Urdu News

اونکار لال بجاج: برطانوی حکومت کی مخالفت میں بلیٹن لکھ کر گاؤں میں پہنچایا

اونکارلال بجاج

آزادی کے بعد مجاہدین آزادی نے سرپنچ بن کر کی خدمت

کھرگون، 10 اگست (انڈیا نیرٹیو)

ہم ملک کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے تناظر میں آزادی کا امرت مہوتسو منا رہے ہیں۔ اس امرت مہوتسو کے تحت 11 سے 17 اگست تک ہر گھر ترنگا مہم میں آزادی کی علامت قومی پرچم کو گھروں پر لہرانے کا تہوار آگیا ہے۔ آج ملک کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر ہم نماڑ کے ایسے ہی ایک مجاہد آزادی کو یاد کر رہے ہیں، جنہوں نے انگریز راج کے خلاف گاؤں میں بلیٹن بھیجے اور آزادی کے بعد سرپنچ بن کر گاؤں کی خدمت کی۔

اونکارلال بجاج 13 نومبر 1914 کو پیدا ہوئے۔ وہ اپنے چچا کی تحریک سے 34-1933 میں سابرمتی آشرم گئے اور مہاتما گاندھی کی رہنمائی حاصل کی۔ جب 1942 میں ملک میں ہندوستان چھوڑو تحریک شروع ہوئی تو اونکار لال بجاج نے کھرگون میں برطانوی مخالف تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

انہوں نے ایک اینٹی برٹش بلیٹن بھی لکھ کر سائیکل اسٹائل کیا اور اسے ضلع کے دور دراز دیہاتوں تک پہنچانے کا بھی کام کیا۔ یہ کام انہوں نے بڑی لگن سے کیا۔ اس وجہ سے انہیں 15 ستمبر 1942 کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں گرفتار کر کے اہیرکھیڑا تھانے میں رکھا گیا۔ یہاں انہیں تھانے کی ایسی کھولی (روم) میں رکھا گیا، جہاں مشکل سے دو آدمی رہ سکتے تھے۔ وہاں پانچ مجاہدین آزادی کو رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد 28 اکتوبر 1942 کو انہیں منڈلیشور جیل بھیج دیا گیا۔

یکم اپریل 1943 کو اونکار لال بجاج جیل سے رہا ہو کر کھرگون آئے۔ عوامی خدمت کے کام کی وجہ سے گھر والوں کی مالی حالت بہت ہی باعث تشویش ہوگئی تھی۔ چنانچہ وہ کھرگون چھوڑ کر کاروبار کے سلسلے میں لونارا چلے گئے۔ آہستہ آہستہ مالی حالات بہتر ہوتے گئے۔ انہوں نے دوبارہ سماجی کام شروع کر دیا۔ اس کے بعد آزادی کے بعد آپ لونارا میں سرپنچ منتخب ہوئے۔ انہوں نے دیہی ترقی کے لیے بہت سے سماجی اور سیاسی کام کیے ہیں۔

Recommended