریما گریہ' کے قیام کے لئے کمیونٹی پر مبنی تنظیموں (سی بی او) کو مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔ یہ پائلٹ پناہ گاہیں مہاراشٹر، دہلی، مغربیبنگال، راجستھان، بہار، چھتیس گڑھ، تمل ناڈو اور اڈیشہ میں ہیں۔ ان پناہ گاہوں کا بنیادی مقصد تیسری جنس کے ضرورت مند لوگوں کو محفوظ اور مامون پناہ گاہ فراہم کرنا ہے۔ ان پناہ گاہوں میں بنیادی سہولیات جیسے کھانے پینے کی چیزیں، طبی دیکھ بھال، تفریحی سہولیات مہیا کی جائیں گی اور تیسری جنس کے لوگوں کے لئے صلاحیت سازی/ ہنر مندی سے متعلق پروگراموں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

یہ وزارت کسی بھی پنشن اسکیم کو عمل میں نہیں لا رہی ہے۔ تاہم، وزارت دیہی ترقی کی وزارت  قومی معاشرتی امدادی  پروگرام (این ایس اے پی) کو نفاذ عمل میں لاتی ہے جس میں تیسری جنس کے 3,384  لوگوں کو ماہانہ پنشن فراہم کی جارہی ہے۔ یہ اطلاع وزیر مملکت برائے سماجی انصاف اور تفویض اختیارات جناب اے نارائن سوامی نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔