حسن پور خوشبودار، لذیذ، بہترین آموں کے لئے بھی مشہور ہے

https://urdu.indianarrative.com/Dr_Rashid_Ali_mango_Orchard.jpg

ڈاکٹر راشد علی اپنے باغ میں

 حسن پور ایک تاریخی قصبہ ہے۔ اترپردیش ( انڈیا) کے چند تاریخی شہروں کے نام آپ جانتے ہیں۔ ان تاریخی شہروں میں امروہہ بھی ہے۔ وہی مصحفی، کمال امروہوی، جون ایلیا اور ناصر عزیز کا امروہہ۔ دہلی سے امروہہ کے لئے بذریعہ سڑک جایں تو ایک مقام ہے گجرولہ ۔ گجرولہ سے دایں جانب مڑ کر دس کیلومیٹر کی دوری پر قصبہ حسن پور واقع ہے۔ اردو میں ایک کتاب بھی ہے "" تاریخ حسن پور""

حسن پور خوشبودار، لذیذ، بہترین آموں کے لئے بھی مشہور ہے۔ ان آموں میں رٹول اور "" نادر منوٹا"" آم سب سے خاص ہیں۔ نادر منوٹا آم کی اپنی ایک کہانی ہے۔ اس کی خوشبو اور اس ذایقہ لاجواب ہے۔ گجرولہ اور حسن پور کے درمیان ایک گاؤں ہے "" منوٹا "' اسی منوٹا گاؤں کے ایک نادیار نام کے کسان کو ایک آم کا درخت ایسا ملا جس کی خوشبو سب آموں سے جدا تھی۔ وہ آم لے کر نواب صاحب کے پاس پہنچا۔ نواب صاحب کو وہ آم بہت پسند آئے۔ انھوں نے نادیار کسان کو انعام و اکرام سے نوازا اور اسی کے نام پر اس خاص آم کا نام "" نادیار منوٹا"" رکھ دیا۔ یہی نادیار منوٹا رفتہ رفتہ نادر منوٹا ہو گیا۔ حسن پور کے مشہور معالج اور سیکڑوں ایکڑ کے باغات کے مالک ڈاکٹر راشد علی صاحب اور امروہہ سے تعلق رکھنے والے ، دہلی میں مقیم مشہور و معروف شاعر ناصر عزیز ایڈوکیٹ نے نادر منوٹا آم کی کہانی راقم الحروف کو سنائی ہے۔
تصویر میں یہ جو نادر منوٹا آم آپ دیکھ رہے ہیں اس کے خاص ہونے کی ایک اور وجہ ہے۔ اس کا رشتہ فلم اسٹار دلیپ کمار اور ان کی بیگم سایرہ بانو सायरा बानो سے ہے۔ سایرہ بانو کی ماں نسیم بانو نے حسن پور میں آموں کا ایک باغ خریدا تھا۔ جسے بعد میں ڈاکٹر راشد علی کے والد ڈاکٹر شوکت علی نے خرید لیا تھا۔
یہ نادر منوٹا آم اسی باغ کے ہیں جو کبھی نسیم بانو کا تھا اور اب ڈاکٹر راشد علی کی ملکیت ہے۔