بھارت کے محکمہ موسمیات کی دلی میں مانسون کی وضاحت

https://urdu.indianarrative.com/Mausam_Bhawan_board.jpg

بھارت کے محکمہ موسمیات

 

 
 

نئی دہلی13 جولائی2021: بھارت کے محکمہ موسمیات  نے آج  یہاں جنوب مغربی مانسون کے آگے بڑھنے کے بارے میں آج وضاحت جاری کی ہے ، جو حسب ذیل ہے:

جنوب مغربی مانسون  13  جون تک لگاتار آگے بڑھتا رہا ۔ کیرل میں مانسون کی  پیش قدمی تین جو ن کو  ہوئی اس کے بعد خلیج  بنگال  پر ایک کم دباؤ  کا نظام  بنا اور  آسمان میں  ایک سازگار ماحول بارش کے لئے بنا جس سے موسمی  حالات کی وجہ سے مانسون لگاتار تیزی سے آگے بڑھتا چلا گیا۔

 مانسون نے 13  جون تک شمال مشرقی بھارت کوچھوڑ کر  ملک کے بیشتر حصوں کا احاطہ کرلیا۔اس دوران موسم  سے جڑی سرگرمیاں  ماڈل ٹروپو  اسفیئر  کی نچلی سطح پر مشرقی ہواؤں کا آنے کا عندیہ  دے رہے تھے ،جس کی بنیاد پر امکان یہ بنا تھا کہ جنوب مغربی مانسو ن  13  جون کے بعد اگلے 48  گھنٹوں میں مدھیہ پردیش کے بیشتر حصوں میں ، اترپردیش کے باقی علاقوں میں ، دلی ،  ہریانہ اور پنجاب میں  بھی دستک دے گا۔اس امکان کو دھیان میں رکھتے ہوئے 13 جون کو ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں دلی میں  15  جون تک مانسون کے آنے کا امکان لگایا گیاتھا۔

 14 جون کو سیٹلائٹ سے حاصل بادلوں کی تصویروں اور موسم کے تجزیوں سے متعلق سرگرمیاں  ، ماڈلوں  سے حاصل عندیوں سے پتہ چلا کہ وسطی  طول البلد  میں  مغربی ہواؤں سے گرد بنی ہوئی ہے ، جس سے  شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں میں مشرقی سمت سے آنے والی ہوائیں کمزور پڑ جائیں گی۔ وسطی طول البلد  پر مغربی ہواؤں کے امکانی  حالات  سے یہ واضح ہوگیا کہ یہ ہوائیں  مانسون کے راستے میں  منفی اثر ڈالیں  گی اس  لئے دلی  سمیت شمال مغربی بھارت میں مانسون کے آگے بڑھنے کا امکان نہیں ہے۔ موسمی  حالات میں  اس تبدیلی کو دھیان میں رکھتے ہوئے محکمہ موسمیات نے 14 جون   کو ایک ترمیم شدہ پریس ریلیز جاری کی جس میں یہ واضح کیا گیا کہ دلی سمیت  بھارت کے میدانی علاقوںمیں  جنوب مغربی  مانسون  کے آگے بڑھنے تاخیر ہوگی اور یہ تاخیر سے پہنچے گا۔شمالی ہندوستان  کے میدانی علاقوںمیں   موسم سے متعلق ماڈل کرنے میں  ناکامی رہی ۔ 

16 جون کو بھی  محکمہ موسمیات نے ایک اور پریس ریلیز فوری طو پر جاری کی جس میں یہ کہا گیا کہ دلی میں مانسون کے آگے برھنے میں تاخیر ہوگی اور شمال مغربی بھارت کے کچھ حصوں میں یہ دھیمی رفتار سے آگے بڑھے گا ۔اس  کے مطابق  19  جون کو شمالی  مغربی ہندوستان کے کچھ اور حصوں میں مانسون کی  پیش رفت دیکھی گئی

20 جون کے بعدسے لمبے عرصے تک مانسون آگے نہیں  بڑھا   ۔ایسا بریک مانسون  - کمزور مانسون کنڈیشن کے پیش نظر ہوا ۔اس سلسلے میں  باقاعدہ بنیاد پر 22-24-26 اور 30  جون کے علاوہ    یکم جولائی کو محکمے نے پریس ریلیز جاری کی اور وقتاََ فوقتا ََ میڈیا کو بھی جانکاری دی کہ دلی  سمیت شمال مغربی ہندوستان کے  باقی حصوںمیں  مانسون کے آگے بڑھنے میں تاخیر ہوگی اور ملک کے باقی حصوںمیں مانسون میں بریک کی کنڈیشن بنی رہے گی۔

5 جولائی کو مانسون کی   حالت کے بارے میں تازہ پریس ریلیز جاری کی گئی ،جس میں بتایا گیا کہ مانسون مغربی اترپردیش کے باقی حصوںمیں  پیش قدمی کرے گا اور  10 جولائی کو پنجاب ، ہریانہ  ، راجستھان  اور دلی کے کچھ حصوں کا احاطہ کرے گا۔

اسی اندازے کے مطابق  شمال مشرقی بھارت میں مشرقی مرطوب  ہوائیں چلنے لگیں۔8 جولائی کے بعد نچلی سطح پر  مشرقی ہوائیں نشیبی علاقوں میں   اپنا اثر بنانے لگی ہیں اور 9  جولائی کے بعد  مشرقی ہواؤں کی آمد  شمال مغربی بھارت کے میدانی علاقوں کی  طرف بھی بڑھ گیاہے۔ ان ہواؤں کے سبب  بادل  بھی آنے لگے  اور نسبتاََ  نمی میں  اضافہ درج کیا گیا۔ اس کی وجہ سے مانسون کے دوبارہ موثر ہونے میں مد د ملی  اور مشرقی راجستھان  ، ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ ، جموں وکشمیر میں  بیشتر مقامات پر جبکہ پنجاب اور مغڑبی راجستھان میں  کچھ مقامات پر  مانسون کی بارش شروع ہوگئی ہے۔حالانکہ  ان تبدیلیو ں  کے درمیان بھی دلی میں  بارش  نہیں ہوئی  جبکہ دلی کے اطراف  میں  متعدد مقامات  پر    مانسون  دستک دینے والا ہے۔دلی میں  مانسون کے آگے بڑھنے کی پیشین گوئی جاری کرنے کے لئے عددی  ماڈلز  کی ناکامی   غیر معمولی  ہے ۔ یہاں یہ ذکر  کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آئی ایم ڈی نے گزشتہ برسوں میں  دلی میں مانسون کی آمدکی  پیش گوئی  درستگی سے جاری کی اور2021 میں  بھی مانسون کے ملک کے دیگر حصوںمیں   آگے بڑھنے سے متعلق پیش گوئی  چار پانچ دن قبل ہی جاری کردی ، جو درست رہی ۔فی الحال آئی ایم ڈی  موسم کی صورتحال   کی مسلسل نگرانی کررہا ہے اور دلی سمیت  شمال مغربی بھارت کے بقیہ حصوں میں  مانسون  کے آگے  بڑھنے کی پیش گوئی جاری کرے گا۔